شاعری

بہتا ہے کوئی غم کا سمندر مرے اندر

بہتا ہے کوئی غم کا سمندر مرے اندر چلتے ہیں تری یاد کے خنجر مرے اندر کہرام مچا رہتا ہے اکثر مرے اندر چلتی ہے ترے نام کی صرصر مرے اندر گمنام سی اک جھیل ہوں خاموش فراموش مت پھینک ارے یاد کے کنکر مرے اندر جنت سے نکالا ہوا آدم ہوں میں آدم باقی وہی لغزش کا ہے عنصر مرے اندر کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

نکلنے والے نہ تھے زندگی کے کھیل سے ہم

نکلنے والے نہ تھے زندگی کے کھیل سے ہم کہ چین کھینچ کے اترے تھے خود ہی ریل سے ہم رہا نہیں بھی وہ کرتا تو مسئلہ نہیں تھا فرار یوں بھی تو ہو جاتے اس کی جیل سے ہم سخن میں شعبدہ بازی کے ہم نہیں قائل بندھے ہوئے ہیں روایات کی نکیل سے ہم جسے بھی دیکھو لبھایا ہوا ہے دنیا کا سو بچ گئے ہیں ...

مزید پڑھیے

حسن جب قاتل نہ تھا اور عشق دیوانہ نہ تھا

حسن جب قاتل نہ تھا اور عشق دیوانہ نہ تھا زندگی میں درد و غم کا کوئی افسانہ نہ تھا سب سے وہ کہتا پھرا میں ہی تھا اس کا آشنا سامنے آیا تو اس نے مجھ کو پہچانا نہ تھا رات بھر کچھ آہٹیں دل کی طرف آتی رہیں ہم تھے جس کے منتظر اس کو مگر آنا نہ تھا ایک سہمی سی تمنا ایک مبہم سا خیال اس سے ...

مزید پڑھیے

اس نے پھر اور کیا کہا ہوگا

اس نے پھر اور کیا کہا ہوگا راز ہستی بتا چکا ہوگا تم جو چاہو تو جا ملو اس سے وہ ابھی موڑ پر کھڑا ہوگا بے خودی اور بڑھ گئی دل کی جانے کیا یاد آ گیا ہوگا مل گئیں جس سے آپ کی نظریں آج تک خواب دیکھتا ہوگا کوئی اپنی ہنسی کے پردے میں درد دل کا چھپا رہا ہوگا اجنبی شہر میں چلو ...

مزید پڑھیے

وہ جس کے دل میں نہاں درد دو جہاں کا تھا

وہ جس کے دل میں نہاں درد دو جہاں کا تھا خبر کسی کو نہیں کون تھا کہاں کا تھا تلاش یار میں بھٹکا کیے خلاؤں میں ہمیں زمیں کا پتہ تھا نہ آسماں کا تھا ہنسا جو پھول تو شبنم کی آنکھ بھر آئی بہار سمجھا جسے دور وہ خزاں کا تھا ہزار بار مرا زندگی میں جیتے جی وہ شخص خوف جسے مرگ ناگہاں کا ...

مزید پڑھیے

جس کو جانا تھا کل تک خدا کی طرح

جس کو جانا تھا کل تک خدا کی طرح آج ملتا ہے وہ آشنا کی طرح میری ہستی بھی ہو جائے گی جاوداں دست قاتل اٹھا ہے دعا کی طرح اس کے ہاتھوں پہ ہیں میرے خوں کے نشاں جو مہکتے ہیں رنگ حنا کی طرح جستجو ہے مجھے آج اس شخص کی جو وفا بھی کرے بے وفا کی طرح راہ منزل میں بیٹھو نہ یوں ہار کر روندے جاؤ ...

مزید پڑھیے

راز فطرت نہاں تھا نہاں ہے ابھی

راز فطرت نہاں تھا نہاں ہے ابھی آسماں سے پرے آسماں ہے ابھی میں ازل سے سناتا رہا ہوں مگر نامکمل مری داستاں ہے ابھی ہم سفر چھوڑ کر چل دیے ہیں تو کیا ساتھ میرے یہ عمر رواں ہے ابھی عمر بھر سوئے منزل چلا ہوں مگر فاصلہ جوں کا توں درمیاں ہے ابھی راحتوں کے وہ دن جانے کب آئیں گے زندگی ...

مزید پڑھیے

رگ رگ میں تیرے ہجر کو بھرنا پڑا مجھے

رگ رگ میں تیرے ہجر کو بھرنا پڑا مجھے تیرے لیے یہ کام بھی کرنا پڑا مجھے تشنہ لبی تھی اور سمندر میں زہر تھا تھوڑا سا جینے کے لیے مرنا پڑا مجھے تنہا یہ تیرگی سے بھلا کیسے جیتتا سورج کے ساتھ ساتھ ابھرنا پڑا مجھے میں آپ اپنا بوجھ تھا اپنے ہی آپ پر سو اپنے آپ سے ہی اترنا پڑا ...

مزید پڑھیے

تیری رات میں گہما گہمی میری ہر اک رات میں چپ

تیری رات میں گہما گہمی میری ہر اک رات میں چپ تیری چپ میں سب باتیں ہیں میری ہر اک بات میں چپ اک اک کر کے سارے اپنے مجھ سے ایسے دور گئے تنہائی نے ڈیرا ڈالا پھیلی اندر ذات میں چپ جانے کیسی یہ قسمت ہے چاہوں کچھ تو ہوتا کچھ میں رونق کو ڈھونڈ رہا ہوں اور ہے میری گھات میں چپ میں نے اس سے ...

مزید پڑھیے

روشنی سے ہار کر

روشنی سے ہار کر تیرگی سے پیار کر ہاتھ ہاتھوں سے ملا پیٹھ پیچھے وار کر ضدی بچہ سو گیا اپنی خواہش مار کر سوچ کا چشمہ لگا دیر تک دیدار کر کس نے بولا درد لے کس نے بولا پیار کر زہر پی اور ہو امر ڈوب جا اور پار کر عشق کی بازی لگا جیت جا سب ہار کر خامشی کا قفل توڑ لب ہلا اظہار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 545 سے 4657