شاعری

معاف کیجیے گستاخیاں ہماری ہیں

معاف کیجیے گستاخیاں ہماری ہیں لبوں پہ آپ کے یہ تتلیاں ہماری ہیں یہ چیت کا ہے مہینہ تمہاری یاد بھرا کہ ان دنوں بڑی سرگرمیاں ہماری ہیں تمہارے ہونٹوں سے کچھ رابطے ہیں گہرے سے تمہاری آنکھوں میں دلچسپیاں ہماری ہیں ہر ایک لفظ ہے پھیکا ہے بے‌ سواد سا ہے بہت لذیذ یہ خاموشیاں ہماری ...

مزید پڑھیے

کئی طرح کے لباس و حجاب رکھوں گا

کئی طرح کے لباس و حجاب رکھوں گا ادھڑ رہا ہے یہ جیون نقاب رکھوں گا کوئی کتاب تھما کر غریب بچوں کو نئے درختوں کے کچھ انقلاب رکھوں گا کبھی غرور نہ آئے کسی طرح مجھ میں کہ رحمتوں کا میں اس کی حساب رکھوں گا مجھے سوال گڑت کے سمجھ نہیں آتے ترے فریب کے کیسے حساب رکھوں گا بچھڑ کے شاخ سے ...

مزید پڑھیے

کوئی غزل ہو یہ لہجہ نہیں بدلتے ہم

کوئی غزل ہو یہ لہجہ نہیں بدلتے ہم کہ سچ ہو کتنا بھی کڑوا نہیں بدلتے ہم کسی گلی سے یہ رشتہ نہیں بدلتے ہم تمہارے بعد بھی رستہ نہیں بدلتے ہم کھلی کتاب کے جیسی ہے زندگی اپنی کسی کے سامنے چہرہ نہیں بدلتے ہم لہولہان ہوں نظریں یا روح ہو زخمی ہماری آنکھوں کا سپنا نہیں بدلتے ہم تمام ...

مزید پڑھیے

بہت خوددار ہے گھٹنوں کے بل چل کر نہیں آتا

بہت خوددار ہے گھٹنوں کے بل چل کر نہیں آتا وہ لکھتا ہے بہت اچھا مگر چھپ کر نہیں آتا محبت خلوت دل میں اتر جاتی ہے چپکے سے یہ ایسا ہے مرض یارو کبھی کہہ کر نہیں آتا رضا اس کی بہاتی ہے تو پتوں کو کنارہ ہے مگر خود تیرتا ہے آدمی بہہ کر نہیں آتا جو اس کے دل میں آتا ہے وہی کہتا ہے محفل ...

مزید پڑھیے

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں یعنی تقدیر ستارے سے اٹھا سکتی ہوں اپنے پاؤں پہ کھڑی ہوں تجھے کیا لگتا تھا خود کو بس تیرے سہارے سے اٹھا سکتی ہوں آنکھیں مشتاق ہزاروں ہیں مگر سوچ کے رکھ تیری تصویر نظارے سے اٹھا سکتی ہوں راکھ ہو جائے محبت کی حویلی پل میں اک تباہی میں شرارے سے ...

مزید پڑھیے

جلتا چراغ رات کی چوکھٹ پہ چھوڑ کر

جلتا چراغ رات کی چوکھٹ پہ چھوڑ کر ہم آسمان سے لائے ہیں اک صبح توڑ کر جانے مری کتاب سے کیسے نکل گئے رکھے تھے اس کی یاد کے صفحات موڑ کر شاید ہمارے وصل کی صورت نکل پڑے دیکھیں گے آج ہاتھ کی سطروں کو جوڑ کر گم ہو گئے ہیں سرمگیں الماریوں کے خواب آیا تھا کوئی رات کے تالوں کو توڑ کر اک ...

مزید پڑھیے

سفر کی دھوپ نے چہرہ اجال رکھا تھا

سفر کی دھوپ نے چہرہ اجال رکھا تھا وہ مر گیا تو سرہانے وصال رکھا تھا حسین چہرے کشیدہ کیے تھے مٹی سے بلا کا خاک میں حسن و جمال رکھا تھا وہ حاشیوں میں ترے سرمگیں محبت تھی کہ آئنوں میں کوئی عکس ڈال رکھا تھا فلک کی سانس اکھڑنے لگی تو راز کھلا کہ آسماں کو زمیں نے سنبھال رکھا تھا ترا ...

مزید پڑھیے

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی پر تری بات ہواؤں سے بگڑ جائے گی خشک پیڑوں کی طرح زرد محبت ہے مری اس پہ سبزہ نہیں آیا تو یہ جھڑ جائے گی میں کہ مٹی کی عمارت ہوں کسی روز یوں ہی دل یہ ڈھ جائے گا ہر اینٹ اکھڑ جائے گی اتنا برفاب خموشی کا جزیرہ ہے یہاں چار دن ٹھہروں تو آواز اکڑ جائے ...

مزید پڑھیے

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے اک شاعر کے کمرے جیسی ہم نے عمر گزاری ہے ایک سلاخوں والی کھڑکی جھانک رہی ہے آنگن میں دیواروں پر اوپر نیچے خوابوں کی گلکاری ہے منظر منظر بھیگ رہا ہے شہر کی خالی سڑکوں پر پکی نہر پہ گاؤں کے گھوڑے کی ٹاپ سواری ہے پیاس بجھانے آتے ہیں دکھ درد ...

مزید پڑھیے

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے وقت گزرا جا رہا ہے دھوپ چھت سے ٹل رہی ہے اک لباس فاخرہ ہے سرخ غرقابی محل ہے کچھ پرانی ہو گئی ہے پر کہانی چل رہی ہے اک ستارہ ساز آنکھوں کے کنارے بس رہا ہے اک محبت نام کی لڑکی بدن میں پل رہی ہے پاس تھا کھویا نہیں ہے جو نہ تھا اب بھی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 509 سے 4657