شاعری

میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام

میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام خاکداں تا آسماں چھایا ہے مستقبل تمام پی چکی کتنی ہی موجوں کا لہو ساحل کی ریت لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں سر ساحل تمام گھر کو دن بھر کی متاع رہ نوردی سونپ دی سعئ پیہم کا غبار شہر تھا حاصل تمام دیکھنا سب نے اٹھا رکھی ہے کاندھوں پر صلیب بھیس ...

مزید پڑھیے

دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت

دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت ہم دکھی بیٹھے ہیں لگ چل نہ صبا ہم سے بہت کیا ہے دامن میں بجز گرد مہ و سال امید کیوں الجھتی ہے زمانے کی ہوا ہم سے بہت اب ہم اظہار الم کرنے لگے ہیں سب سے اب اٹھائی نہیں جاتی ہے جفا ہم سے بہت کون موسم ہے کہ پتھر سے لہو رستا ہے خوں بہا مانگے ہے ...

مزید پڑھیے

سوئے شہر آئے اڑاتے پرچم صحرا کو ہم

سوئے شہر آئے اڑاتے پرچم صحرا کو ہم اے جنوں اب کے الٹ کے رکھ ہی دیں دنیا کو ہم تھا کہیں ماضی میں تو اے حال اب آگے تیرا کام لے تو آئے تیری چوکھٹ تک ترے فردا کو ہم کتنے دانا ہیں لگا کر آگ سارے شہر کو ایک گنگا لے چلے جلتی ہوئی لنکا کو ہم مضطرب ہیں سارے سناٹے کہ آوازیں بنیں رہبرو دابے ...

مزید پڑھیے

حیات میں بھی اجل کا سماں دکھائی دے

حیات میں بھی اجل کا سماں دکھائی دے وہی زمین وہی آسماں دکھائی دے قدم زمیں سے جدا ہیں نظر مناظر سے غریب شہر کو شہر آسماں دکھائی دے تمام شہر میں بے چہرگی کا عالم ہے جسے بھی دیکھیے گرد اور دھواں دکھائی دے اک ایک شخص ہجوم رواں میں تنہا ہے اک ایک شخص ہجوم رواں دکھائی دے کبھی سنو تو ...

مزید پڑھیے

یاد اس کی ہے کچھ ایسی کہ بسرتی بھی نہیں

یاد اس کی ہے کچھ ایسی کہ بسرتی بھی نہیں نیند آتی بھی نہیں رات گزرتی بھی نہیں زندگی ہے کہ کسی طرح گزرتی بھی نہیں آرزو ہے کہ مری موت سے ڈرتی بھی نہیں بس گزرتے چلے جاتے ہیں مہ و سال امید دو گھڑی گردش ایام ٹھہرتی بھی نہیں دور ہے منزل آفاق دکھی بیٹھے ہیں سخت ہے پاؤں کی زنجیر اترتی ...

مزید پڑھیے

ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیں

ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیں آیت شوق کی تفسیر لیے بیٹھے ہیں آسماں ساتھ چلا گھر کی زمیں دور ہوئی تجھ سے دور اک رہ دلگیر لیے بیٹھے ہیں وجہ تعزیر ہوئی بے وطنی بھی جب سے عنبریں ہاتھوں کی تحریر لیے بیٹھے ہیں آپ سے آپ وہ کھلتی ہوئی زلفیں تیری اب اسی سوگ کی تصویر لیے بیٹھے ہیں ہائے ...

مزید پڑھیے

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو سائے نے جلا دیا ہے مجھ کو میں نالۂ سکوت سنگ کا ہوں صحرا نے بہت سنا ہے مجھ کو میں لفظ کی طرح بے زباں تھا معنی نے ادا کیا ہے مجھ کو ہر سچ کا نصیب سنگ ساری اور سچ ہی سے واسطہ ہے مجھ کو خائف نہیں مرگ ناگہاں سے سینے کا وہ حوصلہ ہے مجھ کو پتھر پہ مری صدا کا ...

مزید پڑھیے

قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئی

قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئی پاؤں ہم نے جب اٹھایا تو زمیں چھوٹ گئی لیے جاتا ہے خلاؤں میں جمال شب و روز دن کہیں چھوٹ گیا رات کہیں چھوٹ گئی زندگی کیا تھی میں اک موج کے پیچھے تھا رواں اور وہ موج کہ ساحل کے قریں چھوٹ گئی بود و باش اپنی نہ پوچھو کہ اسی شہر میں ہم زندگی لائے تھے ...

مزید پڑھیے

رتبۂ‌ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا

رتبۂ‌ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا ہم نشیں ضبط سخن کا بھی اثر پہنچے گا بے صدارات سے عاجز ہے مرا دست جنوں کوئی دن تا بہ گریبان سحر پہنچے گا کھنچ کے رہ مجھ سے مگر ضبط کی تلقین نہ کر اب مری آہ سے تجھ کو نہ ضرر پہنچے گا باتوں باتوں میں سب احوال جدائی مت پوچھ کچھ کہوں گا تو ترے دل پہ ...

مزید پڑھیے

بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہم

بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہم شہر کہتے ہیں جسے ہیں اس کے پس منظر میں ہم شام ڈوبی پڑ رہے سورج کے در پر شب کی شب صبح بکھری چل پڑے خود کو لیے ٹھوکر میں ہم آگہی تو نے ہمیں کن وسعتوں میں گم کیا بے نشاں ہر ملک میں بے آسرا ہر گھر میں ہم اپنے ہی صحرا میں کھو جائیں گے اندازہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 776 سے 4657