شاعری

زندہ ہو جاتا ہوں میں جب یار کا آتا ہے خط

زندہ ہو جاتا ہوں میں جب یار کا آتا ہے خط روح تازہ مردہ دل کے واسطے لاتا ہے خط تہنیت نامہ نہیں یہ اے مرے پیغامبر اس سے کہنا اشک خوں سے سرخ ہو جاتا ہے خط سر زمین قاف پر ہے فوج زنگی کا ہجوم یہ سماں تیرے رخ انور پہ دکھلاتا ہے خط دھمکیاں تحریر ہوں یا ظلم کا مضمون ہو پھر یہ میرے دل کو ...

مزید پڑھیے

کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ

کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ لفظ لپٹے ہیں مرے حلقۂ زنجیر کے ساتھ خواب میں دیکھا تھا کل رات نظارا کیسا ایک زنجیر بندھی تھی مری تصویر کے ساتھ حشر تک جیت کا ارمان لیے بیٹھا رہا وقت کی ناؤ پہ ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ بات ہم کو نہ سمجھ آئی تمہاری اب تک بات ہم کو ذرا سمجھاؤ تو ...

مزید پڑھیے

میرا وجود قابل صحرا تو ہے نہیں

میرا وجود قابل صحرا تو ہے نہیں سودا تمہارے عشق کا رکھا تو ہے نہیں بہتر ہے بھول جاؤں میں اس کی مخالفت اس سے نجات کا کوئی ذریعہ تو ہے نہیں اس دل میں ایک حلقۂ احباب اور ہے خالی تمہارے نام کا ٹھپہ تو ہے نہیں اگنی کے سات پھیرے لیے ہیں تمہارے ساتھ خالی یہ چند روز کا رشتہ تو ہے ...

مزید پڑھیے

اشک جو آنکھ میں ابلتے ہیں

اشک جو آنکھ میں ابلتے ہیں دیپ دل کے انہی سے جلتے ہیں موسموں کا گلہ نہیں کرتے گر کے جو آدمی سنبھلتے ہیں غم جان بہار کے صدقے غم جہاں کے اسی سے ٹلتے ہیں ان کو آخر جنوں سے کیا حاصل پیرہن روز جو بدلتے ہیں ہم نے گرمیٔ شمع کیا کرنی گرمیٔ شوق میں پگھلتے ہیں واعظ نا سمجھ پئیں شربت ہم ...

مزید پڑھیے

گل بھیک میں لیتے ہیں جس پھول سے رعنائی

گل بھیک میں لیتے ہیں جس پھول سے رعنائی ہم کو بھی میسر ہے اس نام سے تنہائی دونوں کے مقدر کی گردش ہی نرالی ہے یہ قلب تھکا ہارا وہ لالۂ صحرائی کیوں خلق کا شوق آیا کوئی کبر سے جا پوچھے کیا چیز تھی تنہائی؟ کیا خوب تھی یکتائی؟ یک طرفہ محبت کا ہر رنگ نرالا ہے بیگانہ کرے جگ سے یہ رحمت ...

مزید پڑھیے

وہ ہر ہر قدم پر سنبھلتے ہوئے

وہ ہر ہر قدم پر سنبھلتے ہوئے دلوں کو مسلتے ہیں چلتے ہوئے نہ ارماں کو دیکھا نکلتے ہوئے نہ نخل تمنا کو پھلتے ہوئے وہ کس طرح قابو میں آئیں مرے قیامت کے پتلے ہیں چلتے ہوئے رہی ایک انداز پر چشم یار زمانے کو دیکھا بدلتے ہوئے وہ کچھ رنگ لائیں گے روز وصال حنا ان کو دیکھا ہے ملتے ...

مزید پڑھیے

بدن کے پاس خوشی کی اساس ہو کر بھی

بدن کے پاس خوشی کی اساس ہو کر بھی رکھا ہے غم سے تعلق اداس ہو کر بھی ذلیل جب سے کیا ہے امیر لوگوں نے نہیں وہ مانگتا کچھ بھوک پیاس ہو کر بھی نہ کام کاج نہ روٹی سو چل پڑے پیدل قدم رکے ہی کہاں اتنی یاس ہو کر بھی ہوئی ہے رنگ محبت میں تتلیوں کی نمود بدن نے دیکھ لیا بد حواس ہو کر ...

مزید پڑھیے

کبھی قریب کبھی دور سے گزرتے ہوئے

کبھی قریب کبھی دور سے گزرتے ہوئے عذاب دیتے ہیں کچھ لوگ میرے برتے ہوئے قریب پانی کے جانا نہیں کسی صورت وصیت آگ نے کی تھی شرر کو مرتے ہوئے بنا ہے جب سے مرا جسم حیرتوں کا مقام میں دیکھتا ہوں جہاں میں سبھی کو ڈرتے ہوئے یتیم لگنے لگا عشق میرا مجھ کو خود میں رو پڑا ہوں نظر سے تری ...

مزید پڑھیے

عشق سے پہلے وہ انسان تھا اچھا خاصا

عشق سے پہلے وہ انسان تھا اچھا خاصا اس کا جیون بھی گلستان تھا اچھا خاصا ہم بزرگوں سے ہمیشہ یہی سنتے آئے اس جگہ پھولوں کا بستان تھا اچھا خاصا کب تلک ہاتھ کو پھیلاتا میں اس کے آگے اس کا پہلے سے ہی احسان تھا اچھا خاصا کسی عورت نے نہیں بھیجی ہے اس کو لعنت جو مرے جسم میں حیوان تھا ...

مزید پڑھیے

پریشاں اس طرح ہونے سے کیا ہوگا

پریشاں اس طرح ہونے سے کیا ہوگا وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا کبھی سوچا نہیں میں نے محبت میں وہ مجھ سے روٹھ کر ایسے خفا ہوگا نہیں کوئی شکایت ہے مجھے اس سے شب فرقت میں وہ بھی تو جلا ہوگا چلو گے کب تلک تم ان کے کاندھوں پر بھلا کیا خاک تم کو تجربہ ہوگا بہت ہی مشترک تھے درد دونوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 552 سے 4657