شاعری

عشق میں کچھ اس سبب سے بھی ہے آسانی مجھے

عشق میں کچھ اس سبب سے بھی ہے آسانی مجھے قلب صحرائی ملا ہے آنکھ بارانی مجھے میرے اور میرے چچا کے دور میں یہ فرق ہے ان کو تو بیوی ملی تھی اور استانی مجھے ایک ہی مصرعے میں دس دس بار دل بریاں ہوا وہ غزل میں باندھ کر دیتے ہیں بریانی مجھے کوکا کولا کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات ریل کے ...

مزید پڑھیے

ایسے لگے ہے نوکری مال حرام کے بغیر

ایسے لگے ہے نوکری مال حرام کے بغیر جیسے ہو داغؔ کی غزل بادہ و جام کے بغیر ہو نہ سماج بیچ میں عشق ہو یوں اسپیڈ میں لاری چلے بریک بن گھوڑا لگام کے بغیر پیار کی ساری گفتگو اب وہ کرے ہے فون پر اور پھرے ہے نامہ بر نام و پیام کے بغیر بیوی کی ایک چپ سے ہے گھر کی فضا بجھی بجھی جیسے کوئی ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ ربط خاص سے آگے نکل گئے

کچھ لوگ ربط خاص سے آگے نکل گئے ماتحت اپنے باس سے آگے نکل گئے وہ تیس سال سے ہے وہی بیس سال کی ہم خیر سے پچاس سے آگے نکل گئے کچھ مہ جبیں لباس کے فیشن کی دوڑ میں پابندیٔ لباس سے آگے نکل گئے ڈاکہ پڑا تو لٹ کے ہوا ہے یہ فائدہ ہم خوف اور ہراس سے آگے نکل گئے اپنے ہی ٹیچروں کی جو رکھ لیں ...

مزید پڑھیے

ماڈرن ہیریں تو زر داروں کے ہاں رہ جائیں گی

ماڈرن ہیریں تو زر داروں کے ہاں رہ جائیں گی اور رانجھوں کے لبوں پر مرلیاں رہ جائیں گی ہو سکے تو تم بچا لو اب بھی دیسی نسل کو ورنہ پیچھے صرف ''شیور'' مرغیاں رہ جائیں گی ''سن فلاور'' ہو گیا ہے ابن آدم کی غذا اب چمن زاروں میں گویا سبزیاں رہ جائیں گی چھوٹی قوموں پر اگر ''ویٹو'' کا لٹھ ...

مزید پڑھیے

قابض رہا ہے دل پہ جو سلطان کی طرح

قابض رہا ہے دل پہ جو سلطان کی طرح آخر نکل گیا شہ ایران کی طرح ظاہر میں سرد و زرد ہے کاغان کی طرح لیکن مزاج اس کا ہے ملتان کی طرح راز و نیاز میں بھی اکڑ فوں نہیں گئی وہ خط بھی لکھ رہا ہے تو چالان کی طرح لقمہ حلال کا جو ملا اہل کار کو اس نے چبا کے تھوک دیا پان کی طرح ذکر اس پری جمال ...

مزید پڑھیے

تب کے کیا حاصل وفا ہوگا

تب کے کیا حاصل وفا ہوگا عشق جب طالب سزا ہوگا میں ہی شاید نہ سن سکا یا رب اس نے کچھ تو مجھے کہا ہوگا خود پرستی ہو جس کی فطرت میں وہ تو بے شرم بے حیا ہوگا پھر محبت نہ کرنا چاہو گے میرا فسانہ گر سنا ہوگا غم مرے ساتھ تھا ہمیشہ سے اب کے وہ بھی ذرا خفا ہوگا خواہشیں اور بڑھتی جائیں ...

مزید پڑھیے

چشم تر ہے کوئی سراب نہیں

چشم تر ہے کوئی سراب نہیں درد دل اب کوئی عذاب نہیں کیسے اس بات پر یقیں کر لوں تو حقیقت ہے کوئی خواب نہیں موسم گل کا ذکر رہنے دے یہ مری بات کا جواب نہیں تو اگر غم سے اجنبی ہے تو حال اپنا بھی اب خراب نہیں مان لیتا ہوں میں نہیں مجنوں تیرا رخ بھی تو ماہتاب نہیں کیا کروں حسن کا تصور ...

مزید پڑھیے

خاموش دھڑکنوں کی صدا کی کسے خبر

خاموش دھڑکنوں کی صدا کی کسے خبر وعدے بہت کیے تھے وفا کی کسے خبر خواہش گناہ ہے تو گنہ گار میں بھی ہوں ہیں جرم بے حساب سزا کی کسے خبر کہتے ہیں آدمی میں خدائی کا عکس ہے بندے ہیں بے نیاز خدا کی کسے خبر سارا جہاں مریض، مرض بھی ہے لا علاج پہچانے کون درد دوا کی کسے خبر شاید ثواب تم کو ...

مزید پڑھیے

وہ میرے حال دل سے اس قدر بھی بے خبر ہوگا

وہ میرے حال دل سے اس قدر بھی بے خبر ہوگا خبر کیا تھی کہ یوں بے حس وہ میرا ہم سفر ہوگا کہ ہم تو عمر بھر لڑنے کی خواہش لے کے آئے تھے خبر کیا تھی کہ وقت فیصلہ یوں مختصر ہوگا چراغ غم جلایا تھا اجالوں کی امیدوں میں خبر کیا تھی مری کوشش کا الٹا ہی اثر ہوگا دبے شعلوں کو بھڑکایا کہ ان کا ...

مزید پڑھیے

زمیں کچھ فلک کو بتانے لگی ہے

زمیں کچھ فلک کو بتانے لگی ہے دھنک رنگ کے گیت گانے لگی ہے ہے پھیلا یہ ہر سمت کیسا اجالا دبے پاؤں شب جیسے جانے لگی ہے یہ بارش کی بوندیں فضاؤں میں اڑ کر ستاروں کی لو کو بجھانے لگی ہے وہ ساحل پہ جو اپنے نقش قدم تھے انہیں غم کی لہریں مٹانے لگی ہے یہ پتوں کی باتیں درختوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 916 سے 4657