شاعری

وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا

وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا درد حد سے سوا نہیں ہوتا میری کوشش کو جو رضا ملتی لفظ یوں بے صدا نہیں ہوتا ہم زباں تو بہت ملے لیکن کیوں کوئی ہم نوا نہیں ہوتا ہم اگر پہلے جاگ جاتے تو سانحہ وہ ہوا نہیں ہوتا آگ بستی کی گر بجھاتا تو اس کا گھر بھی جلا نہیں ہوتا کوئی کوشش کبھی تو کی ...

مزید پڑھیے

دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں

دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں عدل کے لئے ملزم کب سے راہ تکتا ہے کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں یوں لباس بوسیدہ مال و زر سے خالی ہے بے کراں محبت ہے مفلسی کے ...

مزید پڑھیے

ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں

ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں یہ ظلم کس پہ ہوا روئی خاک مقتل کیوں جو خواب دیکھتی آئی ہوں اپنے بچپن سے ادھورا خواب وہ ہوتا نہیں مکمل کیوں جو آرزو تھی کہ ہوں ارد گرد گل بوٹے تو تم نے ناگ پھنی کے اگائے جنگل کیوں ہم اپنے شوق کی دنیا میں گم تھے کچھ ایسے سمجھ نہ پائے کہ بھیگا ...

مزید پڑھیے

اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے

اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے ابر کو موڑ دے اس سمت کو ساون کر دے اس سے پہلے کہ کوئی توڑ کے بکھرا دے مجھے میرے مالک تو میرے حوصلے آہن کر دے خار و خس کی ہی حکومت ہے گلستانوں میں اپنی رحمت سے ہرا میرا یہ گلشن کر دے حلم ایسا کہ جو دشمن کو بنا لے اپنا علم وہ دے جو خیالات کو روشن کر ...

مزید پڑھیے

زباں کا زاویہ لفظوں کی خو سمجھتا ہے

زباں کا زاویہ لفظوں کی خو سمجھتا ہے میں اس کو آپ پکاروں وہ تو سمجھتا ہے میں اس کی بزم میں بھی سرفراز رہتا ہوں میرا نسب مری عظمت عدو سمجھتا ہے منافقت سے عزیزوں کو زیر کرتا ہے اور اس میں اپنی بڑی آبرو سمجھتا ہے سخن کے حرف پہ رکھتا ہے حرف جاں کا مدار حیا کو آنکھ کی درد سبو سمجھتا ...

مزید پڑھیے

ہوگی اس ڈھیر عمارت کی کہانی کچھ تو

ہوگی اس ڈھیر عمارت کی کہانی کچھ تو ڈھونڈ الفاظ کے ملبے میں معانی کچھ تو لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھ کو برا کہتا ہے میں بھی سن لوں ترے ہونٹوں کی زبانی کچھ تو برف نے کرب کی پتوار کو بھی توڑ دیا دل کے دریا کو عطا کر دے روانی کچھ تو بھول بیٹھے ہیں وہ بچپن کے فسانے لیکن یاد ہوگی انہیں ...

مزید پڑھیے

نسب یہ ہے کہ وہ دشمن کو کم نسب نہ کہے

نسب یہ ہے کہ وہ دشمن کو کم نسب نہ کہے عجب یہ ہے کہ یہ دنیا اسے عجب نہ کہے مری نگاہ جنوں میں یہ بات بھول گئی کہ کب کہے مرے جذبات اور کب نہ کہے وہ برہمی کی جو اک داستاں تھی ختم ہوئی اسے کہو کہ وہ اس سے وہ بات اب نہ کہے وہ بے زبان نہیں ہے تو کم نظر ہوگا جو چشم و لب ترے دیکھے مگر غضب نہ ...

مزید پڑھیے

تعلقات چٹختے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں

تعلقات چٹختے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں جب ہم خلوص و محبت کو آزماتے ہیں خوشی کا ایک نیا زاویہ ابھرتا ہے ہم اپنے بچوں سے جس وقت ہار جاتے ہیں شغف ہے خوب روایات رفتگاں سے مگر ہم عہد نو کے ترانے بھی گنگناتے ہیں اداس شب بھی اماوس کی مسکراتی ہے جو قمقمے سے نگاہوں میں جگمگاتے ہیں ہمارے بیچ جو ...

مزید پڑھیے

بے انتہا ہونا ہے تو اس خاک کے ہو جاؤ

بے انتہا ہونا ہے تو اس خاک کے ہو جاؤ امکاں کی مسافت کرو افلاک کے ہو جاؤ سب قصوں کو چھوڑو دل صدچاک کے ہو جاؤ اس دور جنوں خیز میں ادراک کے ہو جاؤ خوشیوں سے کہاں ربط ہے ہم کو بھی تمہیں بھی آ جاؤ اسی لمحۂ نمناک کے ہو جاؤ اس باغ میں شمشیر ہوا سے نہ بچوگے خوش رنگ ہو جاؤ کسی پوشاک کے ہو ...

مزید پڑھیے

ہنستے ہوئے حروف میں جس کو ادا کروں

ہنستے ہوئے حروف میں جس کو ادا کروں بچوں سے کس جہاں کی کہانی کہا کروں یا رب عذاب حرف و تخیل سے دے نجات غزلیں کہا کروں نہ مضامیں لکھا کروں قدموں میں کس کے ڈال دوں یہ نام یہ نسب کچھ تو بتاؤ کس کا قصیدہ پڑھا کروں اب تک تو اپنے آپ سے پیچھا نہ چھٹ سکا ممکن ہے کل سے آپ کے حق میں دعا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 573 سے 4657