شاعری

یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہے

یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہے ترے بغیر بھی یہ رات ڈھلتی جاتی ہے اس اک افق پہ ابھی تک ہے اعتبار مجھے مگر نگاہ مناظر بدلتی جاتی ہے چہار سمت سے گھیرا ہے تیز آندھی نے کسی چراغ کی لو پھر بھی جلتی جاتی ہے میں اپنے جسم کی سرگوشیوں کو سنتا ہوں ترے وصال کی ساعت نکلتی جاتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے دل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے پتھر کی طرح بے حس و بے جان سا کیوں ہے تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو تا حد نظر ایک بیابان سا کیوں ہے ہم نے تو کوئی بات نکالی نہیں غم کی وہ زود پشیمان پشیمان سا ...

مزید پڑھیے

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو سیاہ رات نے بے حال کر دیا مجھ کو کہ طول دے نہیں پایا کسی کہانی کو بجائے میرے کسی اور کا تقرر ہو قبول جو کرے خوابوں کی پاسبانی کو اماں کی جا مجھے اے شہر تو نے دی تو ہے بھلا نہ پاؤں گا صحرا کی بیکرانی کو جو ...

مزید پڑھیے

پیٹ کی آگ بجھانے کا سبب کر رہے ہیں

پیٹ کی آگ بجھانے کا سبب کر رہے ہیں اس زمانے کے کئی میر مطب کر رہے ہیں کوئی ہمدرد بھرے شہر میں باقی ہو تو ہو اس کڑے وقت میں گمراہ تو سب کر رہے ہیں کہیں خطرے میں نہ پڑ جائے بزرگی اپنی لوگ اس خوف سے چھوٹوں کا ادب کر رہے ہیں سب لفافے کی حصولی کے لیے ہو رہا ہے ہم جو یہ شغل جو یہ کار ادب ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی خواب کمایا نہ آنکھ خالی ہوئی

نہ کوئی خواب کمایا نہ آنکھ خالی ہوئی تمہارے ساتھ ہماری بھی رات کالی ہوئی خدا کا شکر ادا کر وہ بے وفا نکلا خوشی منا کہ تری جان کی بحالی ہوئی ذرا سے خواب بنے تھے کہ سانس پھول گئی قدم دکاں پہ رکھا تھا کہ جیب خالی ہوئی وفا کے بارے میں لوگوں کی رائے ٹھیک نہیں برادری سے یہ خاتون ہے ...

مزید پڑھیے

تم شجاعت کے کہاں قصے سنانے لگ گئے

تم شجاعت کے کہاں قصے سنانے لگ گئے جیتنے آئے تھے جو دنیا ٹھکانے لگ گئے اڑ رہی ہے شہر کے سارے گلی کوچوں میں خاک جتنے عاشق تھے وہ سب کھانے کمانے لگ گئے رینگتی کاریں ابلتی بھیڑ بے بس راستے کل مجھے گھر تک پہنچنے میں زمانے لگ گئے اس نے ہم پر اک محبت کی نظر کیا ڈال دی ہاتھ جیسے ہم ...

مزید پڑھیے

ساتھ غربت میں کوئی غیر نہ اپنا نکلا

ساتھ غربت میں کوئی غیر نہ اپنا نکلا میں فقط درد کے صحرا میں اکیلا نکلا میں نے مانگی تھی شب غم کے گزرنے کی دعا اور مرے گھر سے بہت دور اجالا نکلا کوئی چہرہ نہ کوئی عکس نظر آتا ہے اپنی تقدیر کا آئینہ بھی اندھا نکلا زندگی کس سے اب امید مداوا رکھے دشمن جاں تو مرا اپنا مسیحا نکلا وہ ...

مزید پڑھیے

دامن ضبط کو اشکوں میں بھگو لیتا ہوں

دامن ضبط کو اشکوں میں بھگو لیتا ہوں درد جب حد سے گزرتا ہے تو رو لیتا ہوں آنکھ لگتی ہی نہیں نیند کہاں سے آئے نیند آتی نہیں کہنے کو تو سو لیتا ہوں جب نہیں ملتا انیس غم فرقت کوئی رکھ کے تصویر تری سامنے رو لیتا ہوں اب تری یاد ہی تسکین دل و جاں ہے مجھے اب ترے درد کے بستر پہ بھی سو لیتا ...

مزید پڑھیے

تو نہ آیا تری یادوں کی ہوا تو آئی

تو نہ آیا تری یادوں کی ہوا تو آئی دل کے تپتے ہوئے صحرا پہ گھٹا تو آئی میں تو سمجھا تھا کہ اب کوئی نہ اپنا ہوگا تیرے کوچے سے مگر ہو کے صبا تو آئی میرے مرنے کی سہی جاں سے گزرنے کی سہی میرے حق میں تیرے ہونٹوں پہ دعا تو آئی دل دہی کا جو سلیقہ نہیں آیا نہ سہی آپ کو دل کے دکھانے کی ادا ...

مزید پڑھیے

کہانی میں چھوٹا سا کردار ہے

کہانی میں چھوٹا سا کردار ہے ہمارا مگر ایک معیار ہے خدا تجھ کو سننے کی توفیق دے مری خامشی میرا اظہار ہے یہ کیسے علاقے میں ہم آ بسے گھروں سے نکلتے ہی بازار ہے سیاست کے چہرے پہ رونق نہیں یہ عورت ہمیشہ کی بیمار ہے حقیقت کا اک شائبہ تک نہیں تمہاری کہانی مزے دار ہے تعلق کی تجہیز و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 719 سے 4657