شاعری

بگڑی ہوئی جو بزم سخن تھی سنبھل گئی

بگڑی ہوئی جو بزم سخن تھی سنبھل گئی کیا بات تھی جو میری زباں سے نکل گئی کیوں ہو گئی ہیں دونوں کی راہیں الگ الگ میں وہ نہیں رہا کہ یہ دنیا بدل گئی وعدہ وہ اپنے آنے کا پورا نہ کر سکا شاید شب فراق کوئی چال چل گئی یہ میری تربیت کا کرشمہ نہ ہو کوئی اولاد میری مجھ سے بھی آگے نکل ...

مزید پڑھیے

بس دیکھ رہا ہوں مرا پیمانہ کہاں ہے

بس دیکھ رہا ہوں مرا پیمانہ کہاں ہے اللہ مری جرأت رندانہ کہاں ہے پڑ جائیں نہ اس پر غم دنیا کی نگاہیں اے بھولنے والے مرا افسانہ کہاں ہے اب مجھ کو دکھائے نہ خدا ہوش کا عالم وہ پوچھ رہے ہیں مرا دیوانہ کہاں ہے مجھ رند الستی کو کہاں ہوش کہ دیکھوں کعبہ ہے کدھر اور صنم خانہ کہاں ...

مزید پڑھیے

مسائل ہیں جو لا ینحل بہت آسان بن جاتے

مسائل ہیں جو لا ینحل بہت آسان بن جاتے جو شیخ و برہمن کچھ دیر کو انسان بن جاتے نفس کی آمد و شد شعر ہم دیوان بن جاتے بہ نظم زندگانی تم اگر عنوان بن جاتے مسیحائے زماں بننا بھی کوئی امر مشکل تھا جو تم کر لیتے میرے درد کی پہچان بن جاتے بیاں کرتے صفات اپنی جو بام خود نمائی سے تو ہم چرخ ...

مزید پڑھیے

قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے

قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے کیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہے گنجائش دو شاہ نہیں ایک ملک میں وحدانیت کے حق کی یہی بس دلیل ہے مشہد پہ دل کے دیدۂ گریاں پکار دے پیاسا نہ جا بنام شہیداں سبیل ہے نظریں لڑانے میں وہ تغافل ہے خوش نما جس طرح سے پتنگوں کے پنجوں میں ڈھیل ہے ایمانؔ کیا ...

مزید پڑھیے

کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا

کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا ایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گا جوں چاہیئے ووں دل کی نکالوں گا ہوس میں جس دن وہ مجھے کیف میں سرشار ملے گا اک عمر سے پھرتا ہوں لیے دل کو بغل میں اس جنس کا بھی کوئی خریدار ملے گا مل جائے گا پھر آپ سے یہ زخم جگر بھی جس روز کہ مجھ سے وہ ستم گار ملے ...

مزید پڑھیے

مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم

مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم پھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہم ہر قدم پر جس کے اعجاز مسیحائی فدا اس ادا اس ناز اس رفتار کے قربان ہم عمر بھر ساقی نہ چھوڑی مے کدہ کی بندگی ایک ہی پیمانے پر کرتے ہیں یہ پیمان ہم کوئی تو دعوت بتا دو اس طرح کی شیخ جی ایک شب تو اپنے گھر اس کو ...

مزید پڑھیے

پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے

پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے جنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھے آنا اگر ترا نہیں ہوتا ہے میرے گھر دولت سرا میں اپنے ہی اک دن بلا مجھے وہ ہووے اور میں ہوں اور اک کنج عافیت اس سے زیادہ چاہیے پھر اور کیا مجھے پیدا کیا ہے جب سے کہ میں ربط عشق سے بیگانہ جانتا ہے ہر ایک آشنا ...

مزید پڑھیے

یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا

یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا قیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھا مجلس میں تیری کاوش مژگاں کے ہاتھ سے غنچہ نمط ہر ایک جگر لخت لخت تھا آنسو تو چیر کر صف مژگاں نکل گیا لڑکا تھا خورد سال پہ دل کا کرخت تھا تجھ پہ گداز دل ہے سراپا اے شمع رو جوں نخل موم باغ میں ہر اک درخت ...

مزید پڑھیے

دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے

دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے ہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہے کوئی دن گھر سے نہ نکلے ہے اگر وہ خورشید منتظر شام تلک ایک جہاں رہتا ہے جھاڑ دامن کے تئیں مار کے ٹھوکر نکلے کہیں روکے سے بھی وہ سرو رواں رہتا ہے گاہے ماہے اے مہ عید ادھر بھی تو گزر روز و شب بزم میں تیرا ہی ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم

دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم وہ تیری یاد ترے انتظار کا موسم جھکی ہے آنکھ کئی رت جگے سمیٹے ہوئے چھپا ہے لمس میں کیسا خمار کا موسم ہمارے پیار نے عمر دوام مانگی ہے ہمیں قبول نہیں تھا ادھار کا موسم فراق لمحوں کو ہم نے حسیں بنایا ہے سجا کے دل میں ترے اعتبار کا موسم ملی نگاہ تو اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 566 سے 4657