اسے کہتے ہیں اپنی ذات میں مستور ہو جانا
اسے کہتے ہیں اپنی ذات میں مستور ہو جانا ترے نزدیک آنا اور خود سے دور ہو جانا علاج تشنگی یہ ہے کہ آنسو پی لئے جائیں کسی مے کش کا جیسے بے پیے مخمور ہو جانا ہمارا اختیار بے طلب جبر مشیت ہے وفا کے سلسلے میں فطرتاً مجبور ہو جانا کرشمہ ہے یہ حق گوئی کا ورنہ کیسے ممکن تھا مرے دل کا ...