شاعری

جس کو لگتا ہے گمشدہ ہوں میں

جس کو لگتا ہے گمشدہ ہوں میں جان لے مجھ کو زلزلہ ہوں میں میں بچاتی ہوں بد دعاؤں سے ماں کی بھیجی ہوئی دعا ہوں میں کھو گیا جو گھنے اندھیروں میں اس اجالے کا راستہ ہوں میں مجھ کو پہچان میرے ناز اٹھا تیرا اپنوں سے رابطہ ہوں میں نفرتوں نے دیے ہیں جو تم کو ایسے ہر درد کی دوا ہوں ...

مزید پڑھیے

جذبۂ محبت کو تیر بے خطا پایا

جذبۂ محبت کو تیر بے خطا پایا میں نے جب اسے دیکھا دیکھتا ہوا پایا جانتے ہو کیا پایا پوچھتے ہو کیا پایا صبح دم دریچے میں ایک خط پڑا پایا دیر میں پہنچنے پر بحث تو ہوئی لیکن اس کی بے قراری کو حسب مدعا پایا صبح تک مرے ہمراہ آنکھ بھی نہ جھپکائی میں نے ہر ستارے کو درد آشنا پایا گریۂ ...

مزید پڑھیے

حدود اکل و شرب کا سوال ہی نہیں رہا

حدود اکل و شرب کا سوال ہی نہیں رہا دلوں میں خوف رب ذو الجلال ہی نہیں رہا مآل عرض حال کا ملال ہی نہیں رہا وہ بزم غیر تھی مجھے خیال ہی نہیں رہا جبھی تو باغباں کی گفتگو میں جھول دیکھتے کبھی کسی طرح کا احتمال ہی نہیں رہا یہ وسوسہ کی بات اپنے منہ سے مت نکالئے کوئی شریک حال پر ملال ہی ...

مزید پڑھیے

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا ہاتھ پھولوں پہ بھی رکھو گے تو جل جائے گا جس کو محفل سے نکالو گے نکل جائے گا مگر ادبار تو ادبار ہے ٹل جائے گا کہیں فطرت کے تقاضے بھی بدل سکتے ہیں گھاس پر شیر جو پالو گے تو پل جائے گا کہہ دیا تھا کہ یہ رہبر جو چنا ہے تم نے صاف طوطے کی طرح آنکھ بدل ...

مزید پڑھیے

اڑے ہیں ہوش میرے اس خبر سے

اڑے ہیں ہوش میرے اس خبر سے نہیں ہے واسطہ اب تیرے در سے ابھی کتنی سزائیں اور دے گا نہ مر جاؤں کہیں میں تیرے ڈر سے بہت باقی ہے برسوں کا تقاضہ ذرا تم لوٹ کے آؤ سفر سے بھروسے کے یہاں ہے کون قابل بشر بہتر کہاں ہے جانور سے مجھے جینا ہے ان بچوں کی خاطر نکلنا ہے خیالوں کے بھنور سے بھلا ...

مزید پڑھیے

ہم کو عادت قسم نبھانے کی

ہم کو عادت قسم نبھانے کی ان کی فطرت ہے بھول جانے کی سر جھکا کر میں کیوں نہیں جیتی بس شکایت یہی زمانے کی اس کی شرطوں پہ مجھ کو ہے جینا کیسی دیوانگی دوانے کی اس کو نفرت ہے یا محبت ہے پھر ضرورت ہے آزمانے کی بعد مرنے کے لے کے جاؤں گی آرزو اپنے آشیانے کی میں تو یوں بھی سلگ رہی ...

مزید پڑھیے

آپ کی آنکھوں کا تارہ اور ہے

آپ کی آنکھوں کا تارہ اور ہے کیا ہوا میرا سہارا اور ہے اک ندی کے دو کناروں کی طرح راستہ میرا تمہارا اور ہے جانے اب کیسی خبر یہ لائیں گی ان ہواؤں کا اشارہ اور ہے آپ مرہم ہی لگاتے رہ گئے کیا کہیں یہ درد سارا اور ہے آپ کی بدلی نگاہیں کہہ رہیں اب نہیں میرا گزارا اور ہے پوچھنے والوں ...

مزید پڑھیے

اک بار مل کے وہ مرے سب خواب لے گیا

اک بار مل کے وہ مرے سب خواب لے گیا آنکھوں سے میری ساری تب و تاب لے گیا گہرے سمندروں میں جو اترا تھا ایک بار موتی وہ سارے ڈھونڈ کے نایاب لے گیا پہلے بجھائے اس نے مرے گھر کے سب چراغ پھر میرے آسمان سے مہتاب لے گیا آیا تو اس کے ساتھ مری زندگی بھی تھی جاتے ہوئے وہ زیست کے اسباب لے ...

مزید پڑھیے

جنگل جگنو بادل اور میں

جنگل جگنو بادل اور میں آنکھ میں پھیلا کاجل اور میں گھر کے خالی سناٹے میں دل جیسا اک پاگل اور میں اس کی آنکھیں دریا جیسی پیاسی روح کی چھاگل اور میں

مزید پڑھیے
صفحہ 845 سے 4657