نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے
نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے یہ کلہڑ کوئی جام جم نہیں ہے وہ روئے خشمگیں کچھ کم نہیں ہے نہ ہو گر ہاتھ میں بلم نہیں ہے بس اک بہر بنی آدم نہیں ہے جہاں میں ورنہ گیہوں کم نہیں ہے نقاب الٹی ہے یہ کہہ کر کسی نے کہ اب تو کوئی نامحرم نہیں ہے ہزاروں چاہنے والے ہیں ان کے کم ان کی آج کل ...