شاعری

اب کسی کو نہیں مرا افسوس

اب کسی کو نہیں مرا افسوس جان کر یہ بہت ہوا افسوس دکھ نہیں یہ جہاں مخالف ہے ساتھ اپنے نہیں خدا افسوس لڑ کے برباد ہو گئے جب ہم ساتھ مل کر کیا گیا افسوس جب بھی خوشیوں نے در پہ دستک دی سامنے آ کھڑا ہوا افسوس ہم فقط جنگ ہی نہیں ہارے حوصلہ بھی بکھر گیا افسوس اک غزل اور ہو گئی ہم ...

مزید پڑھیے

زمیں پر بس لہو بکھرا ہمارا

زمیں پر بس لہو بکھرا ہمارا ابھی بکھرا نہیں جذبہ ہمارا ہمیں رنجش نہیں دریا سے کوئی سلامت گر رہے صحرا ہمارا ملا کر ہاتھ سورج کی کرن سے مخالف ہو گیا سایہ ہمارا رقیب اب وہ ہمارے ہیں جنھوں نے نمک تا زندگی کھایا ہمارا ہے جب تک ساتھ بنجارہ مجازی کہاں منزل کہاں رستہ ہمارا تعلق ترک ...

مزید پڑھیے

اسے پانے کی کرتے ہو دعا تو

اسے پانے کی کرتے ہو دعا تو مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو چلے ہو رہنما کر علم کو تم تمہیں اس علم نے بھٹکا دیا تو سمجھ سکتے ہو کیا انجام ہوگا تمہارے وار سے وہ بچ گیا تو بہت مصروف تھا محفل میں مانا نہیں کچھ بولتا پر دیکھتا تو کسی ...

مزید پڑھیے

شام فراق اپنی فروزاں نہ کر سکے

شام فراق اپنی فروزاں نہ کر سکے تاریک زندگی کو درخشاں نہ کر سکے تھے اس قدر جدائی کے لمحات سوگوار کچھ بھی تلافیٔ غم ہجراں نہ کر سکے یورش غموں کی ایسی تھی مجھ پہ کہ الاماں کچھ رازداریٔ غم پنہاں نہ کر سکے تھی اس قدر نوازش پیہم کہ الحفیظ کچھ اہتمام وسعت داماں نہ کر سکے اپنی ہی ...

مزید پڑھیے

تری زلف کے پیچ و خم دیکھتے ہیں

تری زلف کے پیچ و خم دیکھتے ہیں ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں یہ حالت ہوئی ہے جنوں میں ہماری خوشی دیکھتے ہیں نہ غم دیکھتے ہیں بہت دیکھ لی ہے زمانے کی گردش مقدر کا اب زیر و بم دیکھتے ہیں تصور میں ہیں جن کے جلوے تمہارے وہ حسن دو عالم کو کم دیکھتے ہیں جھگڑتے ہیں شیخ و برہمن مگر ...

مزید پڑھیے

نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے

نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے ہمارا کارواں پھر بھی رواں ہے اسی ڈالی پہ اپنا آشیاں ہے تڑپتی جس جگہ برق تپاں ہے ہوئی ہیں کارگر غیروں کی چالیں ترے لب پر نہیں ہے اب نہ ہاں ہے رہے صیاد ہر دم جس چمن میں وہاں غم کی حکایت جاوداں ہے سرور و نغمہ ہیں اب کل کی باتیں یہاں تو اب فقط آہ و فغاں ...

مزید پڑھیے

جوانی مری رنگ لانے لگی ہے

جوانی مری رنگ لانے لگی ہے کلی دل کی اب مسکرانے لگی ہے کسی کی ادا ہم کو بھانے لگی ہے محبت یہ جادو جگانے لگی ہے مرے دل کا خرمن جلانے لگی ہے نظر ان کی بجلی گرانے لگی ہے بشر کی خرد گل کھلانے لگی ہے نئے اب خدا یہ بنانے لگی ہے وہ گزرے ہیں صحن چمن سے خراماں فضا خود بخود گنگنانے لگی ...

مزید پڑھیے

یاد آتی ہے تری یوں مرے غم خانے میں

یاد آتی ہے تری یوں مرے غم خانے میں کھل اٹھے جیسے گلستاں کسی ویرانے میں اپنے دل ہی میں مکیں دیکھا اسے ہم جس کو ڈھونڈتے پھرتے رہے کعبہ و بت خانے میں دل میں تھے شعلہ فشاں حسرت و ارماں شب غم سینکڑوں شمع فروزاں تھیں سیہ خانے میں تھے تری بزم میں سب جام بکف اے ساقی اک ہمیں تشنہ دہن تھے ...

مزید پڑھیے

سمجھتے ہیں جو کمتر ہر کسی کو

سمجھتے ہیں جو کمتر ہر کسی کو وہ سمجھیں تو سہی اپنی کمی کو جہاں میں جز غم و رنج و مصیبت ملا بھی ہے عزیزو کچھ کسی کو کہیں بھی تو کہیں اب کیا کسی سے سنائیں تو سنائیں کیا کسی کو حقیقت میں نہیں بنتے کسی کے بناتے ہیں جو اپنا ہر کسی کو نہ پائے رفتن اب نے جائے معدن کہاں تک روئیں اپنی بے ...

مزید پڑھیے

لڑکپن کی حسیں دل کش ڈگر کا

لڑکپن کی حسیں دل کش ڈگر کا ہمارا پیار تھا پہلی نظر کا سبب وہ شام کا وہ ہی سحر کا بھروسہ کیا کریں ایسی نظر کا سوا میرے دکھے ہیں عیب سب کے بڑا دھوکا رہا میری نظر کا تری بس خوشبوئیں رکھ دیں ہوا پر پتہ لکھا نہیں تیرے نگر کا

مزید پڑھیے
صفحہ 508 سے 4657