شاعری

دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا میں

دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا میں سب کچھ کہا اور رات سے کچھ بھی نہ کہا میں کچھ اور بھی مسکن تھے مرے دل کے علاوہ لگتا ہے کہیں اور بھی مسمار ہوا میں اس دکھ کو تو میں ٹھیک بتا بھی نہیں پاتا میں خود کو میسر تھا مگر مل نہ سکا میں جاگا ہوں مگر خواب کی دہشت نہیں جاتی کیا دیکھتا ہوں یار ...

مزید پڑھیے

شام سے گہرا چاند سے اجلا ایک خیال

شام سے گہرا چاند سے اجلا ایک خیال رات ہوئی اور پھر آ پہنچا ایک خیال دن ڈوبے تو دل میں ڈوبتا جاتا ہے سورج کی مانند سنہرا ایک خیال میرے حصے میں وہ شخص بس اتنا ہے تاریکی میں جلتا بجھتا ایک خیال جھیلیں اور پرندے اس میں رہتے ہیں میری دنیا ایک دریچہ ایک خیال آخر آخر ریت میں گم ہو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک لمحۂ موجود انتظار میں تھا

ہر ایک لمحۂ موجود انتظار میں تھا میں اگلے پل کی طرح وقت کے غبار میں تھا ہر اک افق پہ مسلسل طلوع ہوتا ہوا میں آفتاب کے مانند رہ گزار میں تھا خود اپنے آپ میں الجھا ہوا تھا میرا وجود میں چاک چاک گریباں کے تار تار میں تھا جو اس کی خوش سخنی تک رسائی چاہتی تھی مرا وجود بھی لفظوں کی اس ...

مزید پڑھیے

کچھ اور اکیلے ہوئے ہم گھر سے نکل کر

کچھ اور اکیلے ہوئے ہم گھر سے نکل کر یہ لہر کہاں جائے سمندر سے نکل کر معلوم تھا ملنا ترا ممکن نہیں لیکن چاہا تھا تجھے میں نے مقدر سے نکل کر عالم میں کئی اور بھی عالم تھے سو میں نے دیکھا نہیں اس مرکز و محور سے نکل کر اب دیکھیے کس شخص کا ہم دوش بنے وہ جھونکے کی طرح میرے برابر سے نکل ...

مزید پڑھیے

کبھی سراب کرے گا کبھی غبار کرے گا

کبھی سراب کرے گا کبھی غبار کرے گا یہ دشت جاں ہے میاں یہ کہاں قرار کرے گا ابھی یہ بیج کے مانند پھوٹتا ہوا دکھ ہے بہت دنوں میں کوئی شکل اختیار کرے گا یہ خود پسند سا غم ہے سو یہ امید بھی کم ہے کہ اپنے بھید کبھی تجھ پہ آشکار کرے گا تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے تمام عمر مرا کون ...

مزید پڑھیے

اپنا گریہ کس کے کانوں تک جاتا ہے

اپنا گریہ کس کے کانوں تک جاتا ہے گاہے گاہے اپنی جانب شک جاتا ہے پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے یاروں اور پیاروں کے ہوتے ہوئے بھی کوئی آتا ہے اور سارا شہر مہک جاتا ہے عمر کٹی ہے شریانوں کے کٹتے کٹتے مولا کتنا گہرا یا ناوک جاتا ہے کوئی تو ہے جو ...

مزید پڑھیے

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں کہ سچ تو یہ ہے وہ اک شخص میرا تھا بھی نہیں میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں عجیب راہ گزر تھی کہ جس پہ چلتے ہوئے قدم رکے بھی نہیں راستا کٹا بھی نہیں دھواں سا کچھ تو میاں برف سے بھی اٹھتا ہے سو دل جلوں کا ...

مزید پڑھیے

ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا

ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا مالک اس تنہائی میں تو نے کتنا خیال ہمارا کیا یہ تو بس اک کوشش سی تھی پہلے پیار میں رہنے کی سچ پوچھو تو ہم لوگوں میں کس نے عشق دوبارہ کیا چند ادھورے کاموں نے کچھ وقت گرفتہ لوگوں نے دن پرزے پرزے کر ڈالا رات کو پارہ پارہ کیا دل کو اک صورت ...

مزید پڑھیے

حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا

حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا مجھے بھی ترک محبت پہ حیرتیں ہیں رہیں جو کام میرا نہیں تھا وہ کام میں نے کیا وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا بہت دنوں مرے چہرے پہ کرچیاں سی رہیں شکست ذات کو آئینہ فام میں نے ...

مزید پڑھیے

نظروں کی طرح لوگ نظارے کی طرح ہم

نظروں کی طرح لوگ نظارے کی طرح ہم بھیگی ہوئی پلکوں کے کنارے کی طرح ہم یہ روپ تو سورج کو بھی حاصل نہیں ہوتا کچھ دیر رہے صبح کے تارے کی طرح ہم ہم نے بھی تو اک عمر یہ غم سینت کے رکھے اب کیا ہے جو بھاری ہیں خسارے کی طرح ہم اک قوم ہے چاندی کی جو مٹی پہ کھنچی ہے صحرا میں ہیں بہتے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 888 سے 4657