پریشاں اس طرح ہونے سے کیا ہوگا

پریشاں اس طرح ہونے سے کیا ہوگا
وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا


کبھی سوچا نہیں میں نے محبت میں
وہ مجھ سے روٹھ کر ایسے خفا ہوگا


نہیں کوئی شکایت ہے مجھے اس سے
شب فرقت میں وہ بھی تو جلا ہوگا


چلو گے کب تلک تم ان کے کاندھوں پر
بھلا کیا خاک تم کو تجربہ ہوگا


بہت ہی مشترک تھے درد دونوں کے
یقیناً عاشقی کا مسئلہ ہوگا


خود اپنے ذہن کی گہرائیوں میں گم
کسی کمبل میں وہ لپٹا پڑا ہوگا


سڑک پے روشنی کی دوڑ جاری ہے
اندھیرا آگے آگے بھاگتا ہوگا


مرے اطراف کی خلوت میں تنہا وہ
مجھے شدت سے انورؔ ڈھونڈھتا ہوگا