شاعری

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں یہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں بہت مدت ہوئی یہ آرزو کرتے ہوئے ہم کو کبھی منظر کہیں ہم کوئی ان دیکھا ہوا دیکھیں سکوت شام سے پہلے کی منزل سخت ہوتی ہے کہو لوگوں سے سورج کو نہ یوں ڈھلتا ہوا دیکھیں ہوائیں بادباں کھولیں لہو ...

مزید پڑھیے

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں دور دور تک چبھتی ہے سوئیوں کی طرح جب رگوں میں رات وہ کھردری چٹانیں وہ دریا وہ آبشار سب کچھ سمیٹ لے گئی اپنے پروں میں رات آنکھوں کو سب کی نیند بھی دی خواب بھی دیے ہم کو شمار ...

مزید پڑھیے

ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے

ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے اگر چراغ کسی کو جلانا ہوتا ہے زبانی دعوے بہت لوگ کرتے رہتے ہیں جنوں کے کام کو کر کے دکھانا ہوتا ہے ہمارے شہر میں یہ کون اجنبی آیا کہ روز خواب سفر پہ روانہ ہوتا ہے کہ تو بھی یاد نہیں آتا یہ تو ہونا تھا گئے دنوں کو سبھی کو بھلانا ہوتا ہے اسی امید ...

مزید پڑھیے

وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے

وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے مگر ہمیں تو وہی ایک شخص بھاتا ہے نہ خوش گمان ہو اس پر تو اے دل سادہ سبھی کو دیکھ کے وہ شوخ مسکراتا ہے جگہ جو دل میں نہیں ہے مرے لیے نہ سہی مگر یہ کیا کہ بھری بزم سے اٹھاتا ہے ترے کرم کی یہی یادگار باقی ہے یہ ایک داغ جو اس دل میں جگمگاتا ہے عجیب ...

مزید پڑھیے

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے پھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھے رات کا وقت ہے سورج ہے مرا راہنما دیر سے دور سے یہ کون بلاتا ہے مجھے میری ان آنکھوں کو خوابوں سے پشیمانی ہے نیند کے نام سے جو ہول سا آتا ہے مجھے تیرا منکر نہیں اے وقت مگر دیکھنا ہے بچھڑے لوگوں سے ...

مزید پڑھیے

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا غیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیا نکلا تھا میں صدائے جرس کی تلاش میں دھوکے سے اس سکوت کے صحرا میں آ گیا کیوں آج اس کا ذکر مجھے خوش نہ کر سکا کیوں آج اس کا نام مرا دل دکھا گیا میں جسم کے حصار میں محصور ہوں ابھی وہ روح کی حدوں سے بھی آگے چلا ...

مزید پڑھیے

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگی دل میں امید تو کافی ہے یقیں کچھ کم ہے اب جدھر دیکھیے لگتا ہے کہ اس دنیا میں کہیں کچھ چیز زیادہ ہے ...

مزید پڑھیے

نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے

نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے نہ آئے نیند تو آنکھوں کو کیا خماری لگے خوشی نہیں تھی تو غم سے نباہ کر لیتے کسی کے ساتھ طبیعت مگر ہماری لگے کوئی نہ ہو کبھی احباب کے کرم کا شکار مری طرح نہ کسی دل پہ زخم کاری لگے ہمیں تڑپتا ہوا غم میں چھوڑنے والے خدا کرے کہ تجھے زندگی ہماری ...

مزید پڑھیے

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا سمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگا اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا خوش فہمی ابھی تک تھی یہی کار جنوں میں جو میں نہیں کر پایا کسی سے نہیں ہوگا تدبیر نئی سوچ کوئی اے دل سادہ مائل بہ کرم تجھ پہ وہ ایسے نہیں ...

مزید پڑھیے

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے سب کا احوال وہی ہے جو ہمارا ہے آج یہ الگ بات کہ شکوہ کیا تنہا ہم نے خود پشیمان ہوئے نے اسے شرمندہ کیا عشق کی وضع کو کیا خوب نبھایا ہم نے کون سا قہر یہ آنکھوں پہ ہوا ہے نازل ایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 718 سے 4657