شاعری

عجیب عادت ہے بے سبب انتظار کرنا

عجیب عادت ہے بے سبب انتظار کرنا شب الم میں وصال کے دن شمار کرنا نہیں ہے آساں عداوتوں میں اسیر رہنا روش زمانے سے مختلف اختیار کرنا نہ بے نیاز قیود آداب عشق رہنا نہ اپنے اطراف مصلحت کا حصار کرنا نہ اہل دانش کے دام و دانہ کا صید ہونا نہ شہر والوں کے لطف کا اعتبار کرنا جو محفلوں ...

مزید پڑھیے

رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں

رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں مگر خموش اب جو ہو گئے ہیں عنایتیں ماہ و سال کی ہیں کہاں سے دنیا کو آ گئے ہیں یہ طور اس کے طریق اس کے مظاہرہ سب گریز کا ہے علامتیں سب وصال کی ہیں نظر اٹھاؤ تو ہر طرف ہے بہشت حسن و جمال لیکن کہاں وہ انداز اس کا لہجہ شباہتیں خد و خال کی ...

مزید پڑھیے

یہ کائنات ترا معجزہ لگے ہے مجھے

یہ کائنات ترا معجزہ لگے ہے مجھے خدا نہیں ہے مگر تو خدا لگے ہے مجھے نہ اپنے ہاتھ اٹھاؤ نہ التماس کرو کبھی کسی کی بتاؤ دعا لگے ہے مجھے کسے خبر ہے کہ کب چلتی سانس رک جائے یہ زندگی بھی فریب قضا لگے ہے مجھے ترے وصال نے بے چین کر دیا تھا بہت ترا فراق ہی دل کی دوا لگے ہے مجھے ہر ایک چیز ...

مزید پڑھیے

آخر تمہارے عشق میں برباد ہو سکے

آخر تمہارے عشق میں برباد ہو سکے گزرے کہاں کہاں سے تو شہزاد ہو سکے بستی کو اپنی چھوڑ کے آیا ہے اک فقیر خواہش کہ تیرے جسم میں آباد ہو سکے مدت سے اپنی یاد بھی آتی نہیں ہمیں تم جس کو یاد ہو اسے کیا یاد ہو سکے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھ دے کہ میں راکھ ہو سکوں میری نئے سرے سے پھر ایجاد ہو ...

مزید پڑھیے

اب تو جس روز سے روٹھی ہے محبت اس کی

اب تو جس روز سے روٹھی ہے محبت اس کی بڑھ گئی اور بھی پہلے سے ضرورت اس کی لوح ہر زخم پہ تحریر ہے اس کا مضمون نقش ہے ہر ورق دل پہ عبارت اس کی جسم تو میرا تھا دل اس کا تھا جاں اس کی تھی میری جاگیر تھی چلتی تھی حکومت اس کی شور فریاد سنائیں تو سنائیں کس کو حشر اس کا ہے خدا اس کا قیامت اس ...

مزید پڑھیے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے ان کے ذہنوں میں نہ مسجد نہ شوالے ہوں گے بھوکے بچوں کی امیدیں نہ شکستہ ہو جائیں ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں ابالے ہوں گے تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بلا لے اس کو میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے جنگ پر جاتے ہوئے بیٹے کی ماں سے پوچھو کیسے ...

مزید پڑھیے

سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی

سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی شکایت چیز ایسی ہے بہ آسانی نہیں جاتی نگاہوں نے نہ جانے اس کی دیکھے کون سے منظر بہت چاہا پہ آنکھوں سے یہ ویرانی نہیں جاتی تخیل دستکیں دے کر پلٹ جاتا ہے اکثر ہی انا کی جذبۂ دل پر نگہبانی نہیں جاتی بہت ممکن ہے خط کا بھی ترے مضموں بدل جائے ابھی ...

مزید پڑھیے

خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا

خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا اب تباہی کا یہ منظر نہیں دیکھا جاتا جب سے ہے قید حصاروں میں تکبر کے انا خود سے اونچا کوئی پیکر نہیں دیکھا جاتا جانے کب کون ہمیں دیش نکالا دے دے سر پہ لٹکا ہوا خنجر نہیں دیکھا جاتا جو ذریعہ تھا شکم سیریٔ انساں کا سدا پیٹ پر باندھے ہے پتھر نہیں ...

مزید پڑھیے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے ان کے ذہنوں میں نہ مسجد نہ شوالے ہوں گے بھوکے بچوں کی امیدیں نہ شکستہ ہو جائیں ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں ابالے ہوں گے تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بلا لے اس کو میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے جنگ پر جاتے ہوئے بیٹے کی ماں سے پوچھو کیسے ...

مزید پڑھیے

نہ ہے اس کو مجھ سے غفلت نہ وہ ذمے دار کم ہے

نہ ہے اس کو مجھ سے غفلت نہ وہ ذمے دار کم ہے پہ الگ ہے اس کی فطرت وہ وفا شعار کم ہے مری حسرتیں مٹیں گی مرے خواب ہوں گے پورے مجھے اپنے اس یقیں پر ذرا اعتبار کم ہے نہ بڑھائے اور دوری کوئی آنے والا موسم چلو فاصلے مٹا لیں کہ ابھی درار کم ہے یہ تم ہی پہ منحصر ہے کہ تم آؤ یا نہ آؤ میں بھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 572 سے 4657