شاعری

ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں

ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں بھروں آنکھوں میں نظر سا نظر آ ہی نہ سکوں دل جلانا ہے تو اے مہر جلا مثل کباب داغ کچھ مہر نہیں ہے جو اٹھا ہی نہ سکوں تہ شمشیر دو دم خوش ہوں یہ شیشے کی طرح ایک دم سنگ دلوں سے میں بنا ہی نہ سکوں ہم نشیں یار ہو کیا یہ ہے نصیبوں میں فراق جوڑ اعضا ...

مزید پڑھیے

جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے

جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے تڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلے جگر شگاف ہو یا دل ہو چاک وحشت سے جنوں میں جامۂ تن دیکھیے کہاں سے چلے جو مر کے ریگ رواں بھی بنے ضعیفی میں یہاں پہ رہ گئے ہم ناتواں وہاں سے چلے ثبات جامۂ ہستی ہو خاک پیری میں جو پیرہن ہو پرانا بہت کہاں سے ...

مزید پڑھیے

پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا

پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا درد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیا عشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے عید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا جب رقیب اس کو بتانے لگے ارکان نماز تھام کر دل کبھی اٹھا میں کبھی بیٹھ گیا اے جلا ساز کبھی پھر نہ صفائی ہوگی زنگ آئینۂ دل میں جو ...

مزید پڑھیے

لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں

لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں شل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوں ضد یہ اس کو ہے جو رویا میں بھی چھپ کر جاؤں کھول دی آنکھ نظر خواب میں آ ہی نہ سکوں دیکھ کر حسن بتوں کا جو خدا سے پھر جائے دل گمراہ کو پھر راہ پہ لا ہی نہ سکوں مدد اے دست جنوں پیرہن گل کی طرح یہ پھٹے جامۂ ...

مزید پڑھیے

قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے

قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے واعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہے کعبے میں جس حسیں کا لگتا نہیں پتا ہے مل جائے بت کدے میں جو وہ صنم خدا ہے پوجا نہ کر بتوں کو اپنی ہی کر پرستش اے بت پرست پتلا تو بھی تو خاک کا ہے رگ رگ میں یہ بندھی ہے گرد ملال خاطر وہ صید ہوں کہ جس کا سب گوشت ...

مزید پڑھیے

خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں

خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں اجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیں ذلیل ہوتے ہیں عیب ہیں خود جو عیب اس میں نکالتے ہیں انہیں کے اوپر ہی خاک پڑتی جو چاند پر خاک ڈالتے ہیں تلون عیش و غم سے باہم زمین یہ ننگ آسماں ہے کہ منہ سے ہم خون ڈالتے ہیں وہ رنگ ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے

کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے سو دل گداز ہیں دھن کے سر اگر کاٹنا ہے چن چن کے آستین چڑھاؤ چن چن کے شمع و پروانہ شب کو تھے دل سوز رہ گئے صبح تک وہ جل بھن کے گھن لگا موت کا جو اعضا میں استخواں خاک ہو گئے گھن کے میں وہ نالاں ہوں جس کے ہم سایہ کوستے ہیں فغاں مری سن کے کٹ سکا کوہ غم نہ آخر ...

مزید پڑھیے

وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو

وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو منہ دکھانے کی نہ پھر جا رہے آئینے کو غم نہیں محفل جاناں میں نہیں صدر نشیں اس نے سینے میں تو جاوے ہے مرے کینے کو اے صنم تجھ کو جو پہنچا وہ خدا کو پہنچا زینہ عرش سمجھتا ہوں ترے زینے کو شال‌ شاہی سے زیادہ ہے مجھے کملی‌ٔ فقر جانتا پشم برابر ہوں ...

مزید پڑھیے

غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے

غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے نیرنگ جہاں بدل رہا ہے کھٹکا ہے یہ نشتر مژگاں کا رگ رگ سے جو دم نکل رہا ہے وصف لب سرخ لکھ رہا ہوں یاقوت قلم اگل رہا ہے آبادیٔ دل ہے داغ سوزاں اس گھر میں چراغ جل رہا ہے ہے دل کی تڑپ سے چشم پر نم پارے کا کنواں ابل رہا ہے دل غم سے نہ کس طرح ہو ٹھنڈا پنکھا دم ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی

ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی وہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئی وہ زار ہوں جو سانس دم مرگ اکھڑ گئی میت کنار گور میں کانٹے سی گڑ گئی ڈھونڈھو چراغ لے کے ضعیفوں گلی گلی غم ہو گیا شباب جوانی بچھڑ گئی پھولوں پھلوں میں کیا چمن روزگار میں میں وہ نہال سبز ہوں گھن جس کی جڑ گئی چاہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 812 سے 4657