میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام
میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام خاکداں تا آسماں چھایا ہے مستقبل تمام پی چکی کتنی ہی موجوں کا لہو ساحل کی ریت لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں سر ساحل تمام گھر کو دن بھر کی متاع رہ نوردی سونپ دی سعئ پیہم کا غبار شہر تھا حاصل تمام دیکھنا سب نے اٹھا رکھی ہے کاندھوں پر صلیب بھیس ...