شاعری

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے نہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیے تمام علت درماندگی ہے قلت شوق تپش ہوئی پر پرواز مرغ جاں کے لیے شریک بلبل و قمری ہیں وہ زبوں فطرت جو بے قرار رہے سیر گلستاں کے لیے امید ہے کہ نباہیں گے امتحاں لے کر جو اس قدر متقاضی ہیں امتحاں کے لیے نہ ...

مزید پڑھیے

یار کو محروم تماشا کیا

یار کو محروم تماشا کیا مرگ مفاجات نے یہ کیا کیا آپ جو ہنستے رہے شب بزم میں جان کو دشمن کی میں رویا کیا عرض تمنا سے رہا بے قرار شب وہ مجھے میں اسے چھیڑا کیا سرد ہوا دل وہ ہے غیروں سے گرم شعلے نے الٹا مجھے ٹھنڈا کیا مہر قمر کا ہے اب ان کو گمان آہ فلک سیر نے یہ کیا کیا ان کو محبت ہی ...

مزید پڑھیے

دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے

دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے کن حسرتوں سے خون ہم اپنا پیا کیے while from my rival's hand, last night, she was accepting wine with such yearnings unfulfilled I drank this blood of mine شکر ستم نے اور بھی مایوس کر دیا اس بات کا وہ غیر سے شکوہ کیا کیے my gratitude for her torment then irked her even more she went up to my rival complaining on this score کب دل کے چاک کرنے کی ...

مزید پڑھیے

تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں

تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں آپ کو بھولے ہم ان کی یاد میں my heart, because of sorrow was constricted and upset in thoughts of her, even myself, I managed to forget کیونکر اٹھتا ہے خدا رنج قفس مر گئے ہم تو کف صیاد میں How can I Lord, the suffering of imprisonment endure? as in the captor's grasp itself I had died for sure وہ جو ہیں تاریخ سے واقف بتائیں فرق باد آہ و باد عاد ...

مزید پڑھیے

کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں

کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں کون سی شب ہے کہ خنجر سے جگر چاک نہیں لطف قاتل میں تامل نہیں پر کیا کیجے سر شوریدہ مرا قابل فتراک نہیں تجھ پر اے دلبر عالم جو ہر اک مرتا ہے اس لیے مرنے سے میرے کوئی غم ناک نہیں دل ہوا پاک تو پھر کون نظر کرتا ہے اور دل پاک نہیں ہے تو نظر پاک ...

مزید پڑھیے

کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہے

کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہے تمہارے پوچھنے ہی سے عیاں ہے شکایت کی بھی اب طاقت کہاں ہے نگاہ حسرت آہ ناتواں ہے نشان پائے غیر اس آستاں پر نہیں ہے میرے مرقد کا نشاں ہے اجل نے کی ہے کس دم مہربانی کہ جب پہلو میں وہ نامہرباں ہے تجھے بھی مل گیا ہے کوئی تجھ سا اب آئینے سے وہ صحبت کہاں ...

مزید پڑھیے

مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم

مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم oppressed, in parting from my love, I died so restless in my grave I now reside تا دل کینہ ور میں پائیں جگہ خاک ہو کر ملے غبار میں ہم to find place in her heart full of mistrust I grind myself into misgiving's dust وہ تو سو بار اختیار میں آئے پر نہیں اپنے اختیار میں ہم a hundred times, she came within my clasp, but ...

مزید پڑھیے

جب رقیبوں کا ستم یاد آیا

جب رقیبوں کا ستم یاد آیا کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا کب ہمیں حاجت پرہیز پڑی غم نہ کھایا تھا کہ سم یاد آیا نہ لکھا خط کہ خط پیشانی مجھ کو ہنگام رقم یاد آیا شعلۂ زخم سے اے صید فگن داغ آہوئے حرم یاد آیا ٹھہرے کیا دل کہ تری شوخی سے اضطراب پئے ہم یاد آیا خوبئ بخت کہ پیمان عدو اس کو ...

مزید پڑھیے

محو ہوں میں جو اس ستم گر کا

محو ہوں میں جو اس ستم گر کا ہے گلہ اپنے حال ابتر کا حال لکھتا ہوں جان مضطر کا رگ بسمل ہے تار مسطر کا آنکھ پھرنے سے تیری مجھ کو ہوا گردش دہر دور ساغر کا شعلہ رو یار شعلہ رنگ شراب کام یاں کیا ہے دامن تر کا شوق کو آج بے قراری ہے اور وعدہ ہے روز محشر کا نقش تسخیر غیر کو اس نے خوں لیا ...

مزید پڑھیے

روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں

روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں every day, some in your street are slain my love, a furor now infests your lane فرش رہ ہیں جو دل افگار ترے کوچے میں خاک ہو رونق گلزار ترے کوچے میں with bloodied hearts your street is littered now your street can never have the garden's glow سرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں گرم ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 564 سے 4657