شاعری

ہوا کے دوش پہ رقص سحاب جیسا تھا

ہوا کے دوش پہ رقص سحاب جیسا تھا ترا وجود حقیقت میں خواب جیسا تھا دم وداع سمندر بچھا رہا تھا کوئی تمام شہر ہی چشم پر آب جیسا تھا مری نگاہ میں رنگوں کی دھوپ چھاؤں سی تھی ہجوم گل میں وہ کیا تھا گلاب جیسا تھا ہماری پیاس نے وہ بھی نظارہ دیکھ لیا رواں دواں کوئی دریا سراب جیسا ...

مزید پڑھیے

سنبھل اے قدم کہ یہ کارگاہ نشاط و غم ہے خبر بھی ہے

سنبھل اے قدم کہ یہ کارگاہ نشاط و غم ہے خبر بھی ہے جسے لوگ کہتے ہیں رہ گزر کسی پا شکستہ کا گھر بھی ہے مجھے مدتوں یہی وہم تھا کہ یہ خاک کیمیا بن گئی اسی کشمکش میں گزر گئی کہ فغاں کروں تو اثر بھی ہے ہمہ انکسار کی کیفیت ہے دم وداع کی بے بسی مجھے یوں پیام سکوں نہ دے تجھے اپنے آپ سے ڈر ...

مزید پڑھیے

عذاب ہجر بھی ہے راحت وصال کے ساتھ

عذاب ہجر بھی ہے راحت وصال کے ساتھ ملی تو ہیں مجھے خوشیاں مگر ملال کے ساتھ تمہاری یاد میں بھی ضبط‌‌ و اعتدال کہاں میں تم سے کیسے ملوں ضبط و اعتدال کے ساتھ یہی بہت ہے زمانہ میں چار دن کے لئے اگر حیات کٹے ایک ہم خیال کے ساتھ کچھ اس طرح شب مہ نے کرن کی دستک دی ابھر گئیں کئی چوٹیں ...

مزید پڑھیے

خود اپنا حال دل مبتلا سے کچھ نہ کہا

خود اپنا حال دل مبتلا سے کچھ نہ کہا دعا سے ہاتھ اٹھائے خدا سے کچھ نہ کہا کسے سناؤں کہ ناساز ہے جنوں کا مزاج خود اپنے شہر کی آب و ہوا سے کچھ نہ کہا یہ کس سے عشق ہوا کیوں ہوا تعجب ہے وہ خوف ہے کہ کسی آشنا سے کچھ نہ کہا یہ ہوش ہے کہ گزر جائے گی پھوار کی رت مگر یہ زعم کہ اودی گھٹا سے ...

مزید پڑھیے

بہت دنوں سے ہے جی میں سوال پوچھوں گا

بہت دنوں سے ہے جی میں سوال پوچھوں گا میں تیرے آئنے سے تیرا حال پوچھوں گا بہت حسیں ہے یہ دنیا مگر زوال کے ساتھ خدا سے حشر میں حسن زوال پوچھوں گا سکوت شام سے کیوں نسبت طبیعت ہے سکوت شام سے وجہ ملال پوچھوں گا تو بے مثال ہے تیری مثال کیا پوچھوں میں کچھ نہیں مگر اپنی مثال پوچھوں ...

مزید پڑھیے

خوار و رسوا تھے یہاں اہل سخن پہلے بھی

خوار و رسوا تھے یہاں اہل سخن پہلے بھی ایسا ہی کچھ تھا زمانے کا چلن پہلے بھی مدتوں بعد تجھے دیکھ کے یاد آتا ہے میں نے سیکھا تھا لہو رونے کا فن پہلے بھی دل نواز آج بھی ہے نیم نگاہی تیری دل شکن تھا ترا بے ساختہ پن پہلے بھی آج اس طرح ملا تو کہ لہو جاگ اٹھا یوں تو آتی رہی خوشبوئے بدن ...

مزید پڑھیے

شب وعدہ کہہ گئی ہے شب غم دراز رکھنا

شب وعدہ کہہ گئی ہے شب غم دراز رکھنا اسے میں بھی راز رکھوں اسے تم بھی راز رکھنا یہ ہے خار خار وادی یوں ہی زخم زخم چلنا یہ ہے پتھروں کی بستی یوں ہی دل گداز رکھنا ہمہ تن جنوں ہوں پھر بھی رہے کچھ تو پردہ داری کہ برا نہیں خرد سے کوئی ساز باز رکھنا مرے ناخن‌ وفا پر کوئی قرض رہ نہ ...

مزید پڑھیے

کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے

کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے میں بہت دور ہوں نزدیک بلاتا ہے مجھے میں نے محسوس کیا شہر کے ہنگامے میں کوئی صحرا میں ہے، صحرا میں بلاتا ہے مجھے تو کہاں ہے کہ تری زلف کا سایہ سایہ ہر گھنی چھاؤں میں لے جا کے بٹھاتا ہے مجھے اے مرے حال پریشاں کے نگہ دار یہ کیا کس قدر دور سے آئینہ ...

مزید پڑھیے

جن زخموں پر تھا ناز ہمیں وہ زخم بھی بھرتے جاتے ہیں

جن زخموں پر تھا ناز ہمیں وہ زخم بھی بھرتے جاتے ہیں سانسیں ہیں کہ گھٹتی جاتی ہیں دن ہیں کہ گزرتے جاتے ہیں دیوار ہے گم صم در تنہا پھر ہوتے چلے ہیں شجر تنہا کچھ دھوپ سی ڈھلتی جاتی ہے کچھ سائے اترتے جاتے ہیں ہم یوں ہی نہیں ہیں سست قدم ہم جانتے ہیں فردا کیا ہے شاید کوئی دے آواز ہمیں ...

مزید پڑھیے

یہی سفر کی تمنا یہی تھکن کی پکار

یہی سفر کی تمنا یہی تھکن کی پکار کھڑے ہوئے ہیں بہت دور تک گھنے اشجار نہیں یہ فکر کہ سر پھوڑنے کہاں جائیں بہت بلند ہے اپنے وجود کی دیوار دراز قد بہ ادائے خرام کیا کہنا تمام اہل جہاں کے لئے ہے درس وقار یہ دور وہ ہے کہ سب نیم جاں نظر آئے کہ رقص میں ہے اناڑی کے ہاتھ میں تلوار بدلتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 568 سے 4657