عمر جتنی بھی کٹی اس کے بھروسے پہ کٹی (ردیف .. ا)
عمر جتنی بھی کٹی اس کے بھروسے پہ کٹی اور اب سوچتا ہوں اس کا بھروسہ کیا تھا تم نے اچھا کیا دامن کو بچا کر گزرے ہم تو بس راہ کی مٹی تھے ہمارا کیا تھا اس لیے آ کے ترے شہر میں آباد ہوئے ہم کو اس دشت نوردی سے بھی لینا کیا تھا یہ اگر سچ ہے کہ ہم اس سے بچھڑ کر خوش تھے رات دن اس کی طرف ...