کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے ترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں مجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰ ترے دل میں میں ہی میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہے تمہیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں ...