شاعری

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے تیرے بغیر زندگی کرنا حرام ہے کرنے ہیں تیرے جسم پہ اک بار دستخط تاکہ خدا سے کہہ سکوں تو میرے نام ہے ہوتا ہے گفتگو میں بہت بار تذکرہ یعنی ہوا چراغ کا تکیہ کلام ہے پہلے پہل ملی تھی ہمیں شدتوں کی دھوپ اب یوں ہے رابطے کی سرائے میں شام ہے آخر میں بس نشاں ...

مزید پڑھیے

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں اندھیری رات میں تنہا میں اب کدھر جاؤں مجھے بگاڑ دیا ہے مرے ہی لوگوں نے کوئی خلوص سے چاہے تو میں سنور جاؤں مری جدائی میں گزری ہے زندگی کیسی یہ جی میں آئی ہے اس بار پوچھ کر جاؤں بتا تو کفر کا فتویٰ لگائے گا مجھ پر خدا میں مانوں تجھے اور پھر مکر ...

مزید پڑھیے

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے پھر خالی ہاتھ دہر سے جانا پڑا مجھے سب لوگ تیرے شہر کے ماضی پرست تھے مشکل سے حال میں انہیں لانا پڑا مجھے پہلے بنائے آنکھ میں خوابوں کے مقبرے پھر حسرتوں کو دل میں دبانا پڑا مجھے مجھ کو تو خیر خانہ بدوشی ہی راس تھی تیرے لیے مکان بنانا پڑا مجھے کچھ ...

مزید پڑھیے

غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے

غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے تیرے بغیر تو مری دنیا اداس ہے پھیلا ہوا ہے رات کی آنکھوں میں سوز ہجر مہتاب رت میں چاند کا چہرہ اداس ہے لو پھر سے آ گیا ہے جدائی کا مرحلہ آنکھیں ہیں نم مری ترا لہجہ اداس ہے بارش بہا کے لے گئی تنکوں کا آشیاں بھیگے شجر کی شاخ پہ چڑیا اداس ہے شہزادہ سو ...

مزید پڑھیے

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا یادوں کے قافلے سے دسمبر کہاں گیا کٹیا میں رہ رہا تھا کئی سال سے جو شخص تھا عشق نام جس کا قلندر کہاں گیا طوفان تھم گیا تھا ذرا دیر میں مگر اب سوچتی ہوں دل سے گزر کر کہاں گیا تیری گلی کی مجھ کو نشانی تھی یاد پر دیوار تو وہیں ہے ترا در کہاں گیا چائے ...

مزید پڑھیے

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں زندگی روٹھ گئی لوٹ کے پھر آئی نہیں جو سمجھنا ہی نہ چاہے اسے سمجھائی نہیں جو بھی اک بار کہی بات وہ دہرائی نہیں حسن سادہ ہے ترا میں بھی بہت عام سی ہوں میری آنکھوں میں کسی نیل کی گہرائی نہیں میرا حصہ مجھے خاموشی سے دے دیتا ہے درد کے آگے ہتھیلی ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی تیری دہلیز کی مٹی تھی اٹھا کے رکھ لی تجھ کو تکتے ہی رہے رات بہت دیر تلک چاند کے طاق میں تصویر سجا کے رکھ لی دل سی نوخیز کلی تیری محبت کے لیے سینچ کے جذبوں سے پہلو میں کھلا کے رکھ لی اس نئے سال کے سواگت کے لیے پہلے سے ہم نے پوشاک اداسی کی سلا ...

مزید پڑھیے

ایسی شدید روشنی میں جل مروں گا میں

ایسی شدید روشنی میں جل مروں گا میں اتنے حسین شخص کو کیسے سہوں گا میں مجھ سے مرا وجود تو ثابت نہیں ہوا تو آنکھ بھر کے دیکھ لے ہونے لگوں گا میں میں میکدے سے دور ہوں پر دائرے میں ہوں زندہ رہا تو تیرے گلے آ لگوں گا میں میں وہ عجیب شخص ہوں کہ چند روز تک پاگل نہ کر سکا تو اسے مار دوں گا ...

مزید پڑھیے

سنہرا ہی سنہرا وعدۂ فردا رہا ہوگا

سنہرا ہی سنہرا وعدۂ فردا رہا ہوگا قیاس آرائی کا بے ساختہ لمحہ رہا ہوگا سمندر میں چنے موتی نہ تاروں کا جہاں دیکھا ضرور اسکول میں تخئیل پر پہرہ رہا ہوگا کہا تھا جس نے تم سے ہاں میں تم سے پیار کرتا ہوں مرے اندر چھپا اک بے دھڑک لڑکا رہا ہوگا میں اب بھی ڈرتے ڈرتے اپنے حق کی بات کرتا ...

مزید پڑھیے

میں جدائی کا مقرر سلسلہ ہو جاؤں گا

میں جدائی کا مقرر سلسلہ ہو جاؤں گا وہ بھی دن آئے گا جب خود سے جدا ہو جاؤں گا خط لکھو یا فون کے ذریعہ پتہ لیتے رہو ورنہ میں تھوڑے دنوں میں لاپتہ ہو جاؤں گا جاؤں گا میں آئنے کے اس طرف سے اس طرف اور پھر میں میں نہ رہ کر دوسرا ہو جاؤں گا عمر تو بڑھتی رہی اور میں سکڑتا ہی رہا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 510 سے 4657