یہ تری خلق نوازی کا تقاضہ بھی نہیں
یہ تری خلق نوازی کا تقاضہ بھی نہیں کہیں دریا ہے رواں اور کہیں قطرہ بھی نہیں اپنے آقاؤں کے عیبوں کو محاسن سمجھے اتنی پابند عقیدت تو رعایا بھی نہیں اختیارات سے حق تک ہیں زبانی باتیں دستخط کیا کسی کاغذ پہ انگوٹھا بھی نہیں کوئی امکان نہیں ہے کسی خوش فہمی کا چارہ گر تم ہو تو پھر ...