کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ
کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ
لفظ لپٹے ہیں مرے حلقۂ زنجیر کے ساتھ
خواب میں دیکھا تھا کل رات نظارا کیسا
ایک زنجیر بندھی تھی مری تصویر کے ساتھ
حشر تک جیت کا ارمان لیے بیٹھا رہا
وقت کی ناؤ پہ ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ
بات ہم کو نہ سمجھ آئی تمہاری اب تک
بات ہم کو ذرا سمجھاؤ تو تفسیر کے ساتھ
جرم ہنستا رہا تا دیر عدالت میں آج
اور سچ روتا رہا جھوٹ کی تحریر کے ساتھ
کام کچھ کر ہی گیا ترک تعلق انورؔ
نام لیتا تھا مرا آج وہ توقیر کے ساتھ