شاعری

یہ تری خلق نوازی کا تقاضہ بھی نہیں

یہ تری خلق نوازی کا تقاضہ بھی نہیں کہیں دریا ہے رواں اور کہیں قطرہ بھی نہیں اپنے آقاؤں کے عیبوں کو محاسن سمجھے اتنی پابند عقیدت تو رعایا بھی نہیں اختیارات سے حق تک ہیں زبانی باتیں دستخط کیا کسی کاغذ پہ انگوٹھا بھی نہیں کوئی امکان نہیں ہے کسی خوش فہمی کا چارہ گر تم ہو تو پھر ...

مزید پڑھیے

سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے

سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے پرندہ آشیانہ چاہتا ہے کوئی اسکول کی گھنٹی بجا دے یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے اسے رشتے تھما دیتی ہے دنیا جو دو پیسے کمانا چاہتا ہے یہاں سانسوں کے لالے پڑ رہے ہیں وہ پاگل زہر کھانا چاہتا ہے جسے بھی ڈوبنا ہو ڈوب جائے سمندر سوکھ جانا چاہتا ہے ہمارا حق دبا ...

مزید پڑھیے

اگر ہمارے ہی دل میں ٹھکانا چاہئے تھا

اگر ہمارے ہی دل میں ٹھکانا چاہئے تھا تو پھر تجھے ذرا پہلے بتانا چاہئے تھا چلو ہمی سہی ساری برائیوں کا سبب مگر تجھے بھی ذرا سا نبھانا چاہئے تھا اگر نصیب میں تاریکیاں ہی لکھی تھیں تو پھر چراغ ہوا میں جلانا چاہئے تھا محبتوں کو چھپاتے ہو بزدلوں کی طرح یہ اشتہار گلی میں لگانا ...

مزید پڑھیے

مسئلہ ختم ہوا چاہتا ہے

مسئلہ ختم ہوا چاہتا ہے دل بس اب زخم نیا چاہتا ہے کب تلک لوگ اندھیرے میں رہیں اب یہ ماحول دیا چاہتا ہے مسئلہ میرے تحفظ کا نہیں شہر کا شہر خدا چاہتا ہے میری تنہائیاں لب مانگتی ہیں میرا دروازہ صدا چاہتا ہے گھر کو جاتے ہوئے شرم آتی ہے رات کا ایک بجا چاہتا ہے

مزید پڑھیے

دکھوں میں اس کے اضافہ بھی میں ہی کرتا ہوں

دکھوں میں اس کے اضافہ بھی میں ہی کرتا ہوں اور اس کمی کا ازالہ بھی میں ہی کرتا ہوں ذرا بہت مری جھنجھلاہٹیں بھی جائز ہیں کہ مدح صاحب والا بھی میں ہی کرتا ہوں خوشی کے خواب سجاتا ضرور ہوں لیکن صف ملال کو سیدھا بھی میں ہی کرتا ہوں نہ اپنے فعل کا غم ہے نہ اپنے قول کا دکھ نباہتا ہوں تو ...

مزید پڑھیے

الٹے سیدھے سپنے پالے بیٹھے ہیں

الٹے سیدھے سپنے پالے بیٹھے ہیں سب پانی میں کانٹا ڈالے بیٹھے ہیں اک بیمار وصیت کرنے والا ہے رشتے ناطے جیبھ نکالے بیٹھے ہیں بستی کا معمول پہ آنا مشکل ہے چوراہے پر وردی والے بیٹھے ہیں دھاگے پر لٹکی ہے عزت لوگوں کی سب اپنی دستار سنبھالے بیٹھے ہیں صاحبزادہ پچھلی رات سے غائب ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ آئیں جنہیں حوصلہ زیادہ ہے

وہ لوگ آئیں جنہیں حوصلہ زیادہ ہے غزل میں خون کا مصرف ذرا زیادہ ہے سب اپنے آپ کو دہرا رہے ہیں رہ رہ کر وہ اس لیے کہ پڑھا کم لکھا زیادہ ہے یہ سچ ہے کوئی فرشتہ نہیں مرے اندر مگر خطا کی بہ نسبت سزا زیادہ ہے مرا خمار اتر جائے تو یہ فیصلہ ہو تری شراب میں کیا کم ہے کیا زیادہ ہے غزل اسی ...

مزید پڑھیے

دلوں کے مابین شک کی دیوار ہو رہی ہے

دلوں کے مابین شک کی دیوار ہو رہی ہے تو کیا جدائی کی راہ ہموار ہو رہی ہے ذرا سا مجھ کو بھی تجربہ کم ہے راستے کا ذرا سی تیری بھی تیز رفتار ہو رہی ہے ادھر سے بھی جو چاہیے تھا نہیں ملا ہے ادھر ہماری بھی عمر بے کار ہو رہی ہے شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ سو اپنے رستے میں دھوپ ...

مزید پڑھیے

سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے

سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے یہ تکلف ہے کہ جذبات کی پامالی ہے آسمانوں سے اترنے کا ارادا ہو تو سن شاخ پر ایک پرندے کی جگہ خالی ہے جس کی آنکھوں میں شرارت تھی وہ محبوبہ تھی یہ جو مجبور سی عورت ہے یہ گھر والی ہے رات بے لطف ہے پرہیز کے سالن کی طرح دن بھکاری کے کٹورے کی طرح ...

مزید پڑھیے

جھوٹ سچائی کا حصہ ہو گیا

جھوٹ سچائی کا حصہ ہو گیا اک طرح سے یہ بھی اچھا ہو گیا اس نے اک جادو بھری تقریر کی قوم کا نقصان پورا ہو گیا شہر میں دو چار کمبل بانٹ کر وہ سمجھتا ہے مسیحا ہو گیا یہ تیری آواز نم کیوں ہو گئی غمزدہ میں تھا تجھے کیا ہو گیا بے وفائی آ گئی چوپال تک گاؤں لیکن شہر جیسا ہو گیا سچ بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 720 سے 4657