شاعری

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے ترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں مجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰ ترے دل میں میں ہی میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہے تمہیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر زندگی دشوار ہے تیرے بغیر دل کی بے تابی کا عالم کیا کہوں ہر نفس تلوار ہے تیرے بغیر مجمع احباب و ارباب وفا مجمع اغیار ہے تیرے بغیر تجھ سے برہم ہوں کبھی خود سے خفا کچھ عجب رفتار ہے تیرے بغیر زندگی سے موت اک اک گام پر بر سر پیکار ہے تیرے بغیر عالم فرقت ...

مزید پڑھیے

کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارے

کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارے نہ بچا سکیں گے دامن غم زندگی کے مارے شب غم کی تیرگی میں مری آہ کے شرارے کبھی بن گئے ہیں آنسو کبھی بن گئے ہیں تارے نہ خلش رہی وہ مجھ میں نہ کشش رہی وہ مجھ میں جسے زعم عاشقی ہو وہی اب تجھے پکارے جنہیں ہو سکا نہ حاصل کبھی کیف قرب منزل وہی دو قدم ...

مزید پڑھیے

اس درجہ بد گماں ہیں خلوص بشر سے ہم

اس درجہ بد گماں ہیں خلوص بشر سے ہم اپنوں کو دیکھتے ہیں پرائی نظر سے ہم غنچوں سے پیار کر کے یہ عزت ہمیں ملی چومے قدم بہار نے گزرے جدھر سے ہم واللہ تجھ سے ترک تعلق کے بعد بھی اکثر گزر گئے ہیں تری رہگزر سے ہم صدق و صفائے قلب سے محروم ہے حیات کرتے ہیں بندگی بھی جہنم کے ڈر سے ...

مزید پڑھیے

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر وہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر تری گفتگو کو ناصح دل غم زدہ سے جل کر ابھی تک تو سن رہا تھا مگر اب سنبھل سنبھل کر نہ ملا سراغ منزل کبھی عمر بھر کسی کو نظر آ گئی ہے منزل کبھی دو قدم ہی چل کر غم عمر مختصر سے ابھی بے خبر ہیں کلیاں نہ چمن میں ...

مزید پڑھیے

خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیا

خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیا خالی ہی سہی میری طرف جام تو آیا کافی ہے مرے دل کی تسلی کو یہی بات آپ آ نہ سکے آپ کا پیغام تو آیا اپنوں نے نظر پھیری تو دل تو نے دیا ساتھ دنیا میں کوئی دوست مرے کام تو آیا وہ صبح کا احساس ہو یا میری کشش ہو ڈوبا ہوا خورشید لب بام تو آیا لوگ ان سے یہ ...

مزید پڑھیے

تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھے

تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھے بے تابئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے آنکھوں میں چھلکتے ہیں آنسو دل چپکے چپکے روتا ہے وہ بات ہمارے بس کی نہ تھی جس بات کی ہمت کر بیٹھے غم ہم نے خوشی سے مول لیا اس پر بھی ہوئی یہ نادانی جب دل کی امیدیں ٹوٹ گئیں قسمت سے شکایت ...

مزید پڑھیے

بہار آئی کسی کا سامنا کرنے کا وقت آیا

بہار آئی کسی کا سامنا کرنے کا وقت آیا سنبھل اے دل کہ اظہار وفا کرنے کا وقت آیا انہیں آمادۂ مہر و وفا کرنے کا وقت آیا بڑی مدت میں عرض مدعا کرنے کا وقت آیا رواں ہیں اپنے مرکز کی طرف آسودہ امیدیں ہجوم یاس کو دل سے جدا کرنے کا وقت آیا پھر اک گم کردہ راہ زندگی کو مل گئی منزل سجود شکر ...

مزید پڑھیے

شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا

شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا حکم آدم کو ہے جنت سے نکل جانے کا ان سے کچھ کہہ تو رہا ہوں مگر اللہ کرے وہ بھی مفہوم نہ سمجھیں مرے افسانے کا دیکھنا دیکھنا یہ حضرت واعظ ہی نہ ہوں راستہ پوچھ رہا ہے کوئی مے خانہ کا بے تعلق ترے آگے سے گزر جاتا ہے یہ بھی اک حسن طلب ہے ترے دیوانے ...

مزید پڑھیے

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھی دل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے چھپ کے روتا ہوں تری یاد میں دنیا بھر سے کب مری آنکھ سے برسات نہیں ہوتی ہے حال دل پوچھنے والے تری دنیا میں کبھی دن تو ہوتا ہے مگر رات نہیں ہوتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 694 سے 4657