شاعری

عمر جتنی بھی کٹی اس کے بھروسے پہ کٹی (ردیف .. ا)

عمر جتنی بھی کٹی اس کے بھروسے پہ کٹی اور اب سوچتا ہوں اس کا بھروسہ کیا تھا تم نے اچھا کیا دامن کو بچا کر گزرے ہم تو بس راہ کی مٹی تھے ہمارا کیا تھا اس لیے آ کے ترے شہر میں آباد ہوئے ہم کو اس دشت نوردی سے بھی لینا کیا تھا یہ اگر سچ ہے کہ ہم اس سے بچھڑ کر خوش تھے رات دن اس کی طرف ...

مزید پڑھیے

رات کی نیندیں تو پہلے ہی اڑا کر لے گیا

رات کی نیندیں تو پہلے ہی اڑا کر لے گیا رہ گئی تھی آرزو سو وہ بھی آ کر لے گیا دن نکلتے ہی وہ خوابوں کے جزیرے کیا ہوئے صبح کا سورج مری آنکھیں چرا کر لے گیا دور سے دیکھو تو یہ دریا ہے پانی کی لکیر موج میں آیا تو جنگل بھی بہا کر لے گیا اس نے تو ان موتیوں پر خاک بھی ڈالی نہیں آنکھ کی ...

مزید پڑھیے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخر کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے ...

مزید پڑھیے

وہ جا چکا ہے تو کیوں بے قرار اتنے ہو

وہ جا چکا ہے تو کیوں بے قرار اتنے ہو محبت اس سے کرو جس کو بھول سکتے ہو نشان منزل جاں گر نہیں ملا نہ سہی چلو سفر تو کیا ہے کہیں تو پہنچے ہو تمام عمر نہ ملنے کا حوصلہ ہی سہی تم اپنے دل میں کوئی آرزو تو رکھتے ہو سفر بھی تم نے کیا آفتاب کی صورت ابھی تک اپنے ہی نقش قدم پہ چلتے ہو جو ...

مزید پڑھیے

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کو اس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرح وہی ناکردہ گناہی پہ ندامت اس کی کسی ٹھہری ہوئی ساعت کی طرح مہر بہ لب مجھ سے دیکھی نہیں جاتی یہ ...

مزید پڑھیے

ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے

ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے میں کیوں نہ کہوں مجھ سے بھی ہیں خام فرشتے وہ نور ہیں میں خاک ہوں لیکن مرے باعث لیتے نہیں اک لمحہ بھی آرام فرشتے تنہائی میں آ جاتی ہیں حوریں مرے گھر میں چمکاتے ہیں مسجد کے در و بام فرشتے اک میں ہی تو ہوں رات گئے جاگنے والا سو جاتے ہیں بے ہوش سر ...

مزید پڑھیے

دل و نظر پہ ترے بعد کیا نہیں گزرا

دل و نظر پہ ترے بعد کیا نہیں گزرا تجھے گماں کہ کوئی حادثہ نہیں گزرا وہاں وہاں بھی مجھے لے گیا ہے شوق سفر کبھی جہاں سے کوئی قافلہ نہیں گزرا اگرچہ تو بھی نہیں اب دلوں کی دنیا میں مگر یہاں کوئی تیرے سوا نہیں گزرا ہم اب تو اس کو بھی اک حادثہ سمجھتے ہیں خیال تھا کہ کوئی حادثہ نہیں ...

مزید پڑھیے

دل کا برا نہیں مگر شخص عجیب ڈھب کا ہے

دل کا برا نہیں مگر شخص عجیب ڈھب کا ہے مجھ سے ہے خاص دشمنی ویسے تو یار سب کا ہے دوریوں نے مٹا دیے جو بھی تھے قربتوں کے رنج اب مری بات بات میں رنگ تری طلب کا ہے میرے لہو میں تھی رواں جب ترے سانس کی مہک جانے یہ کب کی بات ہے جانے یہ ذکر کب کا ہے ایک ذرا سی بات پر بدلی تھی جب تری نظر تجھ ...

مزید پڑھیے

جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی

جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی وہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی اک روپ مرے خواب میں لہرا سا گیا تھا پھر دل میں کوئی چیز سلامت نہیں دیکھی آئینہ تجھے دیکھ کے گل نار ہوا تھا شاید تری آنکھوں نے وہ رنگت نہیں دیکھی یوں نقش ہوا آنکھ کی پتلی پہ وہ چہرہ پھر ہم نے کسی اور کی صورت ...

مزید پڑھیے

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا وہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا میں جا چکا ہوں مرے واسطے اداس نہ ہو میں وہ ہوں تو نے جسے مسکرا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 712 سے 4657