شاعری

ان دنوں تیز بہت تیز ہے دھارا میرا

ان دنوں تیز بہت تیز ہے دھارا میرا دونوں جانب سے ہی کٹتا ہے کنارا میرا سرد ہو جاتی ہے ہر آگ بالآخر اک دن دیکھیے زندہ ہے کب تک یہ شرارہ میرا نفع در نفع سے بھی کیا کبھی زائل ہوگا روح پر بوجھ بنا ہے جو خسارہ میرا ہے یہ عالم کہ نہیں خود کو میسر میں بھی کیسے اب ہوتا ہے مت پوچھ گزارا ...

مزید پڑھیے

دست بردار ہوا میں بھی طلب گاری سے

دست بردار ہوا میں بھی طلب گاری سے اب کہیں جا کے افاقہ ہوا بیماری سے خاک میں خود کو ملایا تو جڑیں پائی ہیں کیسے روکے گا کوئی مجھ کو نموداری سے ٹوٹ ہی جاتے ہیں اخلاص کے پتلے آخر سو مجھے بچ کے نکلنا ہے اداکاری سے اب بھی کچھ چیزیں ہیں بازار میں جو آئی نہیں اب بھی منکر ہے کوئی میری ...

مزید پڑھیے

حسیں یادوں سے خلوت انجمن ہے

حسیں یادوں سے خلوت انجمن ہے خموشی نغمہ زار صد سخن ہے نگار گل بدن گل پیرہن ہے دھنک رقصاں چمن اندر چمن ہے مری دیوانگی پر ہنسنے والو یہاں فرزانگی دیوانہ پن ہے مبارک رہرو راہ تمنا وطن غربت میں ہے غربت وطن ہے ڈرا سکتے نہیں خونیں اندھیرے نگاہ بے دلاں ظلمت شکن ہے خوشی ارزاں ہے ...

مزید پڑھیے

مسکرانے پہ انہیں کس لئے رسوا کرتے

مسکرانے پہ انہیں کس لئے رسوا کرتے بات ہی کیا تھی کہ جس بات کا چرچا کرتے لکھنا پڑتی جو کبھی ان کے سراپا پہ غزل پہروں تنہائی میں بیٹھے ہوئے سوچا کرتے وہ تو یوں کہیے کہ دیکھا نہیں ان کو ورنہ دیکھ لیتے جو انہیں لوگ تو دیکھا کرتے اب ہمیں اپنی تباہی میں کوئی شک نہ رہا ہم نے خود دیکھ ...

مزید پڑھیے

کہ خود نمائی نہ تشہیر چاہتے ہیں ہم

کہ خود نمائی نہ تشہیر چاہتے ہیں ہم بس اپنے ہونے کی توقیر چاہتے ہیں ہم رہائی کا یہی مفہوم ہے ہمارے لئے پسند کی کوئی زنجیر چاہتے ہیں ہم یہ دیکھنا ہے کہ رفتار کر رہی ہے کیا تمام شہر کو تصویر چاہتے ہیں ہم بہت اداس ہے کوئی پڑوس میں یارو ذرا سی جشن میں تاخیر چاہتے ہیں ہم ذرا سی بات ...

مزید پڑھیے

اس زمین و آسماں پر خاک ڈال

اس زمین و آسماں پر خاک ڈال کچھ نہیں تیرا یہاں پر خاک ڈال نقش ہونے کی تری صورت ہے اور اس وجود بے نشاں پر خاک ڈال ختم سب کچھ ہار سے ہوتا نہیں اٹھ اور احساس زیاں پر خاک ڈال درد جب سمجھے ترا وہ بے زباں آرزوئے ہم زباں پر خاک ڈال اس مکانی قید سے باہر نکل اس زمان و لا زماں پر خاک ...

مزید پڑھیے

جب کوئی عالم شہود نہ تھا

جب کوئی عالم شہود نہ تھا میں بھی اک خواب تھا وجود نہ تھا اپنی تخلیق سے ہوا محدود ورنہ میں جانتا حدود نہ تھا مجھ میں بھی لو تھی آگ تھی پہلے میرا سرمایہ صرف دود نہ تھا جانے اس نے مجھے خریدا کیوں میں زیاں ہی زیاں تھا سود نہ تھا طرز اظہار نے کیا مخصوص خاص اشعار کا ورود نہ تھا اک ...

مزید پڑھیے

ہمارے جیسے ہی لوگوں سے شہر بھر گئے ہیں

ہمارے جیسے ہی لوگوں سے شہر بھر گئے ہیں وہ لوگ جن کی ضرورت تھی سارے مر گئے ہیں گھروں سے وہ بھی صدا دے تو کون نکلے گا ہے دن کا وقت ابھی لوگ کام پر گئے ہیں کہ آ گئے ہیں تری شور و شر کی محفل میں ہم اپنی اپنی خموشی سے کتنا ڈر گئے ہیں انہیں سے سیکھ لیں تہذیب راہ چلنے کی جو راہ دینے کی ...

مزید پڑھیے

یہ راز اس نے چھپایا ہے خوش بیانی سے

یہ راز اس نے چھپایا ہے خوش بیانی سے کہ میرا ذکر بھی غائب ہے اب کہانی سے میں خواہشوں کے نمک کا ہوں ڈھیر مت پوچھو جو میرا خوف ہے جذبوں کے بہتے پانی سے غرور توڑنا میں چاہتا ہوں دریا کا بدل دے تو مری لکنت کو اب روانی سے سخن میں کچھ نہیں اعجاز کی تمنا ہے سو عرض کرنے لگے ہم بھی بے ...

مزید پڑھیے

ترے فراق کے لمحے گزر ہی جائیں گے

ترے فراق کے لمحے گزر ہی جائیں گے کبھی تو زخم مرے دل کے بھر ہی جائیں گے ابھی تو جوش میں ہے ذوق جادہ پیمائی کبھی جو ہوش میں آئے تو گھر ہی جائیں گے تری جدائی کے لمحے عذاب ہیں لیکن ترے بغیر بھی یہ دن گزر ہی جائیں گے خیال تھا کہ نہ آتے تمہاری محفل میں اب آ گئے ہیں تو کچھ بات کر ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 506 سے 4657