نہیں چلتی کوئی تلوار پانی پر
نہیں چلتی کوئی تلوار پانی پر کہ خالی جاتا ہے ہر وار پانی پر تجھے ملنے کی خاطر شوق سے اے جاں میں چل کر آتا تھا ہر بار پانی پر ہماری رنجشوں نے دل کے آنگن میں بنا رکھی ہے اک دیوار پانی پر مجھے وہ جھیل پر ملنے کو آیا پھر مجھے ہونے لگا دیدار پانی پر گلے ملنے لگیں پرچھائیاں دونوں ملن ...