شاعری

بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے

بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے نہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہے نہ شمع روتی ہے آ کر نہ برق ہنستی ہے میں جب سے قبر میں ہوں بیکسی برستی ہے سنے تو کون سنے میکدے میں واعظ کی یہاں وہی ہیں جنہیں شغل مے پرستی ہے میں سخت جاں نہیں خنجر بھی تیز ہے لیکن نگاہ یاس ہے قاتل کی تیز دستی ہے بھرے ...

مزید پڑھیے

تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا

تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا محبت کیا ہے مرنے کے لئے تیار ہو جانا نہ کام آیا ان آہوں کا فلک کے پار ہو جانا مرے سونے سے مشکل تھا ترا بیدار ہو جانا نظر ملتے ہی ان سے آ گیا سارا اثر دل میں اسے آتا نہ تھا پہلے کبھی بیمار ہو جانا وفا کا راہبر ہے تودۂ خاکی کی جان اس کو کماں کش دل ...

مزید پڑھیے

دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا

دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا اب آپ ہی بتائیں اچھا تھا یا برا تھا صحرا تھا یا چمن تھا جانے وہی کہ کیا تھا اس دل کی انتہا ہے جو مدتوں جلا تھا تڑپوں تو راز کھولوں سنبھلوں تو عشق نا خوش جس حال کو میں سمجھا اچھا وہی برا تھا پوچھا نہ زندگی میں یوں تو کسی نے آ کر مرنے کے بعد جو ...

مزید پڑھیے

یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری

یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری حباب ہو گئی آخر کو آبرو میری نہ اپنی خود غرضی ہے نہ ہی شکایت دوست ہے عشق و حسن کے مابین گفتگو میری کوئی نکلنے نہ دے گا زمین ہو کہ فلک زمانے بھر کے مقابل ہے آرزو میری قنا کے بعد میں دیتا نہیں کسی کو جواب صفت تھی آپ کی جو اب ہوئی وہ خوں میری زباں ...

مزید پڑھیے

چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں

چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں خوشی صیاد کو ہوتی ہے جب فریاد کرتے ہیں نہ شرماؤ اگر ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں محبت ہے تمہاری عادتوں کو یاد کرتے ہیں ہماری داستان غم رلاتی ہے زمانے کو وہ ہم ہیں جو زبان غیر سے فریاد کرتے ہیں خدا آباد رکھے ہم صفیران گلستاں کو جو کوئی پھول ...

مزید پڑھیے

میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا

میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا غم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیا حسن جاں سوز نے وحدت میں مجھے یاد کیا میں یہ سمجھا کہ مجھے عشق نے برباد کیا نہیں معلوم وہ میں ہوں کہ کوئی اور اسیر سن رہا ہوں کہ گرفتار کو آزاد کیا جس جگہ کھائی تھی ٹھوکر وہیں تربت تھی مری بھولنے والے نے ...

مزید پڑھیے

اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا

اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا جب زمیں کی داغ ابھر آئے گلستاں ہو گیا اپنی حد سے بڑھ کے جاتا کس طرف کو دل مرا جان پڑتے ہی یہ مشت خاک بے جاں ہو گیا عشق کے بعد اب حوادث کی ضرورت کیا رہی آسماں دم لے مرے مرنے کا ساماں ہو گیا حشر میں پہچان کر قاتل کا منہ تکنے لگا جب ضرورت ہوش کی ...

مزید پڑھیے

آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی

آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی اک درد کی تصویر ادھر بھی ہے ادھر بھی کیا تم سے شکایت مجھے قسمت سے گلہ ہے پھرتا ہے مقدر تو پلٹتی ہے نظر بھی اس کو بھی نکال اے دل پر داغ کے گلچیں کانٹا ہے مرے پہلوئے خالی میں جگر بھی بس نالۂ دل بس مجھے امید نہیں ہے منہ دیکھنے والوں میں ہے ظالم کے ...

مزید پڑھیے

جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دل

جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دل ختم ہوتا نہیں اب تک مگر افسانۂ دل حشر کے دن پہ اٹھا رکھ کہ بڑا سودا ہے عالم حسن سے ممکن نہیں بیعانۂ دل آپ کی اک نگہ ناز اسے چھلکا دیتی قابل شربت دیدار تھا پیمانۂ دل ہم جبھی سمجھے تھے انجام کہ جب فطرت نے خاک اور خون سے تیار کیا خانۂ دل جلنے والے ...

مزید پڑھیے

خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پر

خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پر فصل گل دھبے ہیں لاکھوں دامن گلزار پر اب رہا دل تا قیامت ابروے خم دار پر کیا ہٹے گا وہ جو گردن رکھ چکا تلوار پر فصل گل رخصت ہوئی رو لیجئے گلزار پر بس یہی دو تین پنکھڑیاں ہیں یا دو چار پر وصل فرقت کی شبیں دونوں میں نیند آتی نہیں ہنس رہا ہوں رو رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 941 سے 4657