شاعری

سمٹ سمٹ سی گئی تھی زمیں کدھر جاتا

سمٹ سمٹ سی گئی تھی زمیں کدھر جاتا میں اس کو بھولتا جاتا ہوں ورنہ مر جاتا میں اپنی راکھ کریدوں تو تیری یاد آئے نہ آئی تیری صدا ورنہ میں بکھر جاتا تری خوشی نے مرا حوصلہ نہیں دیکھا ارے میں اپنی محبت سے بھی مکر جاتا کل اس کے ساتھ ہی سب راستے روانہ ہوئے میں آج گھر سے نکلتا تو کس کے ...

مزید پڑھیے

کسی کا کوئی ٹھکانہ ہے کوئی ٹھور بھی ہے

کسی کا کوئی ٹھکانہ ہے کوئی ٹھور بھی ہے یہ زندگی ہے کہیں اس کا اور چھور بھی ہے جھلا رہا ہے یہ گہوارہ کون صدیوں سے ارے کسی نے یہ دیکھا کہ کوئی ڈور بھی ہے ہر آدمی ہے یہاں جبر و اختیار کے ساتھ مگر یہ دیکھ کسی کا کسی پہ زور بھی ہے سنے گا کوئی تو پھر کچھ اسے سنائی نہ دے کہ ہر سکوت کے ...

مزید پڑھیے

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں بہت دنوں سے خوشی کو ترس رہا ہوں میں سحر کی اوس میں بھیگا ہوا بدن تیرا وہ آنچ ہے کہ چمن میں جھلس رہا ہوں میں قدم قدم پہ بکھرتا چلا ہوں صحرا میں صدا کی طرح مکین جرس رہا ہوں میں کوئی یہ کہہ دے مری آرزو کے موتی سے صدف صدف کی قسم ہے برس رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

رنگ لایا مرا بے برگ و نوا ہو جانا

رنگ لایا مرا بے برگ و نوا ہو جانا اتنا آسان نہ تھا اس کا خدا ہو جانا کون آواز برس بن کے رہا محمل ناز کس کی قسمت میں ہے صحرا کی صدا ہو جانا حشر تک بے گنہی ناز کرے گی مجھ پر وہ مرا تیری نگاہوں میں برا ہو جانا مجھ پہ وہ وقت پڑا ہے کہ شکایت کیسی تجھ کو لازم تھا بہ ہر حال خفا ہو ...

مزید پڑھیے

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے کہیں شراب مری زندگی نہ بن جائے کبھی کبھی تو اندھیرا بھی خوبصورت ہے ترا خیال کہیں روشنی نہ بن جائے بھڑک نہ جائے کہیں شمع علم و دانش بھی جنوں جنوں ہی رہے آگہی نہ بن جائے میں ڈر رہا ہوں کہاں تیرا سامنا ہوگا ترا وجود ہی میری کمی نہ بن جائے ترے بغیر ...

مزید پڑھیے

دشت کیا شے ہے جنوں کیا ہے دوانے کے لئے

دشت کیا شے ہے جنوں کیا ہے دوانے کے لئے شہر کیا کم ہے مجھے خاک اڑانے کے لئے ہم نے کیا جانئے کیا سوچ کے گلشن چھوڑا فصل گل دیر ہی کیا تھی ترے آنے کے لئے میں سرائے کے نگہباں کی طرح تنہا ہوں ہائے وہ لوگ کہ جو آئے تھے جانے کے لئے ہم وہی سوختہ سامان ازل ہیں کہ جنہیں زندگی دور تک آئی تھی ...

مزید پڑھیے

اگر سوال وہ کرتا جواب کیا لیتا

اگر سوال وہ کرتا جواب کیا لیتا یہ غم اسی نے دیا تھا حساب کیا لیتا بہت ہجوم تھا تعبیر کی دکانوں پر ہمیں تھے ورنہ کوئی جنس خواب کیا لیتا ہمارے عہد میں ارزانئ نقاب نہ پوچھ میں کور چشموں کی خاطر نقاب کیا لیتا فرات آج رواں ہے یزید پیاسا ہے یہ پیاس کوئی بجھا کر ثواب کیا لیتا ارے جسے ...

مزید پڑھیے

بڑے خلوص سے دامن پسارتا ہے کوئی

بڑے خلوص سے دامن پسارتا ہے کوئی خدا کو جیسے زمیں پر اتارتا ہے کوئی نہ پوچھ کیا ترے ملنے کی آس ہوتی ہے کہاں گزرتی ہے کیسے گزارتا ہے کوئی بجا ہے شرط وفا شرط زندگی بھی تو ہو بچا سکے تو بچا لے کہ ہارتا ہے کوئی وہ کون شخص ہے کیا نام ہے خدا جانے اندھیری رات ہے کس کو پکارتا ہے ...

مزید پڑھیے

مسئلہ ہوں میں سدا سے کم نگاہی کے لئے

مسئلہ ہوں میں سدا سے کم نگاہی کے لئے کون اٹھے گا بھلا میری گواہی کے لئے لوٹ آیا پھر سے وہ طوفان صحرا کی طرف شہر میں باقی نہ تھا کچھ بھی تباہی کے لئے آج بھی میں تیری آنکھوں کے جزیروں میں پناہ ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اپنی بے پناہی کے لئے دل کے دریا میں مری یادوں کی گہرائی تلک ڈوب کے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو زندہ رہنے کا اک جذبہ آ کے مار گیا

مجھ کو زندہ رہنے کا اک جذبہ آ کے مار گیا میں اپنی سانسوں سے آخر لڑتے لڑتے ہار گیا اپنی نیندیں اپنی راتیں اپنی آنکھیں اپنے خواب تم کو جیتنے کی خاطر میں اپنا سب کچھ ہار گیا جیسی چیزیں مجھ میں تھیں سب ویسی دنیا میں بھی تھیں اپنے اندر سے میں باہر آخر کو بے کار گیا عشق کے اس سودے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 570 سے 4657