دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا میں
دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا میں سب کچھ کہا اور رات سے کچھ بھی نہ کہا میں کچھ اور بھی مسکن تھے مرے دل کے علاوہ لگتا ہے کہیں اور بھی مسمار ہوا میں اس دکھ کو تو میں ٹھیک بتا بھی نہیں پاتا میں خود کو میسر تھا مگر مل نہ سکا میں جاگا ہوں مگر خواب کی دہشت نہیں جاتی کیا دیکھتا ہوں یار ...