شاعری

وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں

وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں اب جنوں کار بے مثال کہاں خود سے بھی مانگتی نہیں خود کو تجھ سے پھر خواہش سوال کہاں میرے ہم رنگ پیرہن پہنے شام ایسی شکستہ حال کہاں صبح کی بھیڑ میں کہوں کس سے ہو گئی رات پائمال کہاں میری سب حالتوں کو جان سکے کوئی ایسا شریک حال کہاں تیرے خوابوں کے بعد ...

مزید پڑھیے

سارے پتھر اور آئینے ایک سے لگتے ہیں

سارے پتھر اور آئینے ایک سے لگتے ہیں ایک سی حالت رکھنے والے ایک سے لگتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے پھر کچھ ہونے والا ہے کچھ ہونے سے پہلے لمحے ایک سے لگتے ہیں پہلے کوئی راہ زیادہ لمبی لگتی تھی اب تو گھر کے سب ہی رستے ایک سے لگتے ہیں کیسے پہچانوں میں ان میں کون سے ہیں مرے لوگ رات کی ...

مزید پڑھیے

ٹھہرا ہے قریب جان آ کر

ٹھہرا ہے قریب جان آ کر جانے کا نہیں یہ دھیان آ کر آئینہ لیا تو تیری صورت ہنسنے لگی درمیان آ کر ٹپکے نہ یہ اشک چشم غم سے جائے نہ یہ میہمان آ کر پلٹی جو ہوا گئے دنوں کی دہرا گئی داستان آ کر قدموں سے لپٹ گئے ہیں رستے آتا ہی نہیں مکان آ کر جا پہنچی زمین اس سے ملنے ملتا نہ تھا آسمان ...

مزید پڑھیے

کوئی تارہ نہ دکھا شام کی ویرانی میں

کوئی تارہ نہ دکھا شام کی ویرانی میں یاد آئے گا بہت بے سر و سامانی میں دم بخود رہ گیا وہ پرسش حالات کے بعد آئنہ ہو گئی میں عالم حیرانی میں دل سلامت رہے طوفاں سے تصادم میں مگر ہاتھ سے چھوٹ گیا ہاتھ پریشانی میں سہل کرتی میں تخاطب میں مکرنا تجھ سے مشکلیں اور تھیں اس راہ کی آسانی ...

مزید پڑھیے

کوئی سرد ہوا لب بام چلی

کوئی سرد ہوا لب بام چلی پھر خواہش بے انجام چلی کیا خاک سکوں سے ناؤ چلے جب موج ہی بے آرام چلی وہ بات جو ساری عمر کی تھی بس ساتھ مرے دو گام چلی اک حرف غلط کو چھوتے ہی میں مثل خیال خام چلی اب رات سے مل کر پلٹوں کیا جب صبح سے میں تا شام چلی خود ڈھ گئی وہ دیوار مگر گرتے ہوئے گھر کو ...

مزید پڑھیے

ستارہ چشم ہے اور مہرباں ہے

ستارہ چشم ہے اور مہرباں ہے وہ میری خاک پر اب آسماں ہے ترے آگے مرا خاموش ہونا یقیں کے ٹوٹ جانے کا سماں ہے حد آئندگاں پر ایک لمحہ مری مجبوریوں کا راز داں ہے ہوا سے رشتۂ جاں کیا نبھاؤں کسی کی یاد ہی جب بد گماں ہے ترا ملنا نہ ملنا ایک ہی تھا یہ تنہائی تو اک جوئے رواں ہے

مزید پڑھیے

سلیقہ عشق میں میرا بڑے کمال کا تھا

سلیقہ عشق میں میرا بڑے کمال کا تھا کہ اختیار بھی دل پر عجب مثال کا تھا میں اپنے نقش بناتی تھی جس میں بچپن سے وہ آئینہ تو کسی اور خط و خال کا تھا رفو میں کرتی رہی پیرہن کو اور ادھر گماں اسے مرے زخموں کے اندمال کا تھا یہ اور بات کہ اب چشم پوش ہو جائے کبھی تو علم اسے بھی ہمارے حال کا ...

مزید پڑھیے

سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی

سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی ترے لیے تو میں ہر بار ہار ہار گئی کہاں کے خواب کہ آنکھوں سے تیرے لمس کے بعد ہزار رات گئی اور بے شمار گئی میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی کمال کم نگہی ہے یہ اعتبار ترا وہی نگاہ بہت تھی جو دل کے پار گئی عجب ...

مزید پڑھیے

سبب کیا ہے کبھی سمجھی نہیں میں

سبب کیا ہے کبھی سمجھی نہیں میں کہ ٹوٹی تو بہت بکھری نہیں میں رکھی ہے گفتگو اس سے ہر اک پل سخن جس سے کبھی رکھتی نہیں میں یہ چوٹ اپنے ہی ہاتھوں سے لگی ہے کسی کے وار سے زخمی نہیں میں کروں کیوں یاد تیرے خال و خد اب شکستہ آئنے چنتی نہیں میں عجب تھی رہ گزر بھی ہمرہی کی قدم رکھ کر کبھی ...

مزید پڑھیے

چراغ شام ہی تنہا نہیں ہے

چراغ شام ہی تنہا نہیں ہے ہوا میں نے بھی گھر دیکھا نہیں ہے وہ بادل ہے مگر اس دشت جاں پر ابھی دل کھول کر برسا نہیں ہے محبت اک حصار بے نشاں ہے لہو میں دائرہ بنتا نہیں ہے بکھرتی جا رہی ہوں اور خوش ہوں سمٹنے میں کوئی سچا نہیں ہے خوشا اے روئے شاخ سبز تجھ پر سراب آئینہ کھلتا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 733 سے 4657