بات کوئی ایک پل اس کے دھیان کے آنے کی تھی
بات کوئی ایک پل اس کے دھیان کے آنے کی تھی پھر یہ میٹھی نیند اس کے زہر بن جانے کی تھی آنکھ ہو اوجھل تو پھر کہسار بھی اوجھل ہیں سب اک یہی صورت ترے دکھ درد بہلانے کی تھی دور تک پھیلے ہوئے پانی پہ ناؤ تھی کہاں یہ کہانی آئنوں پر عکس لہرانے کی تھی ڈھونڈھتی تھیں شام کا پہلا ستارہ ...