شاعری

یہ گھر جو ہمارے لیے اب دشت جنوں ہے

یہ گھر جو ہمارے لیے اب دشت جنوں ہے آباد بھی رہتا تھا کبھی اپنوں کے دم سے سو بار اسی طرح میں مر مر کے جیا ہوں دیرینہ تعلق ہے مرا مقتل غم سے یہ جینا بھی کیا جینا ہے سر پھوڑنا ٹھہرا قسمت کو ہے جب واسطہ پتھر کے صنم سے بس اتنا غنیمت رہے ان سے یہ تعلق ہم اپنے کو بدلیں نہ وہ باز آئیں ستم ...

مزید پڑھیے

جو بھی کہنا ہو وہاں میری زبانی کہنا

جو بھی کہنا ہو وہاں میری زبانی کہنا لوگ کچھ بھی کہیں تم آگ کو پانی کہنا آج وہ شخص زمانے میں ہے یکتا کہہ دو جب کوئی دوسرا مل جائے تو ثانی کہنا غم اگر پلکوں پہ تھم جائے تو آنسو کہیو اور بہہ جائے تو موجوں کی روانی کہنا جتنا جی چاہے اسے آج حقیقت کہہ لو کل اسے میری طرح تم بھی کہانی ...

مزید پڑھیے

اندھیری شب ہے کہاں روٹھ کر وہ جائے گا

اندھیری شب ہے کہاں روٹھ کر وہ جائے گا کھلا رہے گا اگر در تو لوٹ آئے گا جو ہو سکے تو اسے خط ضرور لکھا کر تجھے وہ میری طرح ورنہ بھول جائے گا بہت دبیز ہوئی جا رہی ہے گرد ملال نہ جانے کب یہ دھلے گی وہ کب رلائے گا لگے ہوئے ہیں نگاہوں کے ہر جگہ پہرے کہاں متاع سکوں جا کے تو چھپائے ...

مزید پڑھیے

کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے

کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے سنا ہے ذکر ہمارا بھی داستان میں ہے اسی نے دھوپ میں چلنے کی جیت لی بازی وہ ایک شخص جو مدت سے سائبان میں ہے زمیں کو جو بھی اگانا ہے وہ اگائے گی مجھے پتہ ہے مرا رزق آسمان میں ہے وہ لوٹ آئے تو اپنی بھی کچھ خبر دوں گا مرے لہو کا پرندہ ابھی اڑان میں ...

مزید پڑھیے

زندگی ہنستی ہے صبح و شام تیرے شہر میں

زندگی ہنستی ہے صبح و شام تیرے شہر میں عام ہے دور مئے گلفام تیرے شہر میں کس قدر مشہور ہیں وہ لوگ جو ہیں بوالہوس اور اک ہم ہیں کہ ہیں بدنام تیرے شہر میں کوئی سودائی کوئی کہتا ہے دیوانہ مجھے روز ملتا ہے نیا اک نام تیرے شہر میں ہم جنون عشق کے با وصف بھی ہشیار ہیں صبح تیرے شہر میں ...

مزید پڑھیے

کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب

کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب حسن کس کا ہے جو بکھرا ہے مرے دل کے قریب نا خدا تیرے حوالے ہے سفینہ دل کا ڈوب جائے نہ کہیں آ کے یہ ساحل کے قریب پیشوائی کو چلی جاتی ہے خود ہی منزل ہے تھکا ماندہ مسافر کوئی منزل کے قریب کوئی گزرا ہے دبے پاؤں یہ شہر دل سے کس کی آہٹ سی یہ محسوس ...

مزید پڑھیے

آنکھیں غم فراق سے ہیں تر ادھر ادھر

آنکھیں غم فراق سے ہیں تر ادھر ادھر غم کا اثر ہے آج برابر ادھر ادھر تھے جو وفا شعار وہ نذر ستم ہوئے اب کس کو ڈھونڈھتا ہے ستم گر ادھر ادھر محفل میں تیرے حسن پہ قربان ہوگا کون دیوانے چل دیے جو نکل کر ادھر ادھر ساقی کے ساتھ رونق مے خانہ بھی گئی ٹوٹے پڑے ہیں شیشہ و ساغر ادھر ...

مزید پڑھیے

جو ہو سکے تو کبھی قید جسم و جاں سے نکل

جو ہو سکے تو کبھی قید جسم و جاں سے نکل یہاں سے میں بھی نکلتا ہوں تو وہاں سے نکل ادھر ادھر سے نکلنا بہت ہی مشکل ہے بڑھے گی بھیڑ ابھی اور درمیاں سے نکل زمیں بھی تیری ہے مالک غلام بھی تیرے کبھی تو میرے خدا اپنے آسماں سے نکل ازل سے دشت جنوں تیرے انتظار میں ہے قبائے آگہی اب پھینک دے ...

مزید پڑھیے

شرمیلی چھوئی موئی عجب موہنی سی تھی

شرمیلی چھوئی موئی عجب موہنی سی تھی ندی یہ گاؤں میں تھی تو کتنی بھلی سی تھی صحرا بھی تھا اداس سمندر بھی تھا خموش لیکن وہی جنوں وہی دیوانگی سی تھی پانی کے انتظار میں خالی گھڑے کے پاس کچھ شوخ شوخ رنگ تھے کچھ دل کشی سی تھی سوکھی ہوئی ندی کو سمندر کی تھی تلاش اس خواہش فضول میں کیا ...

مزید پڑھیے

مرے ہاتھ کی سب دعا لے گیا

مرے ہاتھ کی سب دعا لے گیا وہ کیا لینے آیا تھا کیا لے گیا فقط رو رہا ہوں کسے یاد ہے کوئی چھین کر مجھ سے کیا لے گیا کہ جب شہر میں کچھ نہ باقی بچا سمندر مجھے بھی بلا لے گیا اگر کھو گئی کوئی شے بھی تو کیا بچا کر وہ اپنی انا لے گیا شمیمؔ اس کے جانے کا کچھ غم نہیں مگر بیچ کا راستہ لے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 656 سے 4657