میں وصل میں بھی شیفتہؔ حسرت طلب رہا

میں وصل میں بھی شیفتہؔ حسرت طلب رہا
گستاخیوں میں بھی مجھے پاس ادب رہا


تغییر وضع کی ہے اشارہ وداع کا
یعنی جفا پہ خوگر الطاف کب رہا


میں رشک سے چلا تو کہا بے سبب چلا
اس پر جو رہ گیا تو کہا بے سبب رہا


دم بھر بھی غیر پر نگہ لطف کیوں ہے اب
اک عمر میں ستم کش چشم غضب رہا


تھا شب تو آہ میں بھی اثر جذب دل میں بھی
کیونکر نہ آئے شیفتہؔ مجھ کو عجب رہا