انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے
انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے ثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہے ہم شوق کا نامہ لکھتے ہیں کہ صبر اے دل کیوں روتا ہے یہ کیا ترکیب ہے اے ظالم ہم لکھتے ہیں تو دھوتا ہے ہے دل اک مرد آخر بیں اپنے اعمال پر روتا ہے گر ڈوب کے دیکھو اشک نہیں موتی سے کچھ یہ پروتا ...