شاعری

بات کوئی ایک پل اس کے دھیان کے آنے کی تھی

بات کوئی ایک پل اس کے دھیان کے آنے کی تھی پھر یہ میٹھی نیند اس کے زہر بن جانے کی تھی آنکھ ہو اوجھل تو پھر کہسار بھی اوجھل ہیں سب اک یہی صورت ترے دکھ درد بہلانے کی تھی دور تک پھیلے ہوئے پانی پہ ناؤ تھی کہاں یہ کہانی آئنوں پر عکس لہرانے کی تھی ڈھونڈھتی تھیں شام کا پہلا ستارہ ...

مزید پڑھیے

احساس تو مجھی پہ کر رہی ہے

احساس تو مجھی پہ کر رہی ہے چھوکر جو ہوا گزر رہی ہے جس نے مجھے شاخ پر نہ چاہا خوشبو مری اس کے گھر رہی ہے بے سمتیٔ اشک کی ندامت اس بار بھی ہم سفر رہی ہے ٹھہرا ہے وہ جب سے رہ گزر میں مٹی مری رقص کر رہی ہے چپکے سے گھڑی گھڑی مسافرت کی دہلیز پہ پاؤں دھر رہی ہے تارے بھی نظر نہ آئیں گھر ...

مزید پڑھیے

جب گھر ہی جدا جدا رہے گا

جب گھر ہی جدا جدا رہے گا پھر ہاتھ میں ہاتھ کیا رہے گا وہ میرے خیال کا شجر ہے آنکھوں میں ہرا بھرا رہے گا مہمان وہ خال و خد رہیں گے جب تک مرا شب کدہ رہے گا رشتہ مرے ساحل نفس سے اس موج سراب کا رہے گا وہ حرف جو اس نے لکھ دیا ہے تا عمر یوں ہی لکھا رہے گا اے معجزۂ ہوا سنا دے وہ مجھ میں ...

مزید پڑھیے

کنج دل میں ہے جو ملال اچھال

کنج دل میں ہے جو ملال اچھال روشنی کے کنول اچھال اچھال ڈھال تو اپنے مہر و ماہ و نجوم دن اچھال اپنے ماہ و سال اچھال بے سپر ہے یہ میری تنہائی اے مری جان اپنی ڈھال اچھال اپنی آسودگیٔ جاں کے لئے میرے حصے میں کچھ وبال اچھال ہو کوئی شعر شعر شور انگیز فکر کوئی کوئی خیال اچھال جو تجھے ...

مزید پڑھیے

سوچ رہا ہے اتنا کیوں اے دست بے تاخیر نکال

سوچ رہا ہے اتنا کیوں اے دست بے تاخیر نکال تو نے اپنے ترکش میں جو رکھا ہے وہ تیر نکال جس کا کچھ انجام نہیں وہ جنگ ہے دو نقادوں کی لفظوں کی سفاک سنانیں لہجوں کی شمشیر نکال آشوب تخریب سا کچھ اس اندام تخلیق میں ہے توڑ مرے دیوار و در کو ایک نئی تعمیر نکال چاند ستاروں کی کھیتی کر رات ...

مزید پڑھیے

بھر گئے زخم تو کیا درد تو اب بھی کوئی ہے

بھر گئے زخم تو کیا درد تو اب بھی کوئی ہے آنکھ روتی ہے تو رونے کا سبب بھی کوئی ہے پی گئی یہ مری تنہائی مرے دل کا لہو قطرۂ اشک پہ یہ جشن طرب بھی کوئی ہے موت سے تلخ ہے شاید تری رحمت کا عذاب جس کو کہتے ہیں غضب ایسا غضب بھی کوئی ہے روز گلشن میں یہی پوچھتی پھرتی ہے صبا تیرے پھولوں میں ...

مزید پڑھیے

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا جو زخم بھی ملا ہے اسی تیر سے ملا تجھ کو خبر بھی ہے مرے انکار کا جواب تیغ و سنان و خنجر و شمشیر سے ملا گم ہو گیا تھا میں کہیں دشت وجود میں میں اپنے اسم ذات کی تسخیر سے ملا ملنے کی کچھ خوشی نہ بچھڑنے کا خوف ہے اے مری جان تو بڑی تاخیر سے ملا اے رمز ...

مزید پڑھیے

اڑتا ہوا اک بادل تھا

اڑتا ہوا اک بادل تھا یا پھر تیرا آنچل تھا چیخ رہا تھا سڑکوں پر شاید وہ بھی پاگل تھا اب تو گندہ نالا ہوں پہلے میں گنگا جل تھا آبادی سے دور بہت ہرا بھرا اک جنگل تھا میرے جسم کے اندر ہی شاید میرا قاتل تھا

مزید پڑھیے

غموں کی رات ہے اور اتنی مختصر بھی نہیں

غموں کی رات ہے اور اتنی مختصر بھی نہیں بہت دنوں سے تمہاری کوئی خبر بھی نہیں اے شہر دل تری گلیوں میں خاک اڑتی ہے یہ کیا ہوا کہ یہاں کوئی نوحہ گر بھی نہیں تو میرے ساتھ نہیں ہے تو سوچتا ہوں میں کہ اب تو تجھ سے بچھڑنے کا کوئی ڈر بھی نہیں میں اپنا درد کسی اور سے کہوں کیسے مرے بدن پہ ...

مزید پڑھیے

عکس آئینہ خانہ سے الگ رکھا ہے

عکس آئینہ خانہ سے الگ رکھا ہے وحشت ذات کو صحرا سے الگ رکھا ہے خود کو میں خود سے بھی ملنے نہیں دیتا ہرگز اپنی دنیا کو بھی دنیا سے الگ رکھا ہے میں کہاں ساعت امروز میں رہنے والا میں نے ہر روز کو فردا سے الگ رکھا ہے دو محاذوں پہ ابھی معرکہ آرائی ہے خیمۂ صبر کو دجلہ سے الگ رکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 734 سے 4657