لے اڑے خاک بھی صحرا کے پرستار مری
لے اڑے خاک بھی صحرا کے پرستار مری راہ تکتے ہی رہے شہر کے بازار مری تیز آندھی نے کئے مجھ پہ بلا کے حملے پھر بھی قائم رہی مٹی کی یہ دیوار مری چھپ گیا تھا مرے جنگل میں کوئی سایہ سا آج تک اس کے تعاقب میں ہے تلوار مری گونج ابھرے گی مری روح کے سناٹوں سے سلب ہو جائے گی جب طاقت گفتار ...