وہ رقص کرنے لگیں ہوائیں وہ بدلیوں کا پیام آیا
وہ رقص کرنے لگیں ہوائیں وہ بدلیوں کا پیام آیا یہ کس نے بکھرائیں رخ پہ زلفیں یہ کون بالائے بام آیا مجھے خوشی ہے کہ آج میرا جنوں بھی یوں میرے کام آیا سمجھ کے دیوانۂ محبت تمہارے ہونٹوں پہ نام آیا مجھے صراحی سے کیا غرض ہے میرا نشہ اصل میں الگ ہے ادھر تمہاری نگاہ اٹھی ادھر سرور دوام ...