شاعری

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے وہ نظر نظر سے گلے ملے تو بجھے چراغ بھی جل گئے یہ شکست دید کی کروٹیں بھی بڑی لطیف و جمیل تھیں میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل ...

مزید پڑھیے

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں یہ اک لطیف سا دھوکہ ہے زندگی تو نہیں سمجھ رہا ہوں کہ اپنا بنا لیا ہے انہیں اسی کا نام محبت کی سادگی تو نہیں لگا رہا ہوں لبوں کی ہنسی سے اندازہ کہ میرے غم کی طلب میں کوئی کمی تو نہیں نفس نفس پہ یہ ہوتا ہے کیوں مجھے محسوس حیات تجھ سے الگ رہ کے ...

مزید پڑھیے

خواب سے آنکھ وہ مل کر جاگے

خواب سے آنکھ وہ مل کر جاگے کتنے سوئے ہوئے منظر جاگے کس کی خاطر ہے پریشاں تری زلف ہم اسی فکر میں شب بھر جاگے تشنگی نے جو نچوڑا دامن کروٹیں لے کے سمندر جاگے سیکڑوں رنگ ہیں آنکھوں میں مگر ذہن میں ایک ہی پیکر جاگے خواب کا جشن منانے کے لیے لوگ سنتے ہیں کہ گھر گھر جاگے ہم نے کاغذ پہ ...

مزید پڑھیے

اک تبسم سے ہم نے روک لیے

اک تبسم سے ہم نے روک لیے وار جتنے غم جہاں نے کیے کہہ رہے ہیں ہوا سے راز چمن کوئی غنچوں کے بھی تو ہونٹ سیے کیف کیا چیز ہے خمار ہے کیا یہ سمجھ کر شراب کون پیے ختم جب ہو گئیں تمنائیں ہم نئے حوصلوں کے ساتھ جیے رخ ہوا کا بدل گیا شاید گھر کے باہر بھی جل رہے ہیں دیے پھول خود ہو گئے ...

مزید پڑھیے

رنگ ہے روشنی ہے مورت ہے

رنگ ہے روشنی ہے مورت ہے تو مرے خواب کی حقیقت ہے بھول جاؤں تو میں تڑپتی ہوں یاد رکھنے میں ہی سہولت ہے پھول ہیں رنگ ہیں بہاریں ہیں زندگی کتنی خوب صورت ہے مت بنا کوئی بھی بہانہ تو جانے والے تجھے اجازت ہے سلسلہ خوشبوؤں سے رکھتی ہوں مجھ کو اک پھول سے محبت ہے

مزید پڑھیے

کوئی تو بات کیجئے صاحب

کوئی تو بات کیجئے صاحب دور خدشات کیجئے صاحب دل میں ہے آپ کی خوشی کی طلب دل کی کیا بات کیجئے صاحب آپ سے آخری ہو یا ہو پہلی اک ملاقات کیجئے صاحب ہجر کی دھوپ میں نہ جلنے دیں پیار کی رات کیجئے صاحب آپ ہیں مہرباں بہت میرے کیوں شکایات کیجئے صاحب میں نے دیکھے ہیں دکھ و سکھ کے دن مجھ سے کیا ...

مزید پڑھیے

یہ جو اپنے خدا سے ڈرتے ہیں

یہ جو اپنے خدا سے ڈرتے ہیں ہم کسی بد دعا سے ڈرتے ہیں ورنہ پردہ اٹھا دیں دنیا کا صرف اپنی حیا سے ڈرتے ہیں اور اداسی کہیں نہ اگ آئے گھر کی آب و ہوا سے ڈرتے ہیں خیر ہو ان کی کج ادائی کی ہم تو اپنی وفا سے ڈرتے ہیں مدعی کو بنا نہ دیں مجرم منصفوں کی ادا سے ڈرتے ہیں شب کے جاگے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

قرار دل کو ملا تیرے مسکرانے سے

قرار دل کو ملا تیرے مسکرانے سے بنی تھی جاں پہ مری تیرے روٹھ جانے سے تسلی جھوٹی نہ دے دل میں کیا ہے یہ کہہ دے یہ خواب لمحے چرا وقت کے خزانے سے سنہری گھڑیاں بھی آخر تو بیت جاتی ہیں یہ قید ہوں گی فقط لب پہ بات آنے سے یہ رنگیں صبح چمن در چمن ہیں کھلتے پھول تو آ گیا تو ہوئے دن بھی یہ ...

مزید پڑھیے

سنگ اک اور گرا دل کے نہاں خانے میں

سنگ اک اور گرا دل کے نہاں خانے میں اشک گرتے ہی رہے پھر اسے بہلانے میں میں سمجھ پائی نہ اے دل رہی یہ کس کی خطا آ گئی کیوں میں ترے دام میں انجانے میں اس کی باتوں میں اگرچہ تھی وفا کی خوشبو دیر پھر بھی نہ لگی دھوکا مجھے کھانے میں جھوٹ کو دیتا ہے وہ سچ کا لبادہ کیسا لطف آتا ہے بہت اس ...

مزید پڑھیے

دوش کس کا ہے بے وفائی میں

دوش کس کا ہے بے وفائی میں کچھ بھی کہنا نہیں صفائی میں زندگی زندگی پہ بوجھ بنی جی رہی ہوں اگر جدائی میں اس پہ کوئی اثر بھی کیسے ہو دل بھی شامل نہیں دہائی میں عشق کا کاروبار چل نکلا ہے خسارا مری کمائی میں چارہ گر تجھ پہ اعتماد مجھے زہر بھی رکھ مری دوائی میں فاطمہؔ کا نہیں کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 850 سے 4657