شاعری

زہر شب ویران بستر اے خدا

زہر شب ویران بستر اے خدا کرب اک منظر بہ منظر اے خدا میں ترے شاہیں کا شہپرؔ اے خدا کون ہے میرے برابر اے خدا کاش تو بھی مجھ میں آ کر دیکھتا ڈوبتے سورج کا منظر اے خدا دوستی اور دشمنی کے نام سے قید ہوں کس کس کے اندر اے خدا زیر کچھ بونے مجھے کیسے کریں ان حقیروں کی مدد کر اے خدا بیچ ...

مزید پڑھیے

پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے

پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے ہم بھی ہیں وہی مسئلۂ جاں بھی وہی ہے کچھ بھی نہیں بدلا ہے یہاں کچھ نہیں بدلا آنکھیں بھی وہی خواب پریشاں بھی وہی ہے یہ جال بھی اس نے ہی بچھایا تھا اسی نے خوش خوش بھی وہی شخص تھا حیراں بھی وہی ہے اے وقت کہیں اور نظر ڈال یہ کیا ہے مدت کے وہی ہاتھ ...

مزید پڑھیے

ایک دن نہ رونے کا فیصلہ کیا میں نے

ایک دن نہ رونے کا فیصلہ کیا میں نے اور پھر بدل ڈالا اپنا فیصلہ میں نے دل میں ولولہ سا کچھ چال میں انا سی کچھ جیسے خود نکالا ہو اپنا راستہ میں نے مجھ میں اپنی ہی صورت دیکھنے لگے ہیں سب جانے کب بنا ڈالا خود کو آئینہ میں نے اس کو بھی تھا کچھ کہنا مجھ کو بھی تھا کچھ سننا اور کچھ کہا ...

مزید پڑھیے

اس کی باتیں کیا کرتے ہو وہ لفظوں کا بانی تھا

اس کی باتیں کیا کرتے ہو وہ لفظوں کا بانی تھا اس کے کتنے لہجے تھے اور ہر لہجہ لافانی تھا جب میں گھر سے نکلا تھا تب خشک زباں پر کانٹے تھے اور جب گھر میں واپس آیا گردن گردن پانی تھا جب کچھ معصوموں کی جاں تھی حیوانوں کے نرغے میں تب ہر صورت ہو سکتی تھی ہر خطرہ امکانی تھا نام خدا اب ...

مزید پڑھیے

چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں

چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں اور کسی دن تو پریشان بھی ہو جاتا ہوں سیدھا رستہ ہوں مگر مجھ سے گزرنا مشکل گمرہوں کے لیے آسان بھی ہو جاتا ہوں فائدہ مجھ کو شرافت کا بھی مل جاتا ہے پر کبھی باعث نقصان بھی ہو جاتا ہوں اپنے ہی ذکر کو سنتا ہوں حریفوں کی طرح اپنے ہی نام سے انجان ...

مزید پڑھیے

سخن کیا جو خموشی سے شاعری جاگی

سخن کیا جو خموشی سے شاعری جاگی چراغ لفظوں کے جل اٹھے روشنی جاگی ضد ملال و مسرت میں عمر بیت گئی یہ دیو سویا نہ وہ خواب کی پری جاگی تو برف درد سمندر میں اضطراب آیا تو خشک چشم جزیرے میں کچھ نمی جاگی وہاں زباں پہ سمندر کی خشکیاں ابھریں یہاں زمین کے ہونٹوں پہ کچھ ہنسی جاگی نظر نظر ...

مزید پڑھیے

دل میں شعلہ تھا سو آنکھوں میں نمی بنتا گیا

دل میں شعلہ تھا سو آنکھوں میں نمی بنتا گیا درد کا بے نام جگنو روشنی بنتا گیا ایک آنسو اجنبیت کا ندی بنتا گیا ایک لمحہ تھا تکلف کا صدی بنتا گیا کیا لبالب روز و شب تھے اور کیا وحشی تھا میں زندگی سے دور ہو کر آدمی بنتا گیا کب جنوں میں کھنچ گئی پیروں سے ارض اعتدال اور اک یوں ہی سا ...

مزید پڑھیے

کوئی سایہ نہ کوئی ہم سایہ (ردیف .. ا)

کوئی سایہ نہ کوئی ہم سایہ آب و دانہ یہ کس جگہ لایا دوست بھی میرے اچھے اچھے ہیں اک مخالف بہت پسند آیا ہلکا ہلکا سا اک خیال سا کچھ بھینی بھینی سی دھوپ اور چھایا اک ادا تھی کہ راہ روکتی تھی اک انا تھی کہ جس نے اکسایا ہم بھی صاحب دلاں میں آتے ہیں یہ ترے روپ کی ہے سب مایا چل پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

نیند اجڑی تو نگاہوں میں مناظر کیا ہیں

نیند اجڑی تو نگاہوں میں مناظر کیا ہیں ہم کہ بیتاب کسی خواب کی خاطر کیا ہیں برگ معصوم سے کرتے ہیں خزاں کی باتیں موسم سبز کے لمحات بھی شاطر کیا ہیں جیسے اجڑی ہوئی بستی میں عبادت کا سماں سوکھتی شاخ پہ بیٹھے ہوئے طائر کیا ہیں کیوں بہر لمحہ بکھرتا ہے یقیں کا پیکر طنز و تشکیک کے ...

مزید پڑھیے

کب چلا جاتا ہے شہپرؔ کوئی آ کے سامنے

کب چلا جاتا ہے شہپرؔ کوئی آ کے سامنے سوئی کا گرنا بھی کیا آواز پا کے سامنے روز بے مقصد خوشامد قتل کرتی ہے اسے روز مر جاتا ہے وہ اپنی انا کے سامنے کرب کی مسموم لہریں تیز تر ہونے لگیں رکھ دیا کس نے چراغ دل ہوا کے سامنے قلب کی گہرائیوں میں صرف تیرا عکس ہے دیکھ لے کیا کہہ رہا ہوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 574 سے 4657