شاعری

اسے کہتے ہیں اپنی ذات میں مستور ہو جانا

اسے کہتے ہیں اپنی ذات میں مستور ہو جانا ترے نزدیک آنا اور خود سے دور ہو جانا علاج تشنگی یہ ہے کہ آنسو پی لئے جائیں کسی مے کش کا جیسے بے پیے مخمور ہو جانا ہمارا اختیار بے طلب جبر مشیت ہے وفا کے سلسلے میں فطرتاً مجبور ہو جانا کرشمہ ہے یہ حق گوئی کا ورنہ کیسے ممکن تھا مرے دل کا ...

مزید پڑھیے

میں کیا بتاؤں کہ مقصود جستجو کیا ہے

میں کیا بتاؤں کہ مقصود جستجو کیا ہے مری نگاہ کو صدیوں سے آرزو کیا ہے یہ راز مجھ کو بتایا تری نگاہوں نے جو خامشی ہے تکلم تو گفتگو کیا ہے جو کوئی پوچھے تو میں خود بتا نہیں سکتا مرے شعور میں مفہوم رنگ و بو کیا ہے کسے خبر ہے کہ کب اس نے بولنا سیکھا کوئی بتائے کہ تاریخ گفتگو کیا ...

مزید پڑھیے

وہ بڑے بنتے ہیں اپنے نام سے

وہ بڑے بنتے ہیں اپنے نام سے ہم بڑے بنتے ہے اپنے کام سے وہ کبھی آغاز کر سکتے نہیں خوف لگتا ہے جنہیں انجام سے اک نظر محفل میں دیکھا تھا جسے ہم تو کھوئے ہے اسی میں شام سے دوستی چاہت وفا اس دور میں کام رکھ اے دوست اپنے کام سے جن سے کوئی واسطہ تک ہے نہیں کیوں وہ جلتے ہے ہمارے نام ...

مزید پڑھیے

ہمیں وفاؤں سے رہتے تھے بے یقین بہت

ہمیں وفاؤں سے رہتے تھے بے یقین بہت دل و نگاہ میں آئے تھے مہہ جبین بہت وہ ایک شخص جو دکھنے میں ٹھیک ٹھاک سا تھا بچھڑ رہا تھا تو لگنے لگا حسین بہت تو جا رہا تھا بچھڑ کے تو ہر قدم پہ ترے پھسل رہی تھی مرے پاؤں سے زمین بہت وہ جس میں بچھڑے ہوئے دل لپٹ کے روتے ہیں میں دیکھتا ہوں کسی فلم ...

مزید پڑھیے

تعلق توڑ کر اس کی گلی سے

تعلق توڑ کر اس کی گلی سے کبھی میں جڑ نہ پایہ زندگی سے خدا کا آدمی کو ڈر کہاں اب وہ گھبراتا ہے کیول آدمی سے مری یہ تشنگی شاید بجھے گی کسی میری ہی جیسی تشنگی سے بہت چبھتا ہے یہ میری انا کو تمہارا بات کرنا ہر کسی سے خسارے کو خسارے سے بھروں گا نکالوں گا اجالا تیرگی سے تمہیں اے ...

مزید پڑھیے

حوصلے تھے کبھی بلندی پر

حوصلے تھے کبھی بلندی پر اب فقط بے بسی بلندی پر خاک میں مل گئی انا سب کی چڑھ گئی تھی بڑی بلندی پر پھر زمیں پر بکھر گئی آ کر دھوپ کچھ پل رہی بلندی پر کھل رہی ہے تمام خوشیوں میں اک تمہاری کمی بلندی پر ہم زمیں سے یہی سمجھتے تھے ہے بہت روشنی بلندی پر گر گئی ہیں سماج کی قدریں چڑھ ...

مزید پڑھیے

ترے احساس میں ڈوبا ہوا میں

ترے احساس میں ڈوبا ہوا میں کبھی صحرا کبھی دریا ہوا میں تری نظریں ٹکی تھیں آسماں پر ترے دامن سے تھا لپٹا ہوا میں کھلی آنکھوں سے بھی سویا ہوں اکثر تمہارا راستہ تکتا ہوا میں خدا جانے کے دلدل میں غموں کے کہاں تک جاؤں گا دھنستا ہوا میں بہت پر خار تھی راہ محبت چلا آیا مگر ہنستا ہوا ...

مزید پڑھیے

یہ جو کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے

یہ جو کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے کسی کی زلف لہرائی ہوئی ہے نظر ان کی بھری محفل میں آ کر نہ جانے کس سے شرمائی ہوئی ہے غضب ہے دل کشی حسن و ادا کی جوانی جوش پر آئی ہوئی ہے تمہاری یاد بھی آتی نہیں اب نہ جانے کس کی بہکائی ہوئی ہے ہجوم یاس سے تنگ آ کے رفعتؔ تمنا میری مرجھائی ہوئی ہے

مزید پڑھیے

نظر سے دور رہے یا نظر کے پاس رہے

نظر سے دور رہے یا نظر کے پاس رہے ہمیشہ عشق کے موسم بہت ہی خاص رہے میں تیرے ذکر کی وادی میں سیر کرتا رہوں ہمیشہ لب پہ ترے نام کی مٹھاس رہے یہ اضطراب جنوں کو بہت اکھرتا ہے کہ تم قریب ہو تن پر کوئی لباس رہے وہ رو بہ رو تھے تو آنکھوں سے دور چل نکلے کھلی نہ بوتلیں خالی سبھی گلاس ...

مزید پڑھیے

جنون سر سے اتر گیا ہے

جنون سر سے اتر گیا ہے وجود لیکن بکھر گیا ہے بہت خسارہ ہے عاشقی میں تمام علم و ہنر گیا ہے میں اور ہی شخص ہوں کوئی اب جو شخص پہلے تھا مر گیا ہے بہت کڑا تھا وہ وقت مجھ پر وہ وقت لیکن گزر گیا ہے سراجؔ اک خوش مزاج چہرہ مجھے اداسی سے بھر گیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 507 سے 4657