زندہ ہو جاتا ہوں میں جب یار کا آتا ہے خط
زندہ ہو جاتا ہوں میں جب یار کا آتا ہے خط روح تازہ مردہ دل کے واسطے لاتا ہے خط تہنیت نامہ نہیں یہ اے مرے پیغامبر اس سے کہنا اشک خوں سے سرخ ہو جاتا ہے خط سر زمین قاف پر ہے فوج زنگی کا ہجوم یہ سماں تیرے رخ انور پہ دکھلاتا ہے خط دھمکیاں تحریر ہوں یا ظلم کا مضمون ہو پھر یہ میرے دل کو ...