شاعری

بھولے سے کبھی میری جانب جب ان کی نظر ہو جاتی ہے

بھولے سے کبھی میری جانب جب ان کی نظر ہو جاتی ہے ہنگامے بپا ہو جاتے ہیں عالم کو خبر ہو جاتی ہے میری شب فرقت کی ظلمت مرہون تجلی ہو نہ سکی ہوگی وہ کسی کے وصل کی شب جس شب کی سحر ہو جاتی ہے کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں کاٹے سے نہیں جو کٹتے ہیں کچھ ایسی بھی راتیں آتی ہیں باتوں میں سحر ہو جاتی ...

مزید پڑھیے

صنم کے صنم تھے پتھر ہماری تاب نظر سے پہلے

صنم کے صنم تھے پتھر ہماری تاب نظر سے پہلے جبیں میں سجدے تڑپ رہے تھے نہ جانے کیوں سنگ در سے پہلے تو راہزن تو نہیں ہے پوچھوں میں کس طرح ہم سفر سے پہلے سوال ایسا کیا نہیں ہے کسی نے بھی راہبر سے پہلے عجیب راہ عدم ہے پر ختم ہر ایک راہی کو ہے یہی غم یہ راز کھلتا نہیں کسی پر جہاں میں عزم ...

مزید پڑھیے

سفر کہنے کو جاری ہے مگر عزم سفر غائب

سفر کہنے کو جاری ہے مگر عزم سفر غائب یہ ایسا ہے کہ جیسے گھر سے ہوں دیوار و در غائب ہزاروں مشکلیں آئیں وفا کی راہ میں مجھ پر کبھی منزل ہوئی اوجھل کبھی راہ سفر غائب عجب منظر یہ دیکھا ہے خرد والوں کی بستی میں یہاں سر تو سلامت تھے مگر فکر و نظر غائب حسیں موسم نے نظریں پھیر لیں اپنے ...

مزید پڑھیے

راہ وفا میں سایۂ دیوار و در بھی ہے

راہ وفا میں سایۂ دیوار و در بھی ہے لیکن اسی پہ جان سے جانے کا ڈر بھی ہے وقفہ ہے زندگی تو فقط چند روز کا پھر شہر رنگ و بو کی طرف اک سفر بھی ہے روشن رکھو چراغ لہو سے تمام شب ہر رات کے نصیب میں آخر سحر بھی ہے کردار دیکھنے کی روایت نہیں رہی اب آدمی یہ دیکھتا ہے مال و زر بھی ہے سن تو ...

مزید پڑھیے

بکھری تھی ہر سمت جوانی رات گھنیری ہونے تک

بکھری تھی ہر سمت جوانی رات گھنیری ہونے تک لیکن میں نے دل کی نہ مانی رات گھنیری ہونے تک درد کا دریا بڑھتے بڑھتے سینے تک آ پہنچا ہے اور چڑھے گا تھوڑا پانی رات گھنیری ہونے تک آگ پہ چلنا قسمت میں ہے برف پہ رکنا مجبوری کون سنے گا اپنی کہانی رات گھنیری ہونے تک اس کے بنا یہ گلشن بھی اب ...

مزید پڑھیے

صبر و قرار ٹوٹ گیا اضطراب سے

صبر و قرار ٹوٹ گیا اضطراب سے پھر راز کھل گیا مری آنکھوں کے آب سے اس دل کے ساز پر کسی برہن کا گیت ہے آنے لگی ہیں سسکیاں دل کے رباب سے جانے سے پہلے اس نے مجھے دیوتا کہا میں عمر بھر نہ چھوٹ سکا اس خطاب سے پھر یاد آ گئے وہی کالج کے دن مجھے سوکھے گلاب نکلے پرانی کتاب سے بربادیوں میں ...

مزید پڑھیے

زبانیں چپ رہیں لیکن مزاج یار بولے گا

زبانیں چپ رہیں لیکن مزاج یار بولے گا کہ تو با ظرف ہے کتنا ترا کردار بولے گا نئی نسلوں کو کس نے کیا دیا ہے دیکھیے لیکن مرے اشعار میں تہذیب کا معیار بولے گا وہ جس نے کھائے ہیں دھوکے محبت کر کے اپنوں سے وہی تو خون کو پانی گلوں کو خار بولے گا جہاں سچ بات کہنے کا ہو مطلب جان سے ...

مزید پڑھیے

بات ہو دیر و حرم کی یا وطن کی بات ہو

بات ہو دیر و حرم کی یا وطن کی بات ہو بات جب ہو دوستوں حسن چمن کی بات ہو دیش کی خاطر خوشی سے جو لٹا دیتے ہیں جاں ان شہیدان وطن کے بانکپن کی بات ہو قوم و مذہب کیا کسی کا اور کیا ہے رنگ و نسل ایسی باتیں چھوڑ کر بس علم و فن کی بات ہو عصر حاضر نے ہمارا دل بھی پتھر کر دیا لازمی ہے اب ...

مزید پڑھیے

زمانہ یاد رکھے گا تمہیں یہ کام کر جانا

زمانہ یاد رکھے گا تمہیں یہ کام کر جانا کسی افسردہ چہرے میں خوشی کے رنگ بھر جانا کسی بھی حادثے پر اس کی آنکھیں نم نہیں ہوتیں اسی حالت کو کہتے ہیں میاں احساس مر جانا اگر جانا ضروری ہے تو تھوڑا مسکرا بھی دے مجھے اچھا نہیں لگتا ترا با چشم تر جانا ابھی بھی وقت ہے باقی تڑپ پیدا کرو ...

مزید پڑھیے

شام کے ڈھلتے سورج نے یہ بات مجھے سمجھائی ہے

شام کے ڈھلتے سورج نے یہ بات مجھے سمجھائی ہے تاریکی میں دیکھ سکوں تو آنکھوں میں بینائی ہے احساسات کی تہہ تک جانا کتنا مشکل ہوتا ہے ذہن و دل میں جتنا اترو اتنی ہی گہرائی ہے رشتے ناطے باہر سے تو جسم کو گھیرے بیٹھے ہیں روح کے اندر جھانک کے دیکھو میلوں تک تنہائی ہے لفظوں نے ہی نشتر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 605 سے 4657