شاعری

نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے

نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے یہ کلہڑ کوئی جام جم نہیں ہے وہ روئے خشمگیں کچھ کم نہیں ہے نہ ہو گر ہاتھ میں بلم نہیں ہے بس اک بہر بنی آدم نہیں ہے جہاں میں ورنہ گیہوں کم نہیں ہے نقاب الٹی ہے یہ کہہ کر کسی نے کہ اب تو کوئی نامحرم نہیں ہے ہزاروں چاہنے والے ہیں ان کے کم ان کی آج کل ...

مزید پڑھیے

خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ

خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ کانپتے ہاتھوں سے ظالم نے جو موڑا کاغذ نہ تو نیلا نہ تو پیلا نہ تو اجلا کاغذ چاہئے ان کے تلون کو ترنگا کاغذ صفحۂ دل پہ نظر آتے ہیں اب داغ ہی داغ گود ڈالا کسی کمبخت نے سارا کاغذ باغباں کے ستم و جور جو لکھتے بیٹھے لگ گیا رم کا رم اور دستہ کا دستہ ...

مزید پڑھیے

رخ روشن کو بے نقاب نہ کر

رخ روشن کو بے نقاب نہ کر دل کی دنیا میں انقلاب نہ کر آئنہ رکھ نہ سامنے اس کے حسن خودبیں کو لا جواب نہ کر چار سو جلوہ گر تو ہی تو ہے آئنہ خانہ میں حجاب نہ کر میرے نغموں میں کیف غم بھر دے مجھ کو منت کش رباب نہ کر میری اختر شماریاں مت پوچھ اپنے وعدوں کا کچھ حساب نہ کر بخت دازوں کو ...

مزید پڑھیے

ابھی تک چشم قاتل سے پشیمانی نہیں جاتی

ابھی تک چشم قاتل سے پشیمانی نہیں جاتی ندامت خون ناحق کی بہ آسانی نہیں جاتی حقیقت پردۂ باطل میں چھپ جائے یہ نا ممکن پس فانوس بھی شعلوں کی عریانی نہیں جاتی فرشتے محو حیرت رہ گئے پرواز انساں پر وہاں پہنچا جہاں تک عقل انسانی نہیں جاتی ستم گاری اثر کرتی نہیں رنگیں طبیعت پر قفس میں ...

مزید پڑھیے

دل گیا دل سے دل کی بات گئی

دل گیا دل سے دل کی بات گئی وہ گئے لذت حیات گئی غنچے افسردہ پھول پژمردہ فصل گل جیسے ان کے سات گئی ان کے جلوے نگاہ میں نہ رہے رونق بزم کائنات گئی دل ناداں کو لاکھ سمجھایا کچھ نہ سمجھا یہ ساری رات گئی سایۂ زلف میں جو گزری تھی کون جانے کدھر وہ رات گئی اٹھ گیا پردۂ اجل جس دم اک حیات ...

مزید پڑھیے

ہوش ساقی کو نہ خم کا ہے نہ پیمانے کا

ہوش ساقی کو نہ خم کا ہے نہ پیمانے کا اس طرح حال یہ ابتر ہوا میخانے کا شدت غم سے نکل ہی پڑے آخر آنسو شمع سے سوز نہ دیکھا گیا پروانے کا جاں بحق ہو گیا ہوتا یہ کبھی کا بیمار گر یقیں ہوتا نہ اس شوخ کے آ جانے کا دیر بنتا ہے حرم اور حرم دیر کبھی کعبہ کہتے ہیں جسے نام ہے بت خانے کا طوق و ...

مزید پڑھیے

خود کو نہ میں گراؤں خود اپنی نگاہ سے

خود کو نہ میں گراؤں خود اپنی نگاہ سے یا رب بچائے رکھنا مجھے اس گناہ سے حرف طلب زبان پہ لایا غضب کیا اک دوست آج اور گیا رسم و راہ سے تشبیہ مہر و ماہ کا یہ اہتمام ہے پتھر اٹھا کے لائے ہیں ہم ان کی راہ سے چھوڑا جو اس نے زیست بھی یہ کہہ کے اٹھ گئی میں نے بھی آج ہاتھ اٹھایا نباہ ...

مزید پڑھیے

ہے شیخ و برہمن پر غالب گماں ہمارا

ہے شیخ و برہمن پر غالب گماں ہمارا یہ جانور نہ چر لیں سب گلستاں ہمارا تھی پہلے تو ہماری پہچان سعئ پیہم اب سر برہنگی ہے قومی نشاں ہمارا ہر ملک اس کے آگے جھکتا ہے احتراماً ہر ملک کا ہے فادر ہندوستاں ہمارا زاغ و زغن کی صورت منڈلایا آ کے پیہم کسٹوڈین نے دیکھا جب آشیاں ہمارا مکر و ...

مزید پڑھیے

جو مست جام بادۂ عرفاں نہ ہو سکا

جو مست جام بادۂ عرفاں نہ ہو سکا وہ جانور ہی رہ گیا انساں نہ ہو سکا جو بھی شریک محفل رنداں نہ ہو سکا وہ بے وقوف کامل ایماں نہ ہو سکا واعظ بھی ہیں وہ ذات گرامی کہ الحذر ہم پلہ جن کا دہر میں شیطاں نہ ہو سکا فطرت بدل سکی نہ کبھی میرے دوست کی لہبڑ کسی طرح سے بھی ٹوئیاں نہ ہو سکا دامان ...

مزید پڑھیے

خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں تمہارے پیار کا قرضہ چکا کے آئی ہوں چراغ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود تمہاری آنکھوں کے دیپک بجھا کے آئی ہوں پرانے پیڑ مرے ساتھ ساتھ روتے رہے جو نام مل کے لکھے تھے مٹا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 604 سے 4657