شاعری

ترے خیال کو بھی فرصت خیال نہیں

ترے خیال کو بھی فرصت خیال نہیں جدائی ہجر نہیں ہے ملن وصال نہیں مرے وجود میں ایسا سما گیا کوئی غم زمانہ نہیں فکر ماہ و سال نہیں اسے یقین کے سورج سے ہی ابھرنا ہے وہ سیل وہم میں بہتا ہوا جمال نہیں دہک اٹھے مرے عارض مہک اٹھیں سانسیں پھر اور کیا ہے اگر یہ ترا خیال نہیں نہ جانے کتنے ...

مزید پڑھیے

دیپ جلے تو دیپ بجھانے آتے ہیں

دیپ جلے تو دیپ بجھانے آتے ہیں شہر کے سارے لوگ رلانے آتے ہیں دل کی کلیاں تیرے نام پہ کھلتی ہیں تارے بھی اب مانگ سجانے آتے ہیں تم پر خوشیوں کے سارے ہی موسم اتریں ہم کو سارے دکھ بہلانے آتے ہیں جانے کیا دیکھا تھا تیری آنکھوں میں جانے کیوں اب خواب سہانے آتے ہیں من مندر میں رکھ کر ...

مزید پڑھیے

عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں

عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں ارض و سما کا اس کو ہم نور جانتے ہیں ہرچند دو جہاں سے اب ہم گزر گئے ہیں تس پر بھی دل کے گھر کو ہم دور جانتے ہیں جس میں تری رضا ہو وہ ہی قبول کرنا اپنا تو ہم یہی کچھ مقدور جانتے ہیں سو رنگ جلوہ گر ہیں گرچہ بتان عالم ہم ایک تجھی کو اپنا منظور جانتے ...

مزید پڑھیے

دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا

دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا اپنی ہی آنکھوں سے اب خون بہا لیجئے گا پھر نہیں ہونے کی تقصیر تو ایسی ہرگز اب کسی طرح میری جان بچا لیجئے گا اس قدر سنگ دلی تم کو نہیں ہے لازم کسی مظلوم کی گاہے تو دعا لیجئے گا لخت دل خاک میں دیتا ہے کوئی بھی رہنے گر پڑے اشک تو آنکھوں سے اٹھا ...

مزید پڑھیے

اب تیرے انتظار کی عادت نہیں رہی

اب تیرے انتظار کی عادت نہیں رہی پہلے کی طرح گویا محبت نہیں رہی ذوق نظر ہمارا بڑھا ہے کچھ اس طرح تیرے جمال پر بھی قناعت نہیں رہی فرقت میں اس کی روز ہی ہوتی تھی اک غزل اب شاعری ذریعۂ راحت نہیں رہی دنیا نے تیرے غم سے بھی بیگانہ کر دیا اب دل میں تیرے وصل کی چاہت نہیں رہی کچھ ہم بھی ...

مزید پڑھیے

وہ نیاز و ناز کے مرحلے نگہ و سخن سے چلے گئے

وہ نیاز و ناز کے مرحلے نگہ و سخن سے چلے گئے ترے رنگ و بو کے وہ قافلے ترے پیرہن سے چلے گئے کوئی آس ہے نہ ہراس ہے شب ماہ کتنی اداس ہے وہ جو رنگ رنگ کے عکس تھے وہ کرن کرن سے چلے گئے کوئی ان کی آنکھیں سراہتا کوئی وحشتوں سے نباہتا کہ وہ آہوان رمیدہ خو یہ سنا ختن سے چلے گئے کئی مہر و مہ ...

مزید پڑھیے

اے جنوں دشت میں دیوار کہاں سے لاؤں

اے جنوں دشت میں دیوار کہاں سے لاؤں میں تماشا سہی بازار کہاں سے لاؤں یاد ایام کہ کچھ سر میں سمائی تھی ہوا اب وہ ٹوٹا ہوا پندار کہاں سے لاؤں کس سے پوچھوں کہ مرا حال پریشاں کیا ہے تجھ کو اے آئنہ بردار کہاں سے لاؤں میری ان آنکھوں نے جیسے تجھے دیکھا ہی نہیں ہائے وہ حسرت دیدار کہاں ...

مزید پڑھیے

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح آج تنہا ہوں مگر کوئی تو تھا میری طرح میں تری راہ میں پامال ہوا جاتا ہوں مٹ نہ جائے ترا نقش کف پا میری طرح میں ہی تنہا ہوں فقط تیری بھری دنیا میں اور بھی لوگ ہیں کیا میرے خدا میری طرح رنگ ارباب رضا پیشہ مبارک ہو تجھے کوئی ہوتا ہی نہیں تجھ سے خفا ...

مزید پڑھیے

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا غم دنیا کا کوئی ذکر تک آنے نہ دیا اس کا زہرابۂ پیکر ہے مری رگ رگ میں اس کی یادوں نے مگر ہاتھ لگانے نہ دیا اس نے دوری کی بھی حد کھینچ رکھی ہے گویا کچھ خیالات سے آگے مجھے جانے نہ دیا بادباں اپنے سفینہ کا ذرا سی لیتے وقت اتنا بھی زمانہ کی ہوا ...

مزید پڑھیے

سنبھلا نہیں دل تجھ سے بچھڑ کر کئی دن تک

سنبھلا نہیں دل تجھ سے بچھڑ کر کئی دن تک میں آئینہ تھا بن گیا پتھر کئی دن تک کیا چیز تھی ہم رکھ کے کہیں بھول گئے ہیں وہ چیز کہ یاد آئی نہ اکثر کئی دن تک اے شاخ وفا پھر وہ پرندہ نہیں لوٹا میں گھر میں تھا نکلا نہیں باہر کئی دن تک وہ بوجھ کہ تھی جس سے مرے سر کی بلندی وہ بوجھ گرا اٹھ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 567 سے 4657