اب کسی کو نہیں مرا افسوس
اب کسی کو نہیں مرا افسوس جان کر یہ بہت ہوا افسوس دکھ نہیں یہ جہاں مخالف ہے ساتھ اپنے نہیں خدا افسوس لڑ کے برباد ہو گئے جب ہم ساتھ مل کر کیا گیا افسوس جب بھی خوشیوں نے در پہ دستک دی سامنے آ کھڑا ہوا افسوس ہم فقط جنگ ہی نہیں ہارے حوصلہ بھی بکھر گیا افسوس اک غزل اور ہو گئی ہم ...