شاعری

خوشی یاد آئی نہ غم یاد آئے

خوشی یاد آئی نہ غم یاد آئے محبت کے ناز و نعم یاد آئے یہ کیوں دم بہ دم ہچکیاں آ رہی ہیں کیا یاد تم نے کہ ہم یاد آئے گلوں کی روش دیکھ کر گلستاں میں شہیدوں کے نقش قدم یاد آئے بروں کا بہت نام جپتی ہے دنیا جو اچھے زیادہ تھے کم یاد آئے دم نزع جونہی اجل مسکرائی اچانک تمہارے کرم یاد ...

مزید پڑھیے

جن کی آنکھوں میں تھا سرور غزل (ردیف .. ے)

جن کی آنکھوں میں تھا سرور غزل ان غزالوں کی یاد آتی ہے سادگی لا جواب تھی جن کی ان سوالوں کی یاد آتی ہے جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے وجدؔ لطف سخن مبارک ہو با کمالوں کی یاد آتی ہے

مزید پڑھیے

جب وہ مسرور نظر آتا ہے

جب وہ مسرور نظر آتا ہے ہر طرف نور نظر آتا ہے میں تو مے خوار ہوں تو کیوں ساقی نشے میں چور نظر آتا ہے قرب سے ہاتھ اٹھایا میں نے تو بڑی دور نظر آتا ہے میں ہی تنہا نہیں دل کے ہاتھوں تو بھی مجبور نظر آتا ہے خاکساری کو چھپانے کے لئے وجدؔ مغرور نظر آتا ہے

مزید پڑھیے

ہوش و خرد سے بیگانہ بن جا

ہوش و خرد سے بیگانہ بن جا ہر فصل گل میں دیوانہ بن جا آ دل کی بستی آباد کر دے اک شب چراغ ویرانہ بن جا خلوت میں کیا ہے جلوت میں گم ہو زندہ حقیقت افسانہ بن جا بے سوز ہے بزم علم و دانش شمع یقیں کا پروانہ بن جا کتنی پیے گا جام و سبو سے مست نگاہ مستانہ بن جا

مزید پڑھیے

نظر نیچی ہے یار خوش نظر کی

نظر نیچی ہے یار خوش نظر کی کرامت ہے یہ میری چشم تر کی مبارک تجھ کو اے سرو خراماں جوانی دھوپ جیسے دوپہر کی اسی کو لطف آیا زندگی کا جنوں میں زندگی جس نے بسر کی یہاں پرواز کے آداب سیکھو اسیری تربیت ہے بال و پر کی سفر کٹتا ہے اکثر بے خودی میں ادائیں یاد ہیں اک ہم سفر کی خوشا اے سوز ...

مزید پڑھیے

بیابانوں پہ زندانوں پہ ویرانوں پہ کیا گزری

بیابانوں پہ زندانوں پہ ویرانوں پہ کیا گزری جہان ہوش میں آئے تو دیوانوں پہ کیا گزری دکھاؤں تجھ کو منظر کیا گلوں کی پائمالی کا چمن سے پوچھ لے نوخیز ارمانوں پہ کیا گزری بہار آئے تو خود ہی لالہ و نرگس بتا دیں گے خزاں کے دور میں دل کش گلستانوں پہ کیا گزری نشان شمع محفل ہے نہ خاک اہل ...

مزید پڑھیے

ضروری کب ہے کہ ہر کام اختیاری کریں

ضروری کب ہے کہ ہر کام اختیاری کریں اب اپنے آپ کو اتنا نہ خود پہ طاری کریں یہ انجماد بھی ٹوٹے گا دیکھنا اک دن ہم اعتماد سے پہلے تو خود کو جاری کریں کوئی بھی کھیل ہو حیران اب نہیں کرتا نہ جانے کون سے کرتب نئے مداری کریں بلاوا عرش سے آتا ہے گر تو آتا رہے جو خاک زادے ہی ٹھہرے تو ...

مزید پڑھیے

صرف تھوڑی سی ہے انا مجھ میں

صرف تھوڑی سی ہے انا مجھ میں ورنہ باقی ہے بس خلا مجھ میں اندر اندر مجھے یہ کھاتی ہے ایک بھوکی سی ہے بلا مجھ میں ڈھہ رہا ہوں میں اک کھنڈر کی طرح اک بھٹکتی ہے آتما مجھ میں اب ہر اک بات پر میں راضی ہوں جانے یہ کون مر گیا مجھ میں میری آوارگی سے گھبرا کر مڑ گیا میرا راستہ مجھ ...

مزید پڑھیے

جنت سے نکالا نہ جہنم سے نکالا

جنت سے نکالا نہ جہنم سے نکالا اس نے تو مجھے خوشۂ گندم سے نکالا رکھا ہے مجھے آج تلک موج میں اس نے جس لہر کو گرداب و تلاطم سے نکالا یہ بھول ہی بیٹھا تھا زباں رکھتا ہوں میں بھی سو خود کو ترے سحر تکلم سے نکالا اس عادت تاخیر کو اک عمر ہے درکار مشکل سے طبیعت کو تقدم سے نکالا تدبیر کو ...

مزید پڑھیے

خزاں کی آزمائش ہو گیا ہوں

خزاں کی آزمائش ہو گیا ہوں میں اک جنگل کی چاہت میں ہرا ہوں مری کشتی کبھی غرقاب کی تھی ابھی تک میں سمندر سے خفا ہوں پرندے ہو گئے ناراض مجھ سے کہا جب میں بھی اڑنا چاہتا ہوں کوئی وحشت سے بھی ملوائے مجھ کو میں صحرا میں ابھی بالکل نیا ہوں ابھی اک روشنی آئی تھی ملنے سبب کیا ہے کہ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 505 سے 4657