پردۂ رخ کیا اٹھا ہر سو اجالے ہو گئے
پردۂ رخ کیا اٹھا ہر سو اجالے ہو گئے سب اندھیرے دامن شب کے حوالے ہو گئے میں نے جب چاہا کہ ہوں سیراب دل کی حسرتیں سارے لمحے زندگی کے خشک پیالے ہو گئے بغض و نفرت کے دھویں سے گھٹ رہے تھے سب کے دم جل گئیں جب پیار کی شمعیں اجالے ہو گئے حسرتوں کو منزلیں مل جائیں ممکن ہی نہیں خواہشوں ...