شاعری

اب کہاں لے کے چھپیں عریاں بدن اور تن جلا

اب کہاں لے کے چھپیں عریاں بدن اور تن جلا دھوپ ایسی ہے کہ سائے سے بھی پیراہن جلا چھین لو احساس مجھ سے چھین لو میرا شعور اس گھٹا میں تن پھنکا اس روشنی سے من جلا زندگی دشت سراب اور سر پہ اک سورج محیط میں تو میں ہوں میرے سائے کا بھی سب تن من جلا کس صدا کی ضرب سے ٹوٹا سکوت سنگ دشت ایک ...

مزید پڑھیے

دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم

دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم اپنا ہر امتیاز مٹاتے رہے ہیں ہم منہ پر جو یہ جلے ہوئے دامن کی راکھ ہے شعلوں میں زندگی کے نہاتے رہے ہیں ہم اتنا نہ کھل سکا کہ ہوا کس طرف کی ہے سارے جہاں کی خاک اڑاتے رہے ہیں ہم آنکھوں سے دل تک ایک جہان سکوت ہے سنتے ہیں اس دیار سے جاتے رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہجر و وصال یار کا موسم نکل گیا

ہجر و وصال یار کا موسم نکل گیا اے درد عشق جاگ زمانہ بدل گیا کب تک یہ روز حشر سن اے شام انتظار کیا رات اب نہ آئے گی سورج تو ڈھل گیا اب کے کہاں سے آئے ہو ساون کے بادلو دیکھو تو سارا باغ ہی برکھا سے جل گیا جاؤں کہاں کہ تاب نہیں عرض نغمہ کی پانی میں آگ لگ گئی پتھر پگھل گیا ساتوں سروں ...

مزید پڑھیے

یہ محشر سوز و ساز کیا ہے

یہ محشر سوز و ساز کیا ہے آخر مرا امتیاز کیا ہے دل محو صدائے درد کیوں ہے یہ عرض ہنر گداز کیا ہے مفہوم نوائے راز کیا تھا آواز شکست ساز کیا ہے ڈرتا ہوں کہ اپنا غم نہ ہو جائے اپنے سے یہ احتراز کیا ہے پا کر بھی تجھے میں سوچتا ہوں مٹنے کا مرے جواز کیا ہے اب تو جو ملا تو میں نہیں ...

مزید پڑھیے

شام رکھتی ہے بہت درد سے بیتاب مجھے

شام رکھتی ہے بہت درد سے بیتاب مجھے لے کے چھپ جا کہیں اے آرزوئے خواب مجھے اب میں اک موج شب تار ہوں ساحل ساحل راہ میں چھوڑ گیا ہے مرا مہتاب مجھے اب تک اک شمع سیہ پوش ہوں صحرا صحرا تجھ سے چھٹ کر نہ ملی رہ گزر خواب مجھے ساحل‌ آب و سراب ایک ہے منزل منزل تشنگی کرتی ہے سیراب نہ غرقاب ...

مزید پڑھیے

دامن میں آنسو مت بونا

دامن میں آنسو مت بونا ہاتھ آئے موتی کیا کھونا بھیگے کاغذ کی تحریر میں دھوپ نکل آئے تو دھونا چادر تو سرکاؤ سر سے آنگن میں بکھرا ہے سونا یہ محفل ہے ہنس لو گا لو تنہائی میں کھل کر رونا پیچھے مڑ کر دیکھنے والے پتھر میں تبدیل نہ ہونا اس سے کچھ کہنے کا مطلب آنسو میں آواز بھگونا

مزید پڑھیے

میرؔ و غالبؔ کی طرح سحر بیاں سے نکلے

میرؔ و غالبؔ کی طرح سحر بیاں سے نکلے شعر ایسا بھی کوئی دل سے زباں سے نکلے اشک سے بھیگے ہوئے میں مرے الفاظ غزل آگ سے کوئی لپک جیسے دھواں سے نکلے کوئی سیلاب بھی روکے سے نہیں رکتا ہے راستہ تھا ہی نہیں پھر بھی وہاں سے نکلے

مزید پڑھیے

لوگ ہیں منتظر نور سحر مدت سے

لوگ ہیں منتظر نور سحر مدت سے میں بھی بیٹھا ہوں سر راہ گزر مدت سے مدتوں دار و رسن زیست کا عنوان رہے مورد سنگ ہیں اس شہر میں سر مدت سے جس کی منزل کا نشاں تک بھی نہیں نظروں میں کب سے اس راہ میں ہیں محو سفر مدت سے وہ کوئی دشت و بیاباں ہو کہ آبادی ہو بن چکے ہیں سبھی شعلوں کے نگر مدت ...

مزید پڑھیے

صدیوں تمہاری یاد میں شمعیں جلائیں گے

صدیوں تمہاری یاد میں شمعیں جلائیں گے پل بھر کے بعد پھر بھی تمہیں بھول جائیں گے تعمیر مدعا طلب ذوق ہو گئی بنیاد درد ہوگی تو دیوار اٹھائیں گے اب کاہش جنوں کا کوئی سلسلہ نہیں ہاں بے دلی سے دست دعا بھی اٹھائیں گے اے کاروان تیز قدم ماندگاں کو دیکھ آنکھوں میں کیا غبار سر رہ سجائیں ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے سوز کا ہے بزم جاں میں انتظار اے دل (ردیف .. ن)

یہ کس کے سوز کا ہے بزم جاں میں انتظار اے دل کہ آہیں آج سوئے عالم بالا نہیں جاتیں امیدیں جب مری بڑھ آئیں تو ہنس کر لگے کہنے یہ برسوں قید دل میں رہ کے کیوں گھبرا نہیں جاتیں نہیں گستاخ آئینہ مقابل ہے کھڑا کوئی یہ حیراں ہے کہ کیوں آنکھیں تری شرما نہیں جاتیں کھڑا ہوں انتظار یار میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 777 سے 4657