ان دنوں تیز بہت تیز ہے دھارا میرا
ان دنوں تیز بہت تیز ہے دھارا میرا دونوں جانب سے ہی کٹتا ہے کنارا میرا سرد ہو جاتی ہے ہر آگ بالآخر اک دن دیکھیے زندہ ہے کب تک یہ شرارہ میرا نفع در نفع سے بھی کیا کبھی زائل ہوگا روح پر بوجھ بنا ہے جو خسارہ میرا ہے یہ عالم کہ نہیں خود کو میسر میں بھی کیسے اب ہوتا ہے مت پوچھ گزارا ...