مشتعل ہو گیا وہ غنچہ دہن دانستہ
مشتعل ہو گیا وہ غنچہ دہن دانستہ آ گئی لفظوں میں کیوں اس کے چبھن دانستہ جب بھی لایا ہے وہ ماتھے پہ شکن دانستہ یوں لگا جیسے ہوا چاند گہن دانستہ ٹھیس لگتی ہے انا کو تو برس پڑتے ہیں لب کشا ہوتے نہیں اہل سخن دانستہ سربلندی ہمیں منظور تھی حق کی خاطر اس لیے چوم لیے دار و رسن ...