شاعری

انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے

انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے ثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہے ہم شوق کا نامہ لکھتے ہیں کہ صبر اے دل کیوں روتا ہے یہ کیا ترکیب ہے اے ظالم ہم لکھتے ہیں تو دھوتا ہے ہے دل اک مرد آخر بیں اپنے اعمال پر روتا ہے گر ڈوب کے دیکھو اشک نہیں موتی سے کچھ یہ پروتا ...

مزید پڑھیے

ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگا

ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگا جتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگا مانا یہ کہ دل ہے اس کا پتھر پتھر میں نہاں شرر بھی ہوگا ہنسنے دے اسے لحد پہ میری اک دن وہی نوحہ گر بھی ہوگا نالہ مرا گر کوئی شجر ہے اک روز یہ بارور بھی ہوگا ناداں نہ سمجھ جہان کو گھر اس گھر سے کبھی سفر بھی ہوگا مٹی کا ہی گھر ...

مزید پڑھیے

گاہے گاہے وہ چلے آتے ہیں دیوانے کے پاس

گاہے گاہے وہ چلے آتے ہیں دیوانے کے پاس جیسے آتی ہیں بہاریں سج کے ویرانے کے پاس پارسائی شیخ صاحب کی بھی اب مشکوک ہے شام کو دیکھا ہے ہم نے ان کو میخانے کے پاس رنج و غم افسردگی مایوسیاں مجبوریاں تیرے غم میں کیا نہیں ہے تیرے دیوانے کے پاس گلستاں کیسے جلا کچھ کہہ نہیں سکتا مگر برق ...

مزید پڑھیے

خون دل سے رہ ہستی کو فروزاں کر لیں

خون دل سے رہ ہستی کو فروزاں کر لیں معتبر اور بھی ہم جشن گلستاں کر لیں دور پر دور چلے جام کو رقصاں کر لیں دوستوں آؤ علاج غم دوراں کر لیں اک نئے رنگ سے تزئین گلستاں کر لیں لاکھ ہو دور خزاں جشن بہاراں کر لیں پھر نہ چھٹ جائیں کہیں رنج و محن کے بادل اپنی زلفوں کو ذرا آپ پریشاں کر ...

مزید پڑھیے

رات دن لب پہ نہ ہو کیونکہ بیان دہلی

رات دن لب پہ نہ ہو کیونکہ بیان دہلی نہ مکیں اب وہ رہے اور نہ مکان دہلی بعض مقتول ہوئے بعضوں نے پھانسی پائی نام کو بھی نہ رہے پیر و جوان دہلی شکوہ بے فائدہ کرتا ہے کسی کا ہمدم تھا مقدر میں لکھا یوں ہی زیان دہلی نہیں بازار محبت میں خریدارئ دل چھان ڈالی ہے ہر اک میں نے دوکان ...

مزید پڑھیے

آتے جاتے موسموں کا سلسلہ باقی رہے

آتے جاتے موسموں کا سلسلہ باقی رہے روز ہم ملتے رہیں اور فاصلہ باقی رہے کھا گئیں دریا کی موجیں خواب آور گولیاں بادبانی کے لیے پاگل ہوا باقی رہے کل کوئی بوڑھا مصور مجھ سے ملنے آئے گا اے مرے منصف مری تھوڑی سزا باقی رہے شاعری کرتے رہو لیکن رہے اتنا خیال دشمنوں سے دوستی کا حوصلہ ...

مزید پڑھیے

کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہ (ردیف .. ی)

کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہ سمجھ میں لعل کی اب تک حنا نہیں آئی خجل ہے آنکھوں سے نرگس گلاب گالوں سے وہ کون پھول ہے جس کو حیا نہیں آئی امڈ رہا ہے پڑا دل میں شوق زلفوں کا یہ جھوم جھوم کے کالی گھٹا نہیں آئی ہو جس سے آگے وہ بت ہم سے ہم سخن واعظ کہیں حدیث میں ایسی دعا نہیں آئی زباں ...

مزید پڑھیے

بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگے

بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگے بلبلہ آنکھوں سے خونابہ فشانی مانگے بحر الفت میں چلا ہے تو پہلے مستول تیر سے آہ کے کشتئ دخانی مانگے نکتۂ وصل دم عرض قلم پر رکھے بوسہ چاہے تو لب شوق زبانی مانگے تا قیامت دل بیدار سنائے ہر روز خواب راحت ترا گر روز کہانی مانگے دل تو دل افعئ گیسو ...

مزید پڑھیے

نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گی

نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گی اگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گی مژہ کے تیروں سے چھان دل کو جو چھاننی ہو نگہ کو گہری کھنچی ہوئی دل سے کب تلک یوں تری بھنؤں کی کماں رہے گی خدا نے منہ میں زبان دی ہے تو شکر یہ ہے کہ منہ سے بولو کہ کچھ دنوں میں نہ منہ ...

مزید پڑھیے

ان کو ہے اعتدال مجھے انتہا پسند

ان کو ہے اعتدال مجھے انتہا پسند ان کی جدا پسند ہے میری جدا پسند جور و جفا پسند ہے شرم و حیا پسند کافر ادا کی ہے مجھے اک اک ادا پسند ان کا مزاج اور ہے میرا مذاق اور ان کو جفا پسند ہے مجھ کو وفا پسند کیا خوب ہے یہ وقت کی رفتار دیکھیے کرتے ہیں میکدے کو بھی اب پارسا پسند رکھتے ہیں دو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 873 سے 4657