شاعری

نہیں چلتی کوئی تلوار پانی پر

نہیں چلتی کوئی تلوار پانی پر کہ خالی جاتا ہے ہر وار پانی پر تجھے ملنے کی خاطر شوق سے اے جاں میں چل کر آتا تھا ہر بار پانی پر ہماری رنجشوں نے دل کے آنگن میں بنا رکھی ہے اک دیوار پانی پر مجھے وہ جھیل پر ملنے کو آیا پھر مجھے ہونے لگا دیدار پانی پر گلے ملنے لگیں پرچھائیاں دونوں ملن ...

مزید پڑھیے

لفظ لکھتا ہوں معانی کھول کر

لفظ لکھتا ہوں معانی کھول کر بات میں پوری کہانی کھول کر روح کے چھالے ابھر آتے ہیں پھر دیکھتا ہوں جب جوانی کھول کر ایک کے اندر ہزاروں تھیں رکھی ایک دن دیکھا کہانی کھول کر لگ گیا ہاتھوں میں تب بے رنگ خون میں نے جب دیکھا تھا پانی کھول کر خامشی اپنی بچا لیتا ہوں یوں بولتا ہوں بے ...

مزید پڑھیے

اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا

اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا جلتے ہوئے کھلیان میں اگتی نہیں فصلیں خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے اور ایسی زبوں حالی میں ...

مزید پڑھیے

بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے

بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے رکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں میرے وہ اپنے ہاتھ سے مورت میری بناتا ہے وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے ردائے چرخ میں ٹانکے ہیں ہجر نے تارے یہ سوت صدیوں کی خاموشیوں نے کاتا ...

مزید پڑھیے

خوش جمالوں کی یاد آتی ہے

خوش جمالوں کی یاد آتی ہے بے مثالوں کی یاد آتی ہے باعث رشک مہر و ماہ تھے جو ان ہلالوں کی یاد آتی ہے جن کی آنکھوں میں تھا سرور غزل ان غزالوں کی یاد آتی ہے سادگی لا جواب ہے جن کی ان سوالوں کی یاد آتی ہے

مزید پڑھیے

کیف جو روح پہ طاری ہے تجھے کیا معلوم

کیف جو روح پہ طاری ہے تجھے کیا معلوم عمر آنکھوں میں گزاری ہے تجھے کیا معلوم نگہ اول بیباک نے میرے دل پر تیری تصویر اتاری ہے تجھے کیا معلوم مہر یا قہر ترے چاہنے والے کے لیے ہر ادا جان سے پیاری ہے تجھے کیا معلوم وقت کٹتا ہی نہیں صبح مسرت آ جا رات بیمار پہ بھاری ہے تجھے کیا ...

مزید پڑھیے

شوق کی نکتہ دانیاں نہ گئیں

شوق کی نکتہ دانیاں نہ گئیں رات بیتی کہانیاں نہ گئیں حسن نے دی ہزار بار شکست عشق کی لنترانیاں نہ گئیں نقش بن بن کے رہ گئیں دل میں سرسری نوجوانیاں نہ گئیں چہرۂ زندگی کی رونق ہیں حوصلوں کی نشانیاں نہ گئیں وجدؔ مایوسیوں کے زور میں بھی عزم کی کامرانیاں نہ گئیں

مزید پڑھیے

ظلمت شب ہی سحر ہو جائے گی

ظلمت شب ہی سحر ہو جائے گی شدت غم چارہ گر ہو جائے گی رونے والے یوں مصیبت پر نہ رو زندگی اک درد سر ہو جائے گی بعد تعمیر مکاں زنجیر غم الفت دیوار و در ہو جائے گی لا دلیل عشق و مستی درمیاں ختم بحث خیر و شر ہو جائے گی ذکر اپنا جا بجا اچھا نہیں سب کہانی بے اثر ہو جائے گی صبح راحت کے ...

مزید پڑھیے

شمیم زلف یار آئے نہ آئے

شمیم زلف یار آئے نہ آئے مرے دل کو قرار آئے نہ آئے ابھی آیا ہے ہوش اے یاد جاناں نہ تڑپا بار بار آئے نہ آئے چراغ زندگانی بجھ رہا ہے وہ جان انتظار آئے نہ آئے کیا جو تم نے اپنے دل سے پوچھو ہمارا اعتبار آئے نہ آئے نگاہ اہل گلشن کہہ رہی ہے خزاں جائے بہار آئے نہ آئے بڑھے گا کارواں ...

مزید پڑھیے

ہزار نقص ہیں مجھ میں مرے کمال کو دیکھ

ہزار نقص ہیں مجھ میں مرے کمال کو دیکھ مجھے نہ دیکھ دلآویزی خیال کو دیکھ گدائے حسن ترا خوگر سوال نہیں نگاہ شوق میں رعنائی سوال کو دیکھ نسیم صبح کی اٹکھیلیوں سے برہم ہے چمن میں پھول کے چہرے پہ اشتعال کو دیکھ غبار رند ہے یا خاک ساقی مہوش ادب سے چوم کے ہر ساغر سفال کو دیکھ خیال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 504 سے 4657