شاعری

میں وصل میں بھی شیفتہؔ حسرت طلب رہا

میں وصل میں بھی شیفتہؔ حسرت طلب رہا گستاخیوں میں بھی مجھے پاس ادب رہا تغییر وضع کی ہے اشارہ وداع کا یعنی جفا پہ خوگر الطاف کب رہا میں رشک سے چلا تو کہا بے سبب چلا اس پر جو رہ گیا تو کہا بے سبب رہا دم بھر بھی غیر پر نگہ لطف کیوں ہے اب اک عمر میں ستم کش چشم غضب رہا تھا شب تو آہ میں ...

مزید پڑھیے

اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ

اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ نور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھ دو چار فرشتوں پہ بلا آئے گی نا حق اے غیرت ناہید نہ ہو نغمہ سرا دیکھ منت سے مناتے ہیں مجھے میں نہیں منتا اوضاع ملک دیکھ اور اطوار‌ گدا دیکھ گر بو الہوسی یوں تجھے باور نہیں آتی اک مرتبہ اغیار کے قابو میں تو آ ...

مزید پڑھیے

دل لیا جس نے بے وفائی کی

دل لیا جس نے بے وفائی کی رسم ہے کیا یہ دل ربائی کی تذکرہ صلح غیر کا نہ کرو بات اچھی نہیں لڑائی کی تم کو اندیشۂ گرفتاری یاں توقع نہیں رہائی کی وصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ مجھ کو طاقت نہیں جدائی کی دل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے کس کو ہے لاف دل ربائی کی ایک دن تیرے گھر میں آنا ...

مزید پڑھیے

کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں

کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں کب نگاہیں کرشمہ زار نہیں غیر پر رحم یہ کسے آیا تم تو مانا ستم شعار نہیں یاں فغاں سے لہو ٹپکتا ہے میں نواسنج شاخسار نہیں کلفت دل سے ہے جو آلودہ گوہر اشک آبدار نہیں ہم ہیں ایسے فراخ رو درویش محفل پادشہ سے عار نہیں نہ جلا خانۂ عدو تو نہ ہنس شعلۂ آہ ہے ...

مزید پڑھیے

کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم

کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم دانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہم in my lack of knowledge, less troubles bother me much better than being wise has been behaving foolishly شاید رقیب ڈوب مریں بحر شرم میں ڈوبیں گے موج اشک کی طغیانیوں میں ہم it could be in a sea of shame my rival will be drowned I, sunken in the stormy waves of envy will be found محتاج فیض نامیہ ...

مزید پڑھیے

شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں

شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں جلوے نے تیرے آگ لگائی نقاب میں وہ قطرہ ہوں کہ موجۂ دریا میں گم ہوا وہ سایہ ہوں کہ محو ہوا آفتاب میں اس صوت جاں نواز کا ثانی بنا نہیں کیا ڈھونڈتے ہو بربط و عود و رباب میں پوچھی تھی ہم نے وجہ ملاقات مدعی اک عمر ہو گئی انہیں فکر جواب میں لڑتی نہ ...

مزید پڑھیے

تھا غیر کا جو رنج جدائی تمام شب

تھا غیر کا جو رنج جدائی تمام شب نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب شکوہ مجھے نہ ہو جو مکافات حد سے ہو واں صلح ایک دم ہے لڑائی تمام شب یہ ڈر رہا کہ سوتے نہ پائیں کہیں مجھے وعدے کی رات نیند نہ آئی تمام شب سچ تو یہ ہے کہ بول گئے اکثر اہل شوق بلبل نے کی جو نالہ سرائی تمام شب دم بھر ...

مزید پڑھیے

ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے

ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے فلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہے نہ دیکھا اپنے بسمل کا تماشا قریب آ کر وہ کتنا دوربیں ہے یہ اچھا ہے تو اچھا غیر کو بھی ستاؤ اور پوچھو کیوں غمیں ہے ہمیں صورت دکھائے کیا تمنا کہ عاشق جس کے ہیں پردہ نشیں ہے یہ مجھ سے شکوہ ہے اللہ رے شوخی کہ میرے غم سے ...

مزید پڑھیے

کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں

کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں کچھ زہر اگل رہی ہے بلبل کچھ زہر ملا ہوا ہے مے میں بد مست جہان ہو رہا ہے ہے یار کی بو ہر ایک شے میں ہے مستیٔ نیم خام کا ڈر اصرار ہے جام پے بہ پے میں مے خانہ نشیں قدم نہ رکھیں بزم جم و بارگاہ کے میں اب تک زندہ ہے نام واں کا گزرا ...

مزید پڑھیے

عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی

عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی یار سے مجھ کو ندامت ہو گئی خاک عرض مدعا اس سے کروں جس کو باتوں میں کدورت ہو گئی یاں سے جانے کو ہیں وہ آچک کہیں کیا بلا اے ابر رحمت ہو گئی اب ستم اغیار پر کرنے لگے میرے مر جانے سے عبرت ہو گئی جلوۂ معنی نظر آنے لگا پیتے پیتے مے یہ صورت ہو گئی ان کی باتیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 563 سے 4657