شاعری

لے اڑے خاک بھی صحرا کے پرستار مری

لے اڑے خاک بھی صحرا کے پرستار مری راہ تکتے ہی رہے شہر کے بازار مری تیز آندھی نے کئے مجھ پہ بلا کے حملے پھر بھی قائم رہی مٹی کی یہ دیوار مری چھپ گیا تھا مرے جنگل میں کوئی سایہ سا آج تک اس کے تعاقب میں ہے تلوار مری گونج ابھرے گی مری روح کے سناٹوں سے سلب ہو جائے گی جب طاقت گفتار ...

مزید پڑھیے

سحر کو دھند کا خیمہ جلا تھا

سحر کو دھند کا خیمہ جلا تھا ہیولیٰ کہر کے اندر چھپا تھا مکاں جسموں کی خوشبو سے تھا خالی مگر سایوں سے آنگن بھر گیا تھا جلی حدت سے نم آلود مٹی کوئی سورج زمیں میں دھنس گیا تھا خموشی کی گھٹن سے چیخ اٹھا مرا گنبد بھی صحرا کی صدا تھا ابھر آئی تھی دریاؤں میں خشکی مگر ڈھلوان پر پانی ...

مزید پڑھیے

غازہ تو ترا اتر گیا تھا

غازہ تو ترا اتر گیا تھا میں دیکھ کے خود کو ڈر گیا تھا اس شہر میں راستے کا پتھر میں جنگلوں سے گزر گیا تھا تحریر جبیں مٹی ہوئی تھی تقدیر کا زخم بھر گیا تھا بے نور تھی جھیل بھی کنول سے سورج بھی خلا میں مر گیا تھا احساس شباب غم محبت ایک ایک نشہ اتر گیا تھا دل کو وہ سکوں ملا ترے ...

مزید پڑھیے

آ رہی تھی بند کلیوں کے چٹکنے کی صدا

آ رہی تھی بند کلیوں کے چٹکنے کی صدا میں سراپا گوش ہو کر رات بھر سنتا رہا بہہ گیا ظلمات کے سیلاب میں ایوان سنگ دھوپ جب نکلی تمازت سے سمندر جل اٹھا جب رگ و پے میں سرایت کر رہا تھا زہر حبس روزن دیوار سے مجھ پر ہنسی ٹھنڈی ہوا سبز کھیتوں سے کوئی صحرا میں لے جائے مجھے میں ہرے سورج کی ...

مزید پڑھیے

ہوا چلی تو پسینہ رگوں میں بیٹھ گیا

ہوا چلی تو پسینہ رگوں میں بیٹھ گیا نمی کا زہر شجر کی جڑوں میں بیٹھ گیا اداس کیوں نہ ہوں اب تیرے قرب کی صبحیں شب فراق کا ڈر سا دلوں میں بیٹھ گیا ابھی فضاؤں میں برق صدا ہی کوندی تھی زمانہ خوف کے مارے گھروں میں بیٹھ گیا نہ کام آ سکی اعضا کی چار دیواری مکاں بدن کا زمیں کی تہوں میں ...

مزید پڑھیے

جب کھلے مٹھی تو سب پڑھ لیں خط تقدیر کو

جب کھلے مٹھی تو سب پڑھ لیں خط تقدیر کو جی میں آتا ہے مٹا دوں ہاتھ کی تحریر کو جسم سناٹے کے عالم سے گزرتا ہی نہیں بے حسی نے اور اور بوجھل کر دیا زنجیر کو بہتا دریا ہے کہ آئینہ گری کا سلسلہ دیکھتا رہتا ہوں پانی میں تری تصویر کو صبح نو نے کاٹ ڈالے شام‌ ظلمت کے حصار کس طرح روکے کوئی ...

مزید پڑھیے

بوالہوس میں بھی نہ تھا وہ بت بھی ہرجائی نہ تھا

بوالہوس میں بھی نہ تھا وہ بت بھی ہرجائی نہ تھا پھر بھی ہم بہروپیوں کو خوف رسوائی نہ تھا آندھیوں نے سب مٹا ڈالے نقوش‌‌ رہ گزار ریت کے سینے پہ داغ آبلہ پائی نہ تھا رات کے کالے کنوئیں میں چھپ گیا سایہ مرا اس سے پہلے تو کبھی یہ رنگ‌ تنہائی نہ تھا وہم کا پیکر تھا آویزاں در و دیوار ...

مزید پڑھیے

ہوائے عشق میں شامل ہوس کی لو ہی رہی

ہوائے عشق میں شامل ہوس کی لو ہی رہی بڑھا بھی ربط تو بے ربط گفتگو ہی رہی نہ آئی ہاتھ میں تتلی گداز خوشبو کی گل بدن کی مہک میرے چار سو ہی رہی وہ دشت دشت سی آنکھیں چمن چمن چہرہ سراب خوف کی اک لہر روبرو ہی رہی طلوع افق پہ ہے اب تک وہی ستارۂ باد میں بھول جاؤں اسے دل میں آرزو ہی ...

مزید پڑھیے

وقت کا دامن پھسلتا جا رہا ہے

وقت کا دامن پھسلتا جا رہا ہے عمر کا پل پل نکلتا جا رہا ہے ہو گئی ہے زندگی ویران جیسی کس طرح سب کچھ بدلتا رہا ہے کیا پتہ یہ راہ نکلے گی کہاں پر یہ زمانہ جس پہ چلتا جا رہا ہے گھل رہا ہے سنکھیا کتنا ہوا میں ہر طرف موسم بدلتا جا رہا ہے سوچ میں چنگاریاں سی اٹھ رہی اب من میں اک ارماں ...

مزید پڑھیے

الجھنوں میں ہی الجھتی زندگانی رہ گئی

الجھنوں میں ہی الجھتی زندگانی رہ گئی بس وفاؤں کی بدولت شادمانی رہ گئی تم فلک پر چاند بن کر روشنی دیتے رہے میں مہکتی سی تمہاری رات رانی رہ گئی خواب سب بے نور ہیں بے رنگ گم سم رونقیں زندگی تم بن کہاں اب زعفرانی رہ گئی ڈھل رہی ہے شب اداسی درد کا عالم ہوا یہ سپرد خاک دنیا فانی فانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 559 سے 4657