شاعری

جو تم سے ملا ہوگا جو تم نے دیا ہوگا

جو تم سے ملا ہوگا جو تم نے دیا ہوگا وہ غم بھی مسرت کے سانچے میں ڈھلا ہوگا اے ہم سفرو اس کا کیا حال ہوا ہوگا منزل کے قریب آ کر جو شخص لٹا ہوگا ہم راہ محبت سے اس طرح سے گزریں گے جو نقش قدم ہوگا تصویر وفا ہوگا ہم تو تمہیں ہستی کا مختار سمجھتے ہیں جو تم نے کہا ہوگا اچھا ہی کہا ہوگا اب ...

مزید پڑھیے

سینے ہیں چاک اور گریباں سلے ہوئے

سینے ہیں چاک اور گریباں سلے ہوئے طوفاں ہیں سطح آب کے نیچے چھپے ہوئے اک عمر مختصر بھی گزاری نہیں گئی صدیاں اگرچہ گزری ہیں دکھ جھیلتے ہوئے رنج شکستہ پائی ہے اک زاد راہ شوق اور عمر ہونے آئی ہے گھر سے چلے ہوئے کب فیض پا سکا کوئی شاخ بریدہ سے کچھ پھول شاخ پر ہیں ابھی تک لگے ...

مزید پڑھیے

وہ حرف شوق ہوں جس کا کوئی سیاق نہ ہو

وہ حرف شوق ہوں جس کا کوئی سیاق نہ ہو سمجھ سکو نہ اگر عشق کا مراق نہ ہو ترے فراق سے مانوس ہو کے سوچتا ہوں تری وفا کی طرح یہ بھی اک مذاق نہ ہو جدا نہ ہوں جنہیں یارانہ ہو جدائی کا ملیں نہ وہ جنہیں ملنے کا اشتیاق نہ ہو ہزار شوق ترا کم ہو پر خدا نہ دکھائے وہ دن کہ تیری جدائی بھی دل پہ ...

مزید پڑھیے

موت کا کیوں کر اعتبار آئے

موت کا کیوں کر اعتبار آئے کہ شب غم بھی ہم گزار آئے کسی حیلے کسی بہانے ہم کوئے جاناں میں بار بار آئے ایک خوئے وفا کے رشتے سے یاد کتنے ستم شعار آئے کس کو ہوتی نہیں ہے جان عزیز ہم مگر پھر بھی سوئے دار آئے ان سے ترک وفا کریں کیوں کر جن پہ بے اختیار پیار آئے

مزید پڑھیے

ان سبھی درختوں کو آندھیوں نے گھیرا ہے

ان سبھی درختوں کو آندھیوں نے گھیرا ہے جن کی سبز شاخوں پر پنچھیوں کا ڈیرا ہے آج کے زمانے میں کس کو رہنما سمجھیں اب تو ہر قبیلے کا راہ بر لٹیرا ہے سو دیے جلائے ہیں دوستوں کے آنگن میں پھر بھی میرے آنگن میں ہر طرف اندھیرا ہے تجھ کو کچھ خبر بھی ہے میرے دل کی شہزادی میرے دل کے گوشے ...

مزید پڑھیے

جس کو چاہا تھا نہ پایا جو نہ چاہا تھا ملا

جس کو چاہا تھا نہ پایا جو نہ چاہا تھا ملا بخششیں ہیں بے حساب اس کی ہمیں کیا کیا ملا اجنبی چہروں میں پھر اک آشنا چہرا ملا پھر مجھے اس کے تعلق سے پتا اپنا ملا اس چمن میں پھول کی صورت رہا میں چاک دل اس چمن میں شبنم آسا میں سدا پیاسا ملا پھر قدم اٹھنے لگے ہیں شہر نا پرساں کی سمت میرے ...

مزید پڑھیے

صبح طرب میری آنکھوں میں خواب کئی لہرائے تھے

صبح طرب میری آنکھوں میں خواب کئی لہرائے تھے شام الم کے ساتھی لیکن بڑھتے پھیلتے سائے تھے ایک تمہارے پیار کی خاطر جگ کے دکھ اپنائے تھے ہم نے اپنے ایک دیپ سے کتنے دیپ جلائے تھے صرف جوانی کے کچھ دن ہی عمر کا حاصل ہوتے ہیں اور جوانی کے یہ دن بھی ہم کو راس نہ آئے تھے حسن کو ہم نے امر ...

مزید پڑھیے

نقوش رہ گزر شوق سب مٹا دینا

نقوش رہ گزر شوق سب مٹا دینا رہی ہے جاں سو اسے بھی کہیں گنوا دینا رہ حیات میں ہر موڑ پر ہے اک الجھن بچھڑ نہ جاؤں کہیں دوستو صدا دینا غبار وقت نے دھندلا دیئے ہیں اس کے نقوش ذرا چراغ محبت کی لو بڑھا دینا سنا ہے شہر میں پھر آ گیا ہے وہ قاتل ملے تو دوستو میرا پتہ بتا دینا طلب تو کرنا ...

مزید پڑھیے

لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا

لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا جس کو نہ میں سمجھا تھا وہی میرا خدا تھا میں دست صبا بن کے اسے چھیڑ رہا تھا وہ غنچۂ نو رس تھا ابھی تک نہ کھلا تھا پتھر کی طرح پھول مرے سر پہ لگا تھا اس وقت سبھی روئے تھے میں صرف ہنسا تھا اترا تھا رگ و پے میں مرے زہر کے مانند وہ درد کی صورت مرے پہلو ...

مزید پڑھیے

رات بھی باقی ہے صہبا بھی شیشہ بھی پیمانہ بھی

رات بھی باقی ہے صہبا بھی شیشہ بھی پیمانہ بھی ایسے میں کیوں چھیڑ نہ دیں ہم ذکر غم جانانہ بھی بستی میں ہر اک رہتا ہے اپنا بھی بیگانہ بھی حال کسی نے پوچھا دل کا درد کسی نے جانا بھی ہائے تجاہل آج ہمیں سے پوچھ رہے ہیں اہل خرد سنتے ہیں اس شہر میں رہتا ہے کوئی دیوانہ بھی آخر صف تک آتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 764 سے 4657