شاعری

وہ شخص بھی ہے عجیب و غریب ڈھونڈھتا ہے

وہ شخص بھی ہے عجیب و غریب ڈھونڈھتا ہے صف رقیب میں ہے اور رقیب ڈھونڈھتا ہے جھلس نہ دے کہیں اس کو بھی آتش مفہوم مری غزل میں وہ ذکر حبیب ڈھونڈھتا ہے اگرچہ ہو گیا بوڑھا وصال کا موسم وہ بوئے یار ابھی بھی قریب ڈھونڈھتا ہے وہ اپنے عہد کا صحرا نورد ہے لیکن شجر کو کاٹ کے اب عندلیب ...

مزید پڑھیے

سیال تصور ہے ابلنے کی طرح کا

سیال تصور ہے ابلنے کی طرح کا اک عکس سے سو عکس میں ڈھلنے کی طرح کا اب سانحۂ ہجر مسلسل کا مزہ بھی ہے آتش تخلیق میں جلنے کی طرح کا سب قید ہوا جاتا ہے تنگنائے غزل میں منظر پس منظر ہے بدلنے کی طرح کا اپنی ہی طرح کا ہے قدم راہ طلب میں گرنے کی طرح کا نہ سنبھلنے کی طرح کا سمجھو کہ قریب آ ...

مزید پڑھیے

لفظ و معنی کے سمندر کا سفر ہیں کچھ لوگ

لفظ و معنی کے سمندر کا سفر ہیں کچھ لوگ یار اس دور میں بھی اہل نظر ہیں کچھ لوگ یہ حقیقت ہے کہ بچوں کی ضرورت کے لیے صورت سلسلۂ گرد سفر ہیں کچھ لوگ ہم نے تو ان سے کبھی حق کے سوا کچھ نہ سنا جرم کیا ان کا ہے کیوں شہر بدر ہیں کچھ لوگ نور چہرے پہ تو باتوں میں مہک ہوتی ہے چاند کا عکس ہیں ...

مزید پڑھیے

غم دیے ہیں تو مسرت کے گہر بھی دینا

غم دیے ہیں تو مسرت کے گہر بھی دینا اے خدا تو مجھے جینے کا ہنر بھی دینا حاکم وقت یہ ہجرت مجھے منظور مگر دم رخصت مجھے سامان سفر بھی دینا اے شب و روز کے مالک مجھے اس دنیا میں لیلۃ القدر کی مانند سحر بھی دینا سن ذرا غور سے سن اے شجر سایہ فگن جب ترے سائے میں پہنچوں تو ثمر بھی ...

مزید پڑھیے

کبھی پا نہیں کبھی پر نہیں

کبھی پا نہیں کبھی پر نہیں رکا پھر بھی اپنا سفر نہیں مجھے منزلوں کی تلاش ہے مری راستوں پہ نظر نہیں مرے ساتھ اب تو چلا نہ کر مرے ساتھ تیرا سفر نہیں مٹا کب ہے کس نے مٹا دیا اسے یہ بھی دیکھو خبر نہیں جسے سن کے آئے سرور سا کسی بات میں وہ اثر نہیں مرے حوصلوں کی بھی داد دے تری محنتوں ...

مزید پڑھیے

ہم مرتبہ نہ سمجھو رتبہ مرا تو جانو

ہم مرتبہ نہ سمجھو رتبہ مرا تو جانو شان زمن رہو تم مجھ کو گدا تو جانو یوں تو نکال دے گا صندل بدن کا کس بل بوسے کی کر دے خواہش پوری موا تو جانو اب سے بھی سیکھ لو تم پاؤں زمیں پہ دھرنا کاغذ قلم اٹھایا تم پر لکھا تو جانو شیشے پہ پا برہنہ چلنا نہیں ہے آساں کرچیں چبھیں تو جانو تلوا ...

مزید پڑھیے

تیرے نالوں سے کوئی بدنام ہوتا جائے گا

تیرے نالوں سے کوئی بدنام ہوتا جائے گا تو بھی اے دل مورد الزام ہوتا جائے گا مطمئن ہوں میں کہ ہو جائے گا سامان سکوں درد بڑھتا جائے گا آرام ہوتا جائے گا وجہ ناکامی نہ ہوں اے دل تری بے صبریاں صبر سے لے کام خود ہر کام ہوتا جائے گا چھوڑ دے اے دل تمنا زندگی کی چھوڑ دے تو ہلاک گردش ایام ...

مزید پڑھیے

جبکہ دشمن ہو راز داں اپنا

جبکہ دشمن ہو راز داں اپنا راز کیوں کر رہے نہاں اپنا عشق میں پھر سکون کیسے ہو دل جب ایسا ہو بد گماں اپنا تھی بہار چمن جوانی پر جبکہ اجڑا تھا آشیاں اپنا ہم مکرر فریب کیا کھائیں لطف رہنے دو مہرباں اپنا کیوں نہ خلوت‌ گزیں رہوں شاکرؔ گزر اس بزم میں کہاں اپنا

مزید پڑھیے

یہ ارض و سما قلزم و صحرا متحرک

یہ ارض و سما قلزم و صحرا متحرک اک تو ہی نہیں شمس ہے دنیا متحرک تا حد نظر اک وہی چہرا متحرک یا حسن مجسم کا ہے جلوا متحرک انسانوں میں اب بوئے وفا ہی نہیں ملتی ہر شخص نظر آتا ہے تنہا متحرک یہ سوچ رہا ہوں اسے کس چیز کا غم ہے رہتی ہے مرے دل میں تمنا متحرک یوں دھوپ سے گھبرا کے میں سائے ...

مزید پڑھیے

زمین تنگ ہے یا رب کہ آسمان ہے تنگ

زمین تنگ ہے یا رب کہ آسمان ہے تنگ یہ کیا کہ بندوں پہ پیہم تیرا جہان ہے تنگ مرے سوال کا کوئی جواب کیا دیتا کہ تیرے شہر میں ہر شخص کی زبان ہے تنگ کروں تو کیسے کروں حرف مدعا آغاز غزل کے واسطے لفظوں کا آسمان ہے تنگ فضا میں اڑتے پرندے کی خیر ہو یا رب کہ اس کا تیر بڑا ہے مگر کمان ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 665 سے 4657