بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے
بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے نہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہے نہ شمع روتی ہے آ کر نہ برق ہنستی ہے میں جب سے قبر میں ہوں بیکسی برستی ہے سنے تو کون سنے میکدے میں واعظ کی یہاں وہی ہیں جنہیں شغل مے پرستی ہے میں سخت جاں نہیں خنجر بھی تیز ہے لیکن نگاہ یاس ہے قاتل کی تیز دستی ہے بھرے ...