شاعری

بس سلیقے سے ذرا برباد ہونا ہے تمہیں

بس سلیقے سے ذرا برباد ہونا ہے تمہیں اس خرابے میں اگر آباد ہونا ہے تمہیں آشنا تہذیب خاموشی سے ہونا شرط ہے دوستو گر واقعی فریاد ہونا ہے تمہیں وصل کی ساعت تمہارے قرب سے مجھ پر کھلا اک نہ اک دن ہجر کی میعاد ہونا ہے تمہیں عشق کرتے وقت میرے ذہن میں ہرگز نہ تھا شاعری میں اس طرح ایجاد ...

مزید پڑھیے

سن رکھا تھا تجربہ لیکن یہ پہلا تھا مرا

سن رکھا تھا تجربہ لیکن یہ پہلا تھا مرا جب کسی کے نام پر بے وجہ دل دھڑکا مرا اک اچٹتی سی نظر اس پر گئی اور یوں لگا کھو گیا جیسے کہیں حرف تمنا سا مرا عشق میں میں بھی بہت محتاط تھا سب جھوٹ ہے اور یہ ثابت کر گیا کل رات کا رونا مرا ایک حرف حق کی تا نوک زباں آمد مگر مصلحت خاموشی اور ...

مزید پڑھیے

وہ ایک لمحۂ رفتہ بھی کیا بلا لایا

وہ ایک لمحۂ رفتہ بھی کیا بلا لایا طویل قصہ ہے بتلاؤں کیا کہ کیا لایا جہاں کہیں بھی گیا ساتھ تھا غبار حیات کہاں سے خاک پریشاں یہ میں اٹھا لایا مرے نصیب میں تھا عشق جاوداں لکھا وگرنہ کیوں میں تری یاد کو بچا لایا کہیں بھی کچھ بھی بہ ترتیب تھا نہ واضح تھا بس ایک خاکۂ مبہم سا تھا ...

مزید پڑھیے

رگوں میں رات سے یہ خون سا رواں ہے کیا

رگوں میں آج بھی یہ خون سا رواں ہے کیا وہ درد عشق حقیقت میں جاوداں ہے کیا پرند کس لیے کرتے ہیں آشیاں سے کوچ انہیں بھی حاجت یک گوشۂ اماں ہے کیا یہ ہم جو چھوتے ہیں ہر روز چاند تاروں کو ہمارے پاؤں تلے کوئی آسماں ہے کیا ہوا میں کھیل رہا ہے جو ابر کی صورت کسی مکان سے اڑتا ہوا دھواں ہے ...

مزید پڑھیے

وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں

وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں بہت مغرور ہوتے جا رہے ہیں بس اک ترک محبت کے ارادے ہمیں منظور ہوتے جا رہے ہیں مناظر تھے جو فردوس تصور وہ سب مستور ہوتے جا رہے ہیں بدلتی جا رہی ہے دل کی دنیا نئے دستور ہوتے جا رہے ہیں بہت مغموم تھے جو دیدہ و دل بہت مسرور ہوتے جا رہے ہیں وفا پر مردنی ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی دل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئی وائے حیرت کہ بھری محفل میں مجھ کو تنہا نظر آتا ہے کوئی صبح کو خنک فضاؤں کی قسم روز آ آ کے جگاتا ہے کوئی منظر حسن دو عالم کے نثار مجھ کو آئینہ دکھاتا ہے کوئی چاہیے خود پہ یقین کامل حوصلہ کس کا بڑھاتا ہے کوئی سب کرشمات ...

مزید پڑھیے

نہ سوچا تھا یہ دل لگانے سے پہلے

نہ سوچا تھا یہ دل لگانے سے پہلے کہ ٹوٹے گا دل مسکرانے سے پہلے امیدوں کا سورج نہ چمکا نہ ڈوبا گہن پڑ گیا جگمگانے سے پہلے اگر غم اٹھانا تھا قسمت میں اپنی خوشی کیوں ملی غم اٹھانے سے پہلے کہو بجلیوں سے نہ دل کو جلائیں مجھے پھونک دیں گھر جلانے سے پہلے

مزید پڑھیے

زندگی کا درد لے کر انقلاب آیا تو کیا

زندگی کا درد لے کر انقلاب آیا تو کیا ایک دوشیزہ پہ غربت میں شباب آیا تو کیا تشنۂ انوار ہے اب تک عروس زندگی بادلوں کی پالکی میں آفتاب آیا تو کیا اب تو آنکھوں پر غم ہستی کے پردے پڑ گئے اب کوئی حسن مجسم بے نقاب آیا تو کیا پھر وہی جہد مسلسل پھر وہی فکر معاش منزل جاناں سے کوئی کامیاب ...

مزید پڑھیے

جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتے

جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتے ہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتے بے قید و رسوم آئی ہیں گلشن میں بہاریں اب ہاتھ گریباں کی طرف جا نہیں سکتے رنگینئ مستقبل روشن ہے نظر میں ہم تلخی ماحول سے گھبرا نہیں سکتے مغرور نہ ہو فضل خزاں آ کے چمن میں ایسے بھی ہیں کچھ پھول جو مرجھا نہیں ...

مزید پڑھیے

اب تک شکایتیں ہیں دل بد نصیب سے

اب تک شکایتیں ہیں دل بد نصیب سے اک دن کسی کو دیکھ لیا تھا قریب سے اکثر بہ زعم ترک محبت خدا گواہ گزرا چلا گیا ہوں دیار حبیب سے دست خزاں نے بڑھ کے وہیں اس کو چن لیا جو پھول گر گیا نگہ عندلیب سے اہل سکوں سے کھیل نہ اے موج انبساط اک دن الجھ کے دیکھ کسی غم نصیب سے نہ اہل ناز کو بھی ملے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 693 سے 4657