شاعری

بے وفائی سے وفاؤں کا صلہ مت دینا

بے وفائی سے وفاؤں کا صلہ مت دینا بد دعا دینے سے اچھا ہے دعا مت دینا تہمتیں آپ کے دامن سے لپٹ سکتی ہیں آگ جب سلگی ہوئی ہو تو ہوا مت دینا گل کھلا سکتا ہے آوارہ خیالی کا سفر ذہن حساس کو خوشبو کا پتا مت دینا جن سے منسوب ہے تاریخ رواداری کی آندھیو ایسے درختوں کو گرا مت دینا جو مکاں ...

مزید پڑھیے

نظر میں عرش بریں ہے کسی کو کیا معلوم

نظر میں عرش بریں ہے کسی کو کیا معلوم کہاں یہ خاک نشیں ہے کسی کو کیا معلوم تمام ہیچ ہے دنیا علائق دنیا جو نقش زیب جبیں ہے کسی کو کیا معلوم تمہیں خبر ہی نہیں کیا ہے ورثۂ درویش جہان زیر نگیں ہے کسی کو کیا معلوم بلا سبب تو یہ لرزش ہوا نہیں کرتی جو آگ زیر زمیں ہے کسی کو کیا معلوم نہ ...

مزید پڑھیے

یہاں نہیں ہے وہاں نہیں ہے ادھر نہیں ہے ادھر نہیں ہے

یہاں نہیں ہے وہاں نہیں ہے ادھر نہیں ہے ادھر نہیں ہے مگر کسی طرح دل نہیں مانتا کہ وہ جلوہ گر نہیں ہے کسی بھی در پر علاج آویزش یقین و گماں نہ ہوگا ادھر چلا آ کہ میکدے میں اگر نہیں ہے مگر نہیں ہے ہزارہا سامنے کی باتوں سے جان پڑتی ہے شاعری میں وہ کون سے پیش پا مضامیں ہیں جن پہ میری ...

مزید پڑھیے

جب تک ہم ہیں ممکن ہی نہیں نامحرم محرم ہو جائیں

جب تک ہم ہیں ممکن ہی نہیں نامحرم محرم ہو جائیں آتا ہے انہیں غصہ آئے ہوتے ہیں وہ برہم ہو جائیں دنیائے مسرت کے لمحے اب اس سے کیا کم ہو جائیں ہونٹوں پر ہنسی آنے والی ہو آنکھیں پر نم ہو جائیں ہم اس کے آنکھ سے اوجھل ہونے کا مطلب کیا لیتے ہیں وہ آنکھ سے اوجھل ہو تو نظارے درہم برہم ہو ...

مزید پڑھیے

کھری باتیں بہ انداز سخن کہہ دوں تو کیا ہوگا

کھری باتیں بہ انداز سخن کہہ دوں تو کیا ہوگا عدوئے جان و تن کو جان من کہہ دوں تو کیا ہوگا نگہبان وطن کو راہزن کہہ دوں تو کیا ہوگا کسی بھی بدچلن کو بدچلن کہہ دوں تو کیا ہوگا غریبی جن کے لتے لے گئی تا حد عریانی جو میں ان عصمتوں کو سیم تن کہہ دوں تو کیا ہوگا اندھیرے کو اندھیرے ہی ...

مزید پڑھیے

کون بتوں سے رشتہ جوڑے

کون بتوں سے رشتہ جوڑے نام بڑے اور درشن تھوڑے اس پر یہ بھرپور جوانی بانہیں بھر لے اور نہ چھوڑے جوبن کو یہ عقل کہاں ہے چادر اتنے پاؤں سکوڑے چھلکے ساگر آنکھ نشیلی نرگس میں انگور نچوڑے حال سے مستقبل بنتا ہے پھوٹ بہیں گے پکے پھوڑے پیٹھ نہ دے آزادہ روی کو سینے پر کھا زخم ...

مزید پڑھیے

تارے جو آسماں سے گرے خاک ہو گئے

تارے جو آسماں سے گرے خاک ہو گئے ذرے اٹھے تو برق غضبناک ہو گئے پرسان حال دیدۂ نمناک ہو گئے یہ کب سے آپ صاحب ادراک ہو گئے انجام انبساط چمن کے سوال پر اتنا ہنسے کہ پھول جگر چاک ہو گئے ہونا پڑے گا قائل تعمیر عہدنو جس دن غریب درخور املاک ہو گئے تفتیش حال موسم گل کو چلے ہیں آپ اب جب ...

مزید پڑھیے

لا اے ساقی تیری جے ہو

لا اے ساقی تیری جے ہو کوئی بھی پینے کی شے ہو گلشن میں صیاد کے ہاتھوں جو انجام بھی ہوتا ہے ہو ہم آخر کیوں ہمت ہاریں ہو ناکامی پے در پے ہو لاکھوں ہیں ہم سب بے چارے اے شہزادو تم سب کے ہو میں دنیا پر طنز کروں گا دنیا کیوں میرے درپئے ہو ہم اس کے پابند نہیں ہیں ساقی ہو مینا ہو مے ...

مزید پڑھیے

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں سمجھ سکو تو ٹھکانے کی بات کرتا ہوں سحر کو شمع جلانے کی بات کرتا ہوں یہ غافلوں کو جگانے کی بات کرتا ہوں روش روش پہ بچھا دو ببول کے کانٹے چمن سے لطف اٹھانے کی بات کرتا ہوں وہ باغبان جو پودوں سے بیر رکھتا ہے یہ آپ ہی کے زمانے کی بات کرتا ہوں شراب سرخ ...

مزید پڑھیے

ابھی تو موسم ناخوش گوار آئے گا

ابھی تو موسم ناخوش گوار آئے گا پھر اس کے بعد پیام بہار آئے گا خلوص عہد وفا سازگار آئے گا کبھی تو مرحلۂ اعتبار آئے گا جس انجمن میں دلوں کے قرار لٹتے ہیں اس انجمن میں پہنچ کر قرار آئے گا لب شگفتہ و مے پاش پر شگوفوں پر کرو گے غور جہاں تک نکھار آئے گا یہی ہے بزم طرب آفریں تو جاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 842 سے 4657