کوچہ ہائے دل و جاں کی تیرہ شبو آس مرتی نہیں
کوچہ ہائے دل و جاں کی تیرہ شبو آس مرتی نہیں آخری سانس بھرتے ستارو سنو آس مرتی نہیں چشم گریاں ذرا تھم بھی جا اشک میں دل بھی بہہ جائے گا صبر صحرائے وحشت کے ماتم گرو آس مرتی نہیں درد اٹھنے سے دل کے شرارے کہاں بجھ سکے ہیں کبھی لاکھ روشن نگاہوں میں خوں لا بھرو آس مرتی نہیں والیٔ شہر ...