شاعری

مرے نصیب نے جب مجھ سے انتقام لیا

مرے نصیب نے جب مجھ سے انتقام لیا کہاں کہاں تری یادوں نے ہاتھ تھام لیا فضا کی آنکھ بھر آئی ہوا کا رنگ اڑا سکوت شام نے چپکے سے تیرا نام لیا وہ میں نہیں تھا کہ اک حرف بھی نہ کہہ پایا وہ بے بسی تھی کہ جس نے ترا سلام لیا ہر اک خوشی نے ترے غم کی آبرو رکھ لی ہر اک خوشی سے ترے غم نے انتقام ...

مزید پڑھیے

دل شکستہ ہوئے ٹوٹا ہوا پیمان بنے

دل شکستہ ہوئے ٹوٹا ہوا پیمان بنے ہم وہی ہیں جو تمہیں دیکھ کے انجان بنے چند یادیں مری زنجیر شب و روز بنیں چند لمحے مرے کھوئے ہوئے اوسان بنے وہ بھی کیا فصل تھی کیا شعلۂ خرمن تھا بلند وہ بھی کیا دن تھے کہ دامن سے گریبان بنے ان کی دوری کا بھی احساں ہے مری سانسوں پر مجھ سے اس طرح وہ ...

مزید پڑھیے

سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا

سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا جب چاہوں تمہیں دیکھوں آئینہ بنا لوں گا یادوں سے کہو میری بالیں سے چلی جائیں اب اے شب تنہائی آرام ذرا لوں گا رنجش سے جدائی تک کیا سانحہ گزرا ہے کیا کیا مجھے دعویٰ تھا جب چاہوں منا لوں گا تصویر خیالی ہے ہر آنکھ سوالی ہے دنیا مجھے کیا دے ...

مزید پڑھیے

میری وحشت کا ترے شہر میں چرچا ہوگا

میری وحشت کا ترے شہر میں چرچا ہوگا اب مجھے دیکھ کے شاید تجھے دھوکا ہوگا صاف رستہ ہے چلے آؤ سوئے دیدہ و دل عقل کی راہ سے آؤ گے تو پھیرا ہوگا کون سمجھے گا بھلا حسن گریزاں کی ادا میرے عیسیٰ نے مرا حال نہ پوچھا ہوگا وجہ بے رنگیٔ ہر شام و سحر کیا ہوگی میں نے شاید تجھے ہر رنگ میں دیکھا ...

مزید پڑھیے

ذرا سی بات تھی بات آ گئی جدائی تک

ذرا سی بات تھی بات آ گئی جدائی تک ہنسی نے چھوڑ دیا لا کے جگ ہنسائی تک بھلے سے اب کوئی تیری بھلائی گنوائے کہ میں نے چاہا تھا تجھ کو تری برائی تک تو چپکے چپکے مروت سے کیوں بچھڑتا ہے مرا غرور بھی تھا تیری کج ادائی تک مجھے تو اپنی ندامت کی داد بھی نہ ملی میں اس کے ساتھ رہا اپنی ...

مزید پڑھیے

جانے والے تجھے کب دیکھ سکوں بار دگر

جانے والے تجھے کب دیکھ سکوں بار دگر روشنی آنکھ کی بہہ جائے گی آنسو بن کر تو حصار در و دیوار لیے جائے کدھر میرا کیا ہے کہ میں ہوں دشت بہ دل خانہ بہ سر کون جانے مری تنہائی پسندی کیا ہے بس ترے ذکر کا اندیشہ ترے نام کا ڈر یوں بھی اشکوں کا دھندلکا تھا سجھائی نہ دیا کس نے لوٹا دم رخصت ...

مزید پڑھیے

جس طرف جاؤں ادھر عالم تنہائی ہے

جس طرف جاؤں ادھر عالم تنہائی ہے جتنا چاہا تھا تجھے اتنی سزا پائی ہے میں جسے دیکھنا چاہوں وہ نظر نہ آ سکے ہائے ان آنکھوں پہ کیوں تہمت بینائی ہے بارہا سرکشی و کج کلہی کے با وصف تیرے در پر مجھے دریوزہ گری لائی ہے صدمۂ ہجر میں تو بھی ہے برابر کا شریک یہ الگ بات تجھے تاب شکیبائی ...

مزید پڑھیے

کیا کروں رنج گوارا نہ خوشی راس مجھے

کیا کروں رنج گوارا نہ خوشی راس مجھے جینے دے گی نہ مری شدت احساس مجھے اس طرح بھی تری دوری میں کٹے ہیں کچھ دن ہنس پڑا ہوں تو ہوا جرم کا احساس مجھے ہم نے اک دوسرے کو پرسۂ فرقت نہ دیا میری خاطر تھی تجھے اور ترا پاس مجھے ایک ٹھہرا ہوا دریا ہے مری آنکھوں میں کن سرابوں میں ڈبوتی ہے ...

مزید پڑھیے

آبلہ پائی سے ویرانہ مہک جاتا ہے

آبلہ پائی سے ویرانہ مہک جاتا ہے کون پھولوں سے مرا راستہ ڈھک جاتا ہے مصلحت کہتی ہے وہ آئے تو کیوں آئے یہاں دل کا یہ حال ہر آہٹ پہ دھڑک جاتا ہے کیا سر شام نہ لوٹوں گا نشیمن کی طرف کیا اندھیرا ہو تو جگنو بھی بھٹک جاتا ہے ایک دیوانہ بھٹکتا ہے بگولہ بن کر ایک آہو کسی وادی میں ٹھٹھک ...

مزید پڑھیے

وفا کا ذکر ہی کیا ہے جفا بھی راس آئے

وفا کا ذکر ہی کیا ہے جفا بھی راس آئے وہ مسکرائے تو جرم خطا بھی راس آئے وطن میں رہتے ہیں ہم یہ شرف ہی کیا کم ہے یہ کیا ضرور کہ آب و ہوا بھی راس آئے ہتھیلیاں ہیں تری لوح نور کی مانند خدا کرے تجھے رنگ حنا بھی راس آئے دوا تو خیر ہزاروں کو راس آئے گی مزہ تو جینے کا جب ہے شفا بھی راس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 569 سے 4657