شاعری

مشتعل ہو گیا وہ غنچہ دہن دانستہ

مشتعل ہو گیا وہ غنچہ دہن دانستہ آ گئی لفظوں میں کیوں اس کے چبھن دانستہ جب بھی لایا ہے وہ ماتھے پہ شکن دانستہ یوں لگا جیسے ہوا چاند گہن دانستہ ٹھیس لگتی ہے انا کو تو برس پڑتے ہیں لب کشا ہوتے نہیں اہل سخن دانستہ سربلندی ہمیں منظور تھی حق کی خاطر اس لیے چوم لیے دار و رسن ...

مزید پڑھیے

جب تک تجھ کو موت نہ آئے کر لے رین بسیرا بابا

جب تک تجھ کو موت نہ آئے کر لے رین بسیرا بابا آتی جاتی اس دنیا میں کیا میرا کیا تیرا بابا گاؤں میں سندھیا ہو کے یہ کیا ہے بند ہوئے ہیں سب دروازے بیری جگ میں تاک میں ہے اب ایک اک سائیں لٹیرا بابا ایک سیاسی چال کی خاطر کتنا بھیانک قتل ہوا ہے پورب پچھم اتر دکھن نکلا سرخ سویرا ...

مزید پڑھیے

بے پردہ اس کا چہرۂ پر نور تو ہوا

بے پردہ اس کا چہرۂ پر نور تو ہوا کچھ دیر شعبدہ سا سر طور تو ہوا اچھا کیا کہ میں نے کیا ترک آرزو بے صبر دل کو صبر کا مقدور تو ہوا گو اس میں اب نہیں ہیں لڑکپن کی شوخیاں لیکن شباب آنے سے مغرور تو ہوا اب اور التفات سے مقصد ہے کیا ترا بس اے نگاہ مست کہ میں چور تو ہوا تم نے اگر سنا نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ جو ہر دم مرے خیال میں ہے

وہ جو ہر دم مرے خیال میں ہے جانے کس پردۂ جمال میں ہے چاہتے ہو تو ٹوٹ کر چاہو خود جواب آپ کے سوال میں ہے ہاں مرا فن کمال کو پہونچا زیست لیکن مری زوال میں ہے فکر کیا سرخ رو ہو یا ٹوٹے دل مرا ان کی دیکھ بھال میں ہے کیا ضروری ہے ہم جواب ہی دیں ایک تلوار چپ کی ڈھال میں ہے ان کو فرصت ...

مزید پڑھیے

شوخ معصوم سی الہڑ وہ کنواری باتیں

شوخ معصوم سی الہڑ وہ کنواری باتیں یاد آتی ہیں مجھے آپ کی پیاری باتیں ناز سے روٹھنا پھر ان کا منانا مجھ کو یاد آنے لگیں رہ رہ کے وہ ساری باتیں آستیں اپنے ہی اشکوں سے بھگو ڈالوگے یاد آئیں گی تمہیں جب بھی ہماری باتیں کی خطا تم نے کہ ہم نے اسے کل سوچیں گے آج کی رات تو یہ چھوڑیئے ...

مزید پڑھیے

دست قاتل میں یہ شمشیر کہاں سے آئی

دست قاتل میں یہ شمشیر کہاں سے آئی ناز کرتی مری تقدیر کہاں سے آئی چاندنی سینے میں اتری ہی چلی جاتی ہے چاند میں آپ کی تصویر کہاں سے آئی اپنی پلکوں پہ سجا لائی ہے کس کے جلوے زندگی تجھ میں یہ تنویر کہاں سے آئی ہو نہ ہو اس میں چمن والوں کی سازش ہے کوئی پھول کے ہاتھ میں شمشیر کہاں سے ...

مزید پڑھیے

روز شام ہوتی ہے روز ہم سنورتے ہیں

روز شام ہوتی ہے روز ہم سنورتے ہیں پھول سیج کے یوں ہی سوکھتے بکھرتے ہیں دل کو توڑنے والے تو کہیں نہ رسوا ہو خیر تیرے دامن کی چشم تر سے ڈرتے ہیں صبح ٹوٹ جاتا ہے آئینہ تصور کا رات بھر ستاروں سے اپنی مانگ بھرتے ہیں زور اور کیا چلتا فصل گل میں کیا کرتے بس یہی کہ دامن کو تار تار کرتے ...

مزید پڑھیے

جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا

جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا آفت کے وقت وہ بھی تماشائیوں میں تھا اس کا علاج کوئی مسیحا نہ کر سکا جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا وہ تھے بہت قریب تو تھی گرمئ حیات شعلہ ہجوم شوق کا پروائیوں میں تھا کوئی بھی ساز ان کی تڑپ کو نہ پا سکا وہ سوز وہ گداز جو شہنائیوں میں ...

مزید پڑھیے

گرد مجنوں لے کے شاید باد صحرا جائے ہے

گرد مجنوں لے کے شاید باد صحرا جائے ہے جانے کس وحشت میں بستی کو بگولہ جائے ہے میں نہ کہتا تھا کہ لازم ہے نگہ بھر فاصلہ جب بہت نزدیک ہو تو عکس دھندلا جائے ہے کیا کروں اے تشنگی تیرا مداوا بس وہ لب جن لبوں کو چھو کے پانی آگ بنتا جائے ہے خوف کا مفہوم پہلی بار سمجھا عشق میں بات ہوتی ...

مزید پڑھیے

جز نہال آرزو سینے میں کیا رکھتا ہوں میں

جز نہال آرزو سینے میں کیا رکھتا ہوں میں کوئی بھی موسم ہو یہ پودا ہرا رکھتا ہوں میں ورنہ کیا بندھن ہے ہم میں کون سی زنجیر ہے بس یونہی تجھ پر مری جاں مان سا رکھتا ہوں میں کار دنیا کو بھی کار عشق میں شامل سمجھ اس لیے اے زندگی تیری پتہ رکھتا ہوں میں میں کسی مشکل میں تجھ کو دیکھ سکتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 666 سے 4657