شاعری

کوچہ ہائے دل و جاں کی تیرہ شبو آس مرتی نہیں

کوچہ ہائے دل و جاں کی تیرہ شبو آس مرتی نہیں آخری سانس بھرتے ستارو سنو آس مرتی نہیں چشم گریاں ذرا تھم بھی جا اشک میں دل بھی بہہ جائے گا صبر صحرائے وحشت کے ماتم گرو آس مرتی نہیں درد اٹھنے سے دل کے شرارے کہاں بجھ سکے ہیں کبھی لاکھ روشن نگاہوں میں خوں لا بھرو آس مرتی نہیں والیٔ شہر ...

مزید پڑھیے

کھوٹ کی مالا جھوٹ جٹائیں اپنے اپنے دھیان

کھوٹ کی مالا جھوٹ جٹائیں اپنے اپنے دھیان اپنا اپنا مندر منبر اپنے رب بھگوان گھر جانے کی کوئی دوجی راہ نکالی جائے آن کے رہ میں بیٹھ گیا ہے اک جوگی انجان زخمی سورج زہر میں بھیگی لو پیاسے پنچھی ٹوٹی بکھری ہجر گلی میں کچھ شاخیں بے جان اپنے دکھ کا گھونٹ گلا اور یار کے آنسو اوڑھ ان ...

مزید پڑھیے

کون دروازہ کھلا رکھتا برائے انتظار

کون دروازہ کھلا رکھتا برائے انتظار رات گہری ہو چلی رہرو عبث ہے کل پکار آنکھ جل جاتی ہے لیکن خواب جھلساتی نہیں سرمئی ڈھیری کی خنکی سے جنم لے گی بہار کون دشت کرب کے آزار کا عادی ہوا کون جا پایا ہے بحر درد کی موجوں کے پار رنج میں لپٹا رہا مہتاب کا غمگیں بدن رات ٹیرس پر کوئی سجدے ...

مزید پڑھیے

ٹلنے کے نہیں اہل وفا خوف زیاں سے

ٹلنے کے نہیں اہل وفا خوف زیاں سے یہ بحث مگر کون کرے اہل‌ زماں سے رگ رگ میں رواں بحر فغاں چڑھ گیا لیکن ویرانیٔ جاں کم تو ہوئی ذکر بتاں سے روغن نہ سفیدی نہ مرمت سے ملے گا اک پاس مراتب کہ گیا سب کے مکاں سے آزار و مصیبت سے علاقہ ہے پرانا رشتہ ہے قدیمی مرا فریاد و فغاں سے گھاؤ بھی ...

مزید پڑھیے

یہی ٹھہرا کہ اب اس اور جانا بھی نہیں ہے

یہی ٹھہرا کہ اب اس اور جانا بھی نہیں ہے یہ دوجی بات وہ کوچہ بھلانا بھی نہیں ہے بوئے صد‌ گل میں بھیگے ہو نہائے ہو دھنک میں محبت کر رہے ہو اور بتانا بھی نہیں ہے درون دل ہی رکھو واں حفاظت میں رہے گا وہ اک راز‌ نہفتہ جو چھپانا بھی نہیں ہے نہ باراں ہے نہیں طوفاں نہ جھکڑ ہے نہ ...

مزید پڑھیے

ہے کوئی درد مسلسل رواں دواں مجھ میں

ہے کوئی درد مسلسل رواں دواں مجھ میں بنا لیا ہے اداسی نے اک مکاں مجھ میں ملا ہے اذن سخن کی مسافتوں کا پھر کھلے ہوئے ہیں تخیل کے بادباں مجھ میں سحابی شام سر چشم پھیلتے جگنو کسی خیال نے بو دی یہ کہکشاں مجھ میں مہاجرت یہ شجر در شجر ہواؤں کی بسائے جاتی ہے خانہ بدوشیاں مجھ میں عجیب ...

مزید پڑھیے

چپ ہیں پاؤں تو رہ گزر خاموش

چپ ہیں پاؤں تو رہ گزر خاموش وقت کی ہیر کا سفر خاموش ہجر کی بد نصیب گلیوں میں چاند پھرتا ہے رات بھر خاموش کون نکلا ہے خانۂ دل سے کچھ دنوں سے ہیں بام و در خاموش کوئی ہنگامہ بولتا ہی نہیں شام کے لب پہ چپ سحر خاموش یاد کے پر ملال موسم میں پھول خوشبو ہوا شجر خاموش ایک کھڑکی سے ...

مزید پڑھیے

کیا بتلائیں یاد نہیں کب عشق کے ہم بیمار ہوئے

کیا بتلائیں یاد نہیں کب عشق کے ہم بیمار ہوئے ایسا لگے ہے عرصہ گزرا ہم کو یہ آزار ہوئے آپ کا شکوہ آپ سے کرنا جوئے شیر کا لانا ہے آپ کے سامنے بولوں کیسے آپ مری سرکار ہوئے تیر کی طرح کرنیں برسیں صبح نکلتے سورج کی لہولہان تھا سارا چہرہ نیند سے جب بیدار ہوئے عدل کی تو زنجیر ہلانے ہم ...

مزید پڑھیے

وہی فرقت کے اندھیرے وہی تنہائی ہو

وہی فرقت کے اندھیرے وہی تنہائی ہو تیری یادوں کا ہو میلا شب تنہائی ہو میں اسے جانتی ہوں صرف اسے جانتی ہوں کیا ضروری ہے زمانے سے شناسائی ہو اتنی شدت سے کوئی یاد بھی آیا نہ کرے ہوش میں آؤں تو دنیا ہی تماشائی ہو میری آنکھوں میں کئی زخم ہیں محرومی کے میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

سودائے عشق کے تو خطاوار ہم نہیں

سودائے عشق کے تو خطاوار ہم نہیں ہیں عشق کے مریض گنہ گار ہم نہیں ہم جو کھٹک رہے تھے تمہاری نگاہ میں لو اب تمہاری راہ میں دیوار ہم نہیں اس کی خوشی کے واسطے خود کو فنا کیا پھر بھی وہ کہہ رہا ہے وفادار ہم نہیں دل میں ہمارے ایک تلاطم سا ہے بپا خاموش ہیں کہ زینت اخبار ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 838 سے 4657