بہتا ہے کوئی غم کا سمندر مرے اندر
بہتا ہے کوئی غم کا سمندر مرے اندر چلتے ہیں تری یاد کے خنجر مرے اندر کہرام مچا رہتا ہے اکثر مرے اندر چلتی ہے ترے نام کی صرصر مرے اندر گمنام سی اک جھیل ہوں خاموش فراموش مت پھینک ارے یاد کے کنکر مرے اندر جنت سے نکالا ہوا آدم ہوں میں آدم باقی وہی لغزش کا ہے عنصر مرے اندر کہتے ہیں ...